بنیادی حقوق سے متصادم قانون کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے سپریم کورٹ

43محکمے حیدر آبادمیٹرو پولیٹن کارپوریشن کودینے کا نوٹیفکیشن طلب کرلیاگیا


Numainda Express November 09, 2012
اسلام آباد: رجسٹرار سپریم کورٹ فقیر حسین کھوکھر اصغر خان کیس کے فیصلے کی بریفنگ دے رہے ہیں۔ فوٹو : اے پی پی

سپریم کورٹ نے سندھ بلدیاتی نظام کے قانون کیخلاف دائر آئینی پٹیشن کی سماعت 22نومبر تک ملتوی کر دی ہے اور سندھ حکومت سے 43محکمے حیدر آبادمیٹرو پولیٹن کارپوریشن کو حوالے کرنے کا نوٹیفکیشن طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فل بینچ نے مسلم لیگ فنکشنل کو مقدمے میں فریق بننے کی اجازت دیدی ہے۔مسلم لیگ فنکشنل کے وکیل مجیب پیر زادہ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ بلدیاتی نظام کا قانون این آر اوکی طرح کالا قانون ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اگرکوئی قانون آئین کی شقوں خصو صاًبنیادی حقوق سے متصادم ہو تو عدالت اس کوکالعدم قرار دے سکتی ہے، درخواست گذار مظہر حسین نے کہا کہ حکومت نے محکمے شہری حکومتوں کو منتقل کردیے عدالت حکم امتناع جاری کر ے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو امید ہے کہ حکومت اداروں کی منتقلی سے اجتناب کرے گی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل شفیع چا نڈیو نے کہا کہ قانون کی منظوری اسمبلی نے دی ہے اس لیے عدالت حکم امتناع جاری نہ کرے۔