جب سب الٹا ہے تو دن اور رات
رشوت سے زیادہ اور کون سا پھل زیادہ استعمال ہوتا ہے، انسانی خون سے زیادہ کون سا مشروب پیا جاتا ہے
ناظرین کرام و سامعین عظام ! آپ کو مژدہ ہو کہ آپ کے اپنے چینل ''ہیاں سے ہواں تک''نے ایک ایسی بریکنگ نیوز ڈھونڈ نکالی ہے کہ جسے سن کر دنیاکے تمام چینل اینکر بدندان اور ٹاک شوز سربگریباں ہو جائیں گے، صرف بریکنگ نیوز ہی نہیں بلکہ اس بریکنگ نیوز پر جو ہنگامی ٹاک شو چونچ بہ چونچ لانچ کیا جارہا ہے، اس پر تو دوسرے چینلوں کی ماں ہی مرجائے گی، پہلے بریکنگ نیوز سنیے اور سر دھنئے، مملکت اللہ داد ناپرسان نے رمضان کا نیا مینو کارڈ جاری کر دیا ہے۔
دراصل ایک عرصے سے مملکت اللہ داد ناپرسان میں یہ گھمبیر مسئلہ اٹھا ہوا تھا کہ جب انسان اپنے پیروں سے ہوائی جہاز، ٹی وی، موبائل اور ستاروں سیاروں تک پہنچ گیا ہے تو آخر رمضان میں ابھی تک وہ پرانا مینو کارڈ کیوں چل رہا ہے، کیوں کہ آج کل ایسی بہت ساری چیزیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو ہیں تو کھانے پینے کی لیکن منہ اور شکم تک نہیں بلکہ جیب الماری اور بینک تک پہنچتی ہیں مثلاً مال حرام سے زیادہ اور کون سی چیز زیادہ کھائی جاتی ہے۔
رشوت سے زیادہ اور کون سا پھل زیادہ استعمال ہوتا ہے، انسانی خون سے زیادہ کون سا مشروب پیا جاتا ہے اور انسانی گوشت سے زیادہ اور کون سا گوشت سستا ہے لیکن کھانے پینے کی ہونے کے باوجود یہ نہ تو پیٹ میں جاتی ہیں نہ منہ میں رکھی جاتی ہیں اور نہ ہی گلے سے نگلی جاتی ہیں حتیٰ سڑکیں، عمارتیں، ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز اور زمینیں تک کھائی پی جاتی ہیں لیکن ان سے نہ پیٹ بھرتا ہے نہ نیت، اگر بھرتے ہیں تو بینک تجوریاں اور جیبیں ۔ تو ان چیزوں سے روزہ کیسے ٹوٹ سکتا ہے، حکومت نے عوام کے پرزور اصرار، لیڈروں کی خواہش اور افسروں اور تاجروں کی درخواست پر ایک '' کونسل'' قائم کر دی ہے جو مملکت کے چنے ہوئے جہلائے کرام پر مبنی تھی کیوں کہ مملکت کے قانون الٹ پلٹ کے مطابق قوانین بنانا ''جہلا و حمقا'' کا کام ہے کونسل کے اراکین نے گیارہ سال گیاہ مہینے گیارہ دن اور گیارہ گھنٹے غور کے حوض میں ریکارڈ ساز تیراکی کے بعد رمضان کے لیے نیا پیکیج جاری کر دیا جو فوری طور پر نافذ عمل بھی ہو گیا۔
یہ بریکنگ نیوز بھی چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' نے دی ہے اور اب اس پر اپنا بدنام عالم اور رسوئے زمانہ ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' بھی لانچ کر رہا ہے، اس غرض کے لیے ہم نے مملکت اللہ داد کے وزیر جہالت اور لاقانونیت جناب آگاہ خان بے خبر کو بلوایا ہے جنہوں نے حماقت اور جہالت کے مضامین میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے اور تقریباً ناپرسان کی پیدائش ہی سے اسے بطور وزیر لاحق ہیں۔
موصوف نہ صرف مذکورہ مضامین میں ٹاپ پوزیشن رکھتے ہیں بلکہ ناپرسان میں سب سے ناپسندیدہ جرم ''عقل''سے بھی عاری ہیں کیوں کہ موصوف کا دایاں گھٹنا ایک ایکسیڈنٹ میں چور چور ہو گیا تھا اور اب اس کی جگہ پلاسٹک کا گھٹنا گھسیٹ رہے ہیں اور یہ تو آپ کو پہلے ہی سے پتہ ہے کہ مملکت ناپرسان کے لوگ اپنی عقل گھٹنوں میں رکھا کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہماری جو اپنی دو چونچیں ہیں ان کو تو ایک دنیا جانتی ہے یعنی چونچ نمبر ون علامہ بریانی عرف برڈ فلو اور چونچ نمبر دو چشم گل چشم عرف ڈینگی بخار
اینکر : ہاں تو جناب آگاہ خان بے خبر آپ کیسے ہیں؟
بے خبر : کم از کم کھڑے پانی سے تو اچھا ہوں۔
اینکر : یہ ہم کیا سن رہے ہیں۔
بے خبر : مجھے کیا پتہ کہ آپ کیا سن رہے ہیں، ویسے میں تو آجکل انڈین آئٹم سانگ سنتا ہوں، آپ بھی سنا کیجیے ،کیا عارفانہ اور روشن ضمیرانہ چیز ہے۔
اینکر : نہیں میں تو ناپرسان کے نئے رمضان پیکیج...
بے خبر : بریک بریک بریک پہلے تو ہماری مملکت کا پورا نام لے لیجیے،عوامی سونامی ، ریحامی جمہوریہ اللہ داد ناپرسان خان۔
اینکر :سوری میں اتنا زیادہ مشقت نہیں کر سکتا صرف ناپرسان ہی کہوں گا ۔
بے خبر : ٹھیک ہے،چلو آگے بڑھو۔
اینکر : وہی رمضان پیکیج۔
بے خبر :ہاں یہ ایک بڑا ہی لمبا چوڑا موٹا تازہ اور وزن دار مسئلہ تھا جو مملکت کے ساتھ ہی جڑواں پیدا ہوا تھا۔
اینکر : مگر ہم نے تو سنا ہے کہ مملکت ناپرسان کے ساتھ اور بھی بہت سارے جڑواں مسئلے پیدا ہوئے تھے۔
بے خبر :ہاں تقریباً ایک ہزار ایک سو ایک جڑواں مسئلے اور بھی تھے جو ٹھیک اسی دن اور اسی وقت پیدا ہوئے تھے جب مملکت اللہ داد ناپرسان نے اپنی اکلوتی آنکھ کھولی تھی۔
علامہ : ارے یک چشم ناہنجار، تمہارا تو ایک جڑواں یک چشم بھائی بھی تھا ،کیوں تم کہیں کسی میلے میں بچھڑ گئے تھے کیا؟
چشم :مگر میری آنکھ تو کھلنے کے بعد ... ابھی چند سال ہوئے ۔
علامہ : ہے تو اکلوتی ہی نا۔
چشم : اکلوتی ہے میری آنکھ لیکن تمہاری بھینگی آنکھوں کی طرح کہیں پہ نگاہیں کہیں پر نشانہ تو نہیں ہیں، سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہوں۔
اینکر : چپ رہ، آگاہ بے خبر صاحب وہ جو دوسرے مسئلے تھے، ایک ہزار ایک سو ایک وہ کیا ہوئے؟
اینکر : وہ اولادیں کیا کرتی ہیں؟
بے خبر : وہی خاندانی پیشہ مسئلے پیدا کرنا، ان کے نیچے چوزے رکھنا اور مسئلہ فارم کو ترقی دینا۔
اینکر : وہ کیسے؟
بے خبر : وہ تمام کے تمام وزیر ہیں یا لیڈر ہیں یا ممتاز رہنماء اور منتخب نمایندے ۔ اور مسئلے پیدا کرنے کی انڈسٹری چلاتے ہیں۔
اینکر : رمضان پیکیج کے بارے میں بتایئے۔
بے خبر : بتا تو دیا ہے کہ آج کل کی تمام کھائی جانے والی چیزیں جو حلق سے گزر کر پیٹ تک نہیں پہنچتیں، کھائی جا سکتی ہیں ان سے روزے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
علامہ : یہ تو بڑی غلط بات ہے، روزوں میں تو انسان اپنے رب کے سامنے یہ ثابت کرتا ہے کہ تیرے حکم پر اگر میں حلال چیزیں چھوڑ سکتا ہوں تو حرام تو چھوڑوں گا ہی چھوڑوں گا۔
چشم : اور تم جو روزوں میں ہر تعویذ کے ساتھ قسمیں کھاتے ہو، اس سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں۔
اینکر : وہ کون سا؟
بے خبر : وہ یہ کہ کیوں نہ دن کے بجائے روزے رات کو رکھے جائیں، رات ویسے بھی عبادتوں کے لیے بنی ہے اور پھر جب لوگوں نے سونے کا کام دن کو شروع کر دیا ہے تو کیوں نہ دن کو رات اور رات کو دن قرار دے کر ثواب دارین حاصل کریں۔
علامہ : بہت غلط بات ہے۔
بے خبر :آپ کے لیے تو غلط ہو گی لیکن جب ناپرسان میں سب کچھ الٹا ہے تو دن رات کو کیوں نہ الٹا کیا جائے
چشم : اچھا تو یہ محکمہ بجلی اور محکمہ لوڈ شیڈنگ اس لیے الگ الگ کر دیے ہیں کہ تو نے کاجل لگایا تو دن سے رات ہو گئی۔