اب مارشل لا نہیں آئیگا فیصلے کرنے کا حتمی ادارہ عدالت نہیں صدر پاکستان ہیں کائرہ

پارلیمنٹ سپریم ہے،اسلم بیگ نامناسب بیانات سے گریز کریں، وزارت داخلہ اصغرخان کیس کاجائزہ لے رہی ہے


پارلیمنٹ سپریم ہے،اسلم بیگ نامناسب بیانات سے گریز کریں، وزارت داخلہ اصغرخان کیس کاجائزہ لے رہی ہے. فوٹو: ای پی اے/فائل

لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اس ملک میں حکمرانی کا فیصلہ عدالتوں نے نہیں عوام نے کرنا ہے ۔

سپریم ادارہ صرف پارلیمنٹ ہے، آئین میں تمام اداروں کے اختیارات اور حدود کار کا تعین کر دیا گیا ہے، ہم عوام کو جوابدہ ہیں، پاکستان کے عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ کون حکمران ہو گا، اب کوئی مارشل لاء نہیں آئے گا، اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد نگران حکومت قائم ہو گی اور انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں ہو گی، ذرائع ابلاغ کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، قیاس آرائی پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں اجتماعی شادی کی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جمہوری ریاستیں اپنی تثلیث اختیار کی بناء پر ہی کامیاب ہیں، جس کے مطابق مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں آزاد ہیں اور ہر ادارے کی اپنی اپنی الگ حتمی اتھارٹی ہوتی ہے۔ ان سب کے اوپر صدر مملکت ہیں۔

جن کے نام پر تمام امور انجام دیئے جاتے ہیں اور جو تمام بڑے عہدوں پر تقرری کرتے ہیں، صدر مملکت ملک کی کسی بھی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا میں تخفیف کرنے کیلئے بھی آخری اور حتمی اتھارٹی ہیں، آئین کے مطابق یہ صدر کا صوابدیدی اختیار ہے جس کے بعد کوئی عدالت مزید فیصلہ نہیں کر سکتی، یوں معاملہ صدر مملکت پر ختم ہوتا ہے، سپریم کورٹ پر نہیں، آئین میں تمام اداروں کے اختیارات اور حدود کا تعین کر دیا گیا ہے۔ جنرل (ر) اسلم بیگ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی جنرل اسلم بیگ کے کئے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، اب کوئی مارشل لاء نہیں آ ئیگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ میڈیا محاذ آرائی کا تاثر دے رہا ہے، قیاس آرائی پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے۔

اصغر خان کیس سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ اس سلسلے میں جائزہ لے رہی ہے، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ 90 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے وجود میں آنے والی جعلی حکومت کے اقدامات کی کیا قانونی حیثیت تھی؟ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف اور چیف جسٹس کے بیانات میں کوئی تلخی یا دھمکی نہیں بلکہ دونوں نے آئینی حدود میں کام کرنے کی بات کی ہے جو خوش آئند ہے، کارکردگی یا الزامات کی بنیاد پر حکومت کو چلتا کرنے کے دن گزر گئے، فیصلے کرنیکا حتمی ادارہ عدالت نہیں، صدر پاکستان ہیں،سابق آرمی چیف اسلم بیگ نامناسب بیانات سے گریز کریں۔

قبل ازیںوفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے اجتماعی شادی والے تیس جوڑوں کو سلامی دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی شادیاں ہمارے لیے سبق ہیں اگر معاشرے میں وسائل مسائل زیادہ ہوں اور حکومت کے پاس وسائل کم ہوں تو آپس میں تعاون کر کے اکٹھے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا ضروری ہو تا ہے خوشی کی تقریب مرکزی جامع مسجد غوثیہ انگلینڈ کے اراکین نے منعقد کر کے احسن عمل کیا ہے جس پر وہ اور شادی کی بندھن میں منسلک ہونے والے جوڑے مبارکباد کے مستحق ہیں دعا کرتے ہیں کہ وہ بہتر اور خوشگوار زندگیاں بسر کر یں لڑکیوں کی شادیوں کے لیے علاقہ کے مخیر حضرات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں مقیم گجرات کے افراد نے بھی اخراجات اٹھائے جبکہ ان تیس جوڑوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ مالیت کا جہنز کا سامان بھی دیا گیا۔