پرائیوٹ اداروں کو کام کرنے دیا جائےچیئر مین سی آر پی سی

پارلیمنٹ کراچی میں بجلی کے غیر قانونی کنکشن کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کرے۔


Staff Reporter November 10, 2012
سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی نے کے ای ایس سی انتظامیہ کے سینئرافسران کوکیوںنہیں سنا. فوٹو: عیسیٰ ملک

کنزیو مر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستان(سی آر پی سی )کے چیئرمین شکیل احمد بیگ نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹوکوگرفتار کرنے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائیویٹ اداروں کو کام کرنے دیا جائے۔

حکومت خود یہ خواہش رکھتی ہے کہ ادارے کام کریں اور مستحکم ہوں پھر اس طرح کے بیانات نہ صرف پرائیویٹ اداروںکوغیرمستحکم کریں گے بلکہ سرمایہ کاری پراثرانداز بھی ہوں گے،پارلیمنٹ کراچی جیسے شہر میں بجلی کے غیر قانونی کنکشن کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کرے جس سے عام آدمی براہِ راست متاثر ہو رہا ہے،انھوں نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے روبرو کے ای ایس سی انتظامیہ کے سینئر افسران موجود تھے انھیں کیوں نہیں سنا گیا اگر کے ای ایس سی انتظامیہ سرے سے ہی موجود نہ ہوتی تو سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کی برہمی درست ہوتی ۔

انھوں نے کہا کہ کسی فردِ واحد کی اہمیت ہے یا ادارے کی ؟ چیئرمین سی آر پی سی نے سوال کیا کہ سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی یا پارلیمان اس طرح کراچی کے دیگر مسائل حل کرنے پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟کراچی کا امن غارت ہے، روزانہ ایک درجن سے زائد افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں،روزگار تباہ ہوگیا ہے،مافیاز کا راج ہے،صارف ہر سطح پر پریشان ہے ایسی صورت حال میں پارلیمان کیوں خاموش ہے؟کیوں کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں؟