سب سے بڑا شودر کسان

انسانوں میں ذات پات اور درجات کا نظام ہمیشہ مروج رہا ہے، چاہے ان درجات کے نام کچھ بھی رہے ہوں


Saad Ulllah Jaan Baraq March 09, 2016
[email protected]

انسانوں میں ذات پات اور درجات کا نظام ہمیشہ مروج رہا ہے، چاہے ان درجات کے نام کچھ بھی رہے ہوں لیکن ''کام اور مقام'' وہی ہے جو ہندی روایت کے مطابق ''منو مہاراج'' نے اسے اپنی مشہور کتاب منوسمرتی میں دیا ہے۔ منو مہاراج ہندی اساطیر کے مطابق پہلا انسان یا جد امجد ہے بلکہ صحیح معنوں میں اگر اسے سامی روایت کے مطابق ''نوح'' کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا، سیلاب اور طوفان کی مشہور کہانی چار اقوام میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ موجود ہے۔

قدیم بابلی روایت کے مطابق دیوتاؤں نے انسانوں کے کرتوتوں سے تنگ آکر اسے مٹانے کا فیصلہ کیا لیکن انسان دوست دیوتا ایاہ نے ایک شخص اتنا پشیتوا (Atna Pashitua)کو بتایا کہ وہ ایک کشتی بنائے اور ان میں منتخب انسانوں اور حیوانوں کو رکھے، اس طرح انسانوں، پرندوں اور بیجوں کی قسمیں باقی رہ گئیں، یونانی دیومالا میں زیوس کے نازل کردہ سیلاب سے بچ جانے والے فرد کا نام ڈیوکلین ہے جو پرومتھیس کا بیٹا تھا اوراس کے ساتھ اس کی بیوی ''پرہ'' (Pirra) نامی عورت بھی تھی جو اپی متھیس اور مشہور عورت پنڈورا کی بیٹی تھی، ہند میں منو مہارج کو وشنو دیوتا نے ایک مچھلی کے اوتار میں آکر کشتی بنانے اور بچانے کا کردار ادا کیا ہے، سامی روایات میں اس بچ جانے والے فرد کا نام نوح ہے۔

ایرانی اساطیر میں البتہ سیلاب کے بجائے برف کا طوفان ہے جس سے بچنے کے لیے آہورا مزدا نے یامہ یا جمشید کو بلخ کے ایک مقام پر ایک ''وارہ'' یا قلعہ بنانے کا کہا تھا، مطلب یہ کہ سیلاب اور طوفان کی یہ کہانی ایک حقیقت ہے جو انسانی نسل پر گزرا تھا اور پھر مختلف اقوام اور نسلیں جو کبھی ایک ہوا کرتی تھیں، اس کہانی کو ساتھ لے گئیں اور اپنی اپنی اساطیر کا حصہ بنا لیا، طبیعاتی طور پر بھی یہ سچ ہے کیوں کہ برف کا آخری طوفان بھی تقریباً اس زمانے میں آیا تھا، خیر یہاں ہمارا مقصد منو مہارج کے اس ذات پات کے نظام پر بات کرنا ہے جو تقریباً ہر ملک ہر قوم ہر نسل اور ہر خطے میں ہمیشہ رائج رہا ہے۔

بھلے ہی نام بدل گئے ہوں، مقام بدل گئے ہوں، تفصیلات میں فرق پڑ گیا ہو لیکن انسانوں میں برتری اور کمتری کا نظام آج تک چل رہا ہے اور کوئی اسے مٹا نہیں پایا، منو مہاراج کے مطابق چار ذات ہیں، ایک برھمن جو مذہبی معاملات چلاتے ہیں، کشتری جو حکومت کرتے ہیں، ویش جو کماتے ہیں اور شودر جو خدمت کرتے ہیں، کبھی کبھی یہ طبقے تین بھی ہو جاتے ہیں جسے ابتداء میں برھمن نہیں تھے صرف کشتری، ویش اور شودر تھے لیکن جب انسانوں میں شعور پیدا ہوا اور انسانوں کو صرف تلوار سے محکوم بنانا مشکل ہو گیا تو ان کے ذہن کو قابو میں کرنے کے لیے برھمن اور پروہت بھی شامل کیے گئے۔

کوئی کیسی بھی تشریح اور تعریف کرے بات وہی ہے جو روز ازل سے چلی آرہی ہے کہ مذہب اور تلوار کی ساجھے داری میں حاکمیت چلتی ہے اور ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ باقی کے دو طبقے ویش اور شودر مجبور و محکوم ہو کر کماتے رہیں اور یہ دونوں مفت خور طبقے بغیر کچھ کیے صرف ''باتیں'' بنا کر سب کچھ ہڑپ کرتے رہیں، ویش کا کماؤ طبقہ وشنو بھگوان سے منسوب ہے جو ہندی تری مورتی کا ایک رکن ہے۔ ہندی تری مورتی میں برھما (خالق)، وشنو (پالن ہار) اور شیو (قہار) شامل ہیں چنانچہ زندگی اور انسانوں کا نصیبہ وشنو کے ہاتھ میں ہے، اسی ویشنو کا نام ''ویش'' طبقے کو بھی دیا گیا ۔

جس میں وہ تمام کاشت کار، ہنر مند اور کماؤ لوگ شامل ہیں جن کی محنت سے معاشرہ پلتا ہے، کسانوں کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ اور پیشہ ور بھی شامل کیے جاتے ہیں جیسے تاجر، ہنر مند، معمار وغیرہ ۔ لیکن یہ لوگ اصل میں عارضی یا وقتی وشنو ہوتے ہیں اور ھمہ وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اوپر اٹھ کر حکمران یا کشتری برھمن کے ساتھ شامل ہو جائیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انھی تاجروں، ہنر مندوں اور پیشہ وروں میں سرمایہ دار پیدا ہو جاتے ہیں جو ویش کے زمرے میں نکل کر برھمن اور کشتری طبقے کا حصہ بن جاتے ہیں اور حکمرانی کے پندرہ فیصد طبقے میں رل مل جاتے ہیں۔

یوں کہیے کہ برھمن مذہب کے نام پر مفت کی کھاتا ہے، کشتری تلوار کے زور پر لوٹتا ہے اور یہ ڈانوا ڈول یا عارضی طبقہ سرمائے کے زور پر مفت خوری کرتا ہے لیکن یہ سب مل کر بھی معاشرے کا پندرہ فیصد حصہ ہوتے ہیں جب کہ کھاتے ہیں پچاسی فیصد ۔ ان کی محنت اور کمائی کا پچاسی فیصد یہ پندرہ فیصد طبقہ مختلف حیلوں بہانوں قانون اور ہتھکنڈوں سے چھین لیتا ہے اور اصل کمانے والوں کو صرف پندرہ فیصد نصیب ہوتا ہے، وہ بھی اگر نظام ''اچھا'' ہو ورنہ اکثر تو ان کے پاس اتنا بھی نہیں رہتا کہ دو وقت کی روکھی سوکھی، پھٹے پرانے کپڑے اور سر چھپانے کا آسرا نصیب ہو، ہمارے ملک میں چونکہ حکمرانی اور معاشرے کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے اس لیے ''ویش'' کا یہ کماؤ طبقہ جو کاشت کاروں پر مشتمل ہے سب سے زیادہ محکوم سب سے زیادہ مظلوم سب سے زیادہ مجبور اور استحصال کا شکار ہے۔

بے چارے شودروں کا اس سے بھی برا حال ہے جو مزدوروں نچلے طبقے کے ملازموں اور بے یقین روزگار والا ہے، لیکن ایک عجیب تبدیلی اس نظام میں یہ ہو گئی ہے کہ شودروں کا طبقہ بھی کچھ نہ کچھ وقعت کا مالک ہو چکا ہے کیوں کہ یہ دور زراعت کے بجائے ''صنعت''کی طرف زیادہ مائل ہے، اصل مسئلہ ''ویش'' طبقے کا ہے جسے آہستہ آہستہ مسلسل استحصال اور ناانصافی کے باعث شودر بنایا جارہا ہے خاص طور پر پاکستان میں تو انسان انگشت بدندان رہ جاتا ہے کہ جو لوگ انسانوں، حیوانوں، چرند پرند، حشرات سب کا پیٹ بھرتے ہیں، خود اس کا پیٹ خالی ہے، اس کی محنت اور ہنر کو چاروں طرف سے محصور کر کے کچھ ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ اس کی حالت پرانے ہندی نظام کے شودر سے بھی زیادہ بری ہو گئی ہے۔

پاکستانی معاشرے کا یہ واحد فرد ہے جس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، ایسا لگتا ہے جیسے مسلسل محنت نے اس کے ہاتھ کی لکیریں ہی مٹا ڈالی ہوں، ایک مزدور ایک لوہار ایک معمار حجام حتیٰ کہ پالش کرنے والا بھی اپنا معاوضہ مہنگائی کے مطابق بڑھا سکتا ہے لیکن کسان واحد فرد ہے جو اگر خریدتا ہے، بیچنے والے کی مرضی پر خریدتا ہے لیکن جب خون پسینہ ایک کر کے بیچتا ہے تو اختیار الٹ کر خریدنے والے کے پاس چلا جاتا ہے، دوسرا ہر کوئی یہ اختیار رکھتا ہے کہ اس پر اتنا خرچہ آیا ہے اس لیے اتنے میں بیچوں گا لیکن کسان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی فصل پر آنے والی لاگت کا ذکر تک کرے۔