پولیس میں اکھاڑ پچھاڑ آئی جی نے 48 ڈی ایس پیزمعطل کردیئے

اے ڈی خواجہ نے ڈی ایس پیز کو بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات پر معطل کیا، ذرائع


Staff Reporter March 14, 2016
اے ڈی خواجہ نے ڈی ایس پیز کو بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات پر معطل کیا، ذرائع۔ فوٹو: فائل

آئی جی سندھ اﷲ دتہ خواجہ ( اے ڈی خواجہ ) نے اپنے پہلے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے48 ڈی ایس پیز کو معطل کر دیا دوسرے حکم نامے میں افسران کی اکھاڑ پچھاڑ کی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے دو روز قبل سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کی ان کے عہدے سے برطرفی کے بعد ان کی جگہ آئی جی سندھ کا چارج سنبھالنے والے اے ڈی خواجہ نے اپنے سب سے پہلے حکم نامے میں سابق آئی جی کے مدت ملازمت میں ترقی پانے والے اور پوسٹنگ حاصل کرنے والے48 ڈی ایس پیز کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے، ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ڈی ایس پیز پر مبینہ طور پر کرپشن کے الزام ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی جی سندھ نے یہ حکم مذکورہ پولیس افسران کی تعیناتی میں کی جانے والی بے ضابطگیوں کی رپورٹ پر کیا ہے جبکہ تعیناتی میں ہونیوالی کرپشن کے حوالے سے بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے افسران کی تعیناتی میں قوائد و زوابطہ کے برخلاف مبینہ طور پر بھاری رشوت اور اقرا باپروری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے من پسند افسران کو مذکورہ عہدوں پر تعینات کیا تھا جبکہ مذکورہ عہدوں پر اہل افسران کو یکسر نذر انداز کر دیا گیا تھا ، جبکہ آئی جی سندھ نے اپنے دوسرے حکم نامے میں ایڈیشنل آئی جی ایڈمن، فائنانس اور لاجسٹک کے عہدوں پر نئی تقرریوں کے احکامات جاری کر دیے۔

پو لیس ترجمان کی جا نب سے جا ری اعلامیے کے مطابق عدیل حسین چانڈیو کو ایڈیشنل آئی جی ایڈمن کرا چی تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ فدا حسین شا ہ کا تبادلہ کر کے سی پی او رپورٹ کر نے کی ہدایت کی گئی ہے، قمر رضا جسکانی کو ایڈیشنل آئی جی لاجسٹک تعینات کر کے فیصل بشیر میمن کو سی پی او رپورٹ کر نے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ نعیم احمد شیخ کو ایڈیشنل آئی جی فائنانس کا عا رضی چارج دیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں مذید پولیس افسران کے تبادلے کیے جانے کا امکان ہے۔