سائنسدانوں کا ڈائنوسرکی دیوقامت جسامت کے پیچھے چھپا رازجاننے کا دعویٰ

اس قدیم اور خونخوار جانور کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے غلبے کی وجہ ان کے کان اور دماغ تھے، ماہرین


ویب ڈیسک March 16, 2016
اس قدیم اور خونخوار جانور کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے غلبے کی وجہ ان کے کان اور دماغ تھے، ماہرین، فوٹو؛ فائل

MULTAN: ڈائنوسار کا دیو ہیکل جسم ہمیشہ سے سائنس دانوں کے لیے معمہ رہا ہے اور وہ اس کے پیچھے چھپا راز جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں اوراب ایک نئی تحقیق میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹی ریکس سے تعلق رکھنے والے گوشت کھانے والے ڈائنو سار کی قسم ٹائرانوسار میں ایسے شواہد کا پتہ چلا یا ہے جس سے پتہ چل سکے گا کہ ڈائنو سار کا اتنا بڑا جسم کس وجہ سے حیرت انگیز حد تک بڑھا ہوا تھا۔

اس نئی تحقیق کے لیے اسکاٹ لینڈ کی ایڈنبرا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے امریکی اور روسی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر ازبکستان میں اس جانور کے باقیات دریافت کیے اور اس نئی نسل کو انہوں نے ٹیمور لنجیا کا نام دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 9 کروڑ سال قدیم اس خونخوار اور دیو ہیکل جانور کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ٹائرانوسار کے غلبے کی وجہ ان کے کان اور دماغ تھے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ڈائنوسار کی ایک یکسر مختلف نسل ہے اور یہ ٹی ریکس کی سب سے قریبی نسل میں سے ہے تاہم ان کا سائز ان کی نسبت چھوٹا یعنی درازقد گھوڑے کے قد کے برابرہے جب کہ اس کا زمانہ کریٹیشس عہد کے وسط کا زمانہ ہے اور اس کے بارے میں فوسلز کی تاریخ میں بہت کم معلومات موجود ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس نسل کے اور ٹی ریکس کے عہد کے درمیان جو فاصلہ اور معلومات میں کمی ہے وہ سخت پریشان کن ہے کیونکہ آخر سر سے دم تک 13 میٹر لمبا یہ جاندار اتنا قدآور کیسے ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ہڈیوں کی خصوصیات ٹی ریکس سے مماثل ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ نشوونما کی خصوصیات ہیں جو بالآخر ٹی ریکس کو جانداروں کے خوراک کے سلسلے میں سب سے اوپر اور غالب بنا دیتا ہے۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے ٹیمورلنجیا کے ڈھانچے کے تقریبا 25 حصوں کا مطالعہ کیا اور انہیں ایک ساتھ جوڑ کر اس کی شکل اور جسامت کا اندازہ لگایا ہے جس کے بعد سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں سی ٹی اسکین سے پتہ چلا ہے کہ ڈائنو سر کے دماغ اور کان ٹی ریکس سے بہت مماثل تھے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے تمام حواس، تمام ذہانت اور ٹی ریکس کے تمام اہم حواس وہیں تھے اور شاید اسی کی وجہ سے ٹی ریکس اس قدر بلند قامت بن گيا۔