کسان کدھر جائے
ایک پچھلے کالم میں ہم نے محکمہ انہار کے اس شان دار کردار کا ذکر کیا ہے
ایک پچھلے کالم میں ہم نے محکمہ انہار کے اس شان دار کردار کا ذکر کیا ہے جو وہ زراعت کی ''ترقی'' کے لیے ایک عرصے سے ادا کر رہا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر دوسرے محکموں سے زراعت کی تباہی میں کچھ کمی رہ گئی ہے تو وہ محکمہ انہار نہایت ہی شان دار طریقے پر پوری کر رہا ہے، لیکن ان تباہیوں یا نقصانات کی تفصیل نہیں بتائی اور اس لیے نہیں بتائی تھی کہ ہمارے پاس اعداد و شمار یا تخمینہ کی کوئی تفصیل نہیں تھی، لیکن خدا بھلا کرے ایک قاری کا جو ''بدقسمتی'' سے زراعت کار ہے اور محکمہ انہار کی مہربانی سے عنقریب یا تو خودکشی کر لے گا اور یا یہ وطن چھوڑ کر جدھر منہ اٹھا بھاگ جائے گا۔
کسی عرب ملک میں اونٹوں کی دیکھ بھال سے کم از کم دو وقت کی روٹی تو نصیب ہو گی جب کہ یہاں قرضے کا اونٹ پالتا تو ہے لیکن بدلے میں کچھ بھی نہیں ملتا بلکہ قرضے کے اونٹ نے تقریباً اسے اپنے خیمے سے باہر پھینکا ہوا ہے۔اس نے جو اپنے اعداد و شمار بتائے ہیں، انھیں ہم بڑی آسانی سے پورے صوبے کے ان زراعت کاروں پر منطبق کر سکتے ہیں جو بدقسمتی سے زراعت کے لیے پانی کے محتاج ہیں۔
اس نے بتایا کہ محکمہ انہار کے نہایت ہی ذہین و فطین ماہرین نے جو ''افسر'' کا تخلص رکھے ہیں شاید بہت سوچ و بچار اور تحقیق و تفتیش کے بعد نہریں بند کرنے کے لیے وقت چنا ہے جو ربیع و خریف کا سنگم ہے چنانچہ ایک طرف اگر گندم، جو اور دوسری فصلوں کا ستیاناس کردیا جاتا ہے تو دوسری طرف خریف کی فصلیں کاشت کرنے کا وقت نکل جاتا ہے۔ محکمہ انہار کے دوسرے ہم کار اور زراعت کی ترقی میں شریک کار کو محکمے زراعت کا کہنا ہے کہ جو فصل دیر سے کاشت ہوتی ہے اس میں کمی ہو جاتی ہے چنانچہ گندم کے لیے کہا گیا ہے کہ اگر یہ پندرہ نومبر کے بعد کاشت کی جاتی ہے تو پیداوار میں روزانہ چالیس کلو گرام کی کمی ہوتی ہے۔ یوں پندرہ نومبر کے بعد اگر دس دن بھی فصل لیٹ ہو جائے تو دس من کی کمی سمجھ لیجیے۔
اس طرح ہر فصل جتنی جتنی پچھیتی ہوتی چلی جاتی ہے، یوں کہیئے کہ کاشت کار نے گندم نہیں بوئی ہے بلکہ کانچ کی چوڑیاں لاد رکھی ہیں او وہ قصہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک شخص چوڑیوں کی گٹھڑی اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے جارہا تھا کہ ایک پولیس کے سپاہی کا سامنا ہوا۔ سپاہی نے اپنا ڈانڈا زور سے اس کی گٹھڑی پر مارتے ہوئے کہا ، کیا ہے اس میں ۔ بے چارے گٹھڑ والے نے کہا ، حضور ایک ڈانڈا اور ماریئے تو کچھ بھی نہیں۔ یہ تو گندم کی بات ہوئی، اب حریف کی فصلوں کو لیتے ہیں جو ٹھیک فروری میں لگائی جاتی ہیں۔
جن میں سب سے بڑی فصل گنے کی ہے اور اس کا بھی یہی ہے کہ اگر بروقت لگائی جائے تو بروقت بڑھوتری پا کر میچور ہو جاتی ہے اور ستمبر اکتوبر میں برداشت کے قابل ہو جاتی ہے لیکن محکمہ انہار نے ٹھیک یہی وقت چنا ہے غالباً مقصود یہ ہے کہ اس گنے کم بخت سے گڑ اور شکر بنتی ہے جن کے استعمال سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، اس لیے گنے کی فصل جتنی زیادہ برباد ہو گی اتنی ہی صحت زندہ باد ہو گی، رہی وہ تمام سبزیاں اور مکئی آلو وغیرہ تو ان کے لیے ایک مہینے کی پیاس یا دیری تقریباً موت کے برابر ہے، اگر کوئی کاشت بھی کرے گا تو فوراً گرمی کا موسم اس پر نازل ہو جاتا ہے۔
اس دل جلے زراعت کار نے صرف اپنا نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت گندم سٹے نکال رہی ہے اور اگر اس موسم میں پانی نہ ملے تو اس کی حالت دیکھنے لائق ہوتی ہے، اس نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آج کل کھیتوں کی طرف جاتا ہی نہیں کیوں کہ پیاس سے بلکتی اور مرجھائی ہوئی گندم کی کھیتی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی اور باقی کی زمین جو میں نے گنے اور سبزی کے لیے تیار کی ہوئی ہے اس کی تپتی ہوئی مٹی میری آنکھوں میں چبھ چبھ کر رلاتی ہے۔
انگلیوں پر حساب لگاتے ہوئے اس نے بتایا کہ گندم کی بوائی پر اس کا فی ایکڑ خرچہ پچیس ہزار ہوا ہے اور مجھے ہر گز یقین نہیں کہ یہ فصل اپنا خرچہ بھی پورا کرے گی کیوں کہ آگے کٹائی اور گہائی کا خرچہ بھی تو ہے، اس کے بعد گنے اور سبزی کا آسرا تھا لیکن جب فصل بروقت کاشت ہی نہ ہو تو خالی کھیت سے تو سوائے مٹی کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اور پھر مجبوری میں پانی آنے پر لیٹ فصل لگاؤں گا تو ضرور کیوں کہ یہی مرا پیشہ ہے کوئی اور کام کر نہیں سکتا اور لیٹ فصلیں یوں ہی شرما شرمی میں بوؤں گا تو ضرور، کم از کم بیج ،کھاد ٹریکٹر وغیرہ کے لیے جو قرضہ اٹھایا ہے اس کے لیے تو کچھ کرنا پڑے گا۔
یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تو بیٹھ نہیں سکتا، کافی دیر تک اداس بیٹھا رہا پھر آنکھوں میں آنے والی نمی کو چھپاتے ہوئے بولا اور باغات کا تو میں نے بتایا ہی نہیں، جن پر آج کل پھول آرہے ہیں، یوں سمجھئے کہ ان کا بھی رام نام ست ہو گیا ہے کیوں کہ اب اگر پانی آ بھی جائے تو پھول آنے کے دوران پانی لگانا مضر ہوتا ہے، باغات کو یا تو پھول آنے سے پہلے ہی آبپاش کرنا چاہیے اور یا پھر جب پھل بن جائے، لیکن پیاسے درختوں کے کیا پھول اور کیا پھل ؟ اس کے بتائے ہوئے حساب پر جب غور کیا تو صرف ایک نتیجہ نکل آیا، گندم اور دوسری فصلوں کی پیداوار آدھی سے بھی کم جس سے صرف لاگت اور قرضے ہی ادا کیے جا سکتے ہیں۔
اپنا پیٹ پالنے کے لیے کاشت کار کو کچھ اور کرنا پڑے گا، شاید بلکہ یقینًا اپنی زمین کو بیچنے کے سوا اس کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہے ہی نہیں، پچھلے دنوں حکومت نے بڑی کثرت سے درخت لگانے کی مہم چلائی، لاکھوں پودے مفت تقسیم ہوئے، لیکن بے چاری حکومت کو پتہ نہیں ہے کہ پودے لگ تو گئے لیکن وہ اگیں گے کیسے جب پانی ہی نہیں ہے، محکمہ آب پاشی کے افسران تو ''ٹھیکیداروں'' کے پالنے پوسنے میں لگے ہوئے ہیں جو ان کے بزنس پارٹنر ہیں ۔
گویا گرین کلین ٹائیں ٹائیں فش، ہاں اس کاشت کار نے جو تھوڑا سا سرکردہ بھی ہے، یہ بھی بتایا کہ ہم محکمہ انہار کے دفاتر میں روز پتہ کرنے جاتے ہیں کہ پانی کب آئے گا لیکن وہاں کوئی ملے تو پوچھیں کیوں کہ افسران ''سائٹ'' پر ہوتے ہیں، ٹیلی فون ملتے نہیں ہیں اور چھوٹے دفتری عملے کو ''پتہ'' نہیں ہوتا، پشاور کینال کے دفتر میں ہم خود بھی کئی بار گئے ہیں لیکن افسران کے دفتر بند ہوتے ہیں اور اسٹول پر بیٹھا ہوا بے چارا صرف یہ جانتا ہے کہ افسران سائٹ پر گئے ہوئے ہیں اور کیوں نہ جائیں ٹھیکیدار کا ''کام'' دیکھنا ہی تو ان کا کام ہے۔
کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے
ہجر میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں
ایسا لگتا ہے جیسے کاشت کار مظلوم ہوں اور محکمہ انہار ...