ہڈیاں ٹوٹنے کے35 فیصد کیسز کم عمر بچوں کے ہوتے ہیں ماہرین طب

ٹوٹی ہڈی پرآدھی پٹی باندھنے سے ہاتھ اورپیرمیںخون کی فراہمی رک جاتی ہے اوروہ اکڑ جاتے ہیں


Staff Reporter March 20, 2016
کھیل کے دوران ہڈیاں ٹوٹنے کی صورت میں بچوں کابروقت اورمستندمعالج سے علاج کرواناچاہیے فوٹو؛ فائل

ہڈیوں کے ٹوٹنے کے 35 فیصد کیسزکم عمربچوں کے ہوتے ہیں،ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو فوری طور پر مستند معالجین سے علاج نہ کروانے کی صورت میں عمر بڑھنے کے ساتھ بچوں کے بازواورٹانگیں ٹیڑھی رہ جاتی ہیں۔

بازویا ٹانگ پر کس کرآدھی پٹی باندھنے کی صورت میں آگے ہاتھ یا پیرکو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جس سے اس کے ضایع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے،ان خیالات کا اظہارطبی ماہرین نے بچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن پر جناح اسپتال میں منعقد ہونے والی چارروزہ تیسری عالمی پیڈز آرتھوپیڈی کون 2016 کے دوسرے روز سیشنز سے خطاب میں کیا، سیشن سے پروفیسر محمدامین چنائے، پروفیسرایوب لغاری، بھارت کے پروفیسر بینجمن جوزف، پروفیسر تارل ناگڑا (وڈیولنک کے ذریعے)، پروفیسر محمد عمر، ڈاکٹر سعید منہاس،امریکا کے پروفیسر جوز مرکونڈے، ڈاکٹر شمائلہ عروج، ڈاکٹر مسعود عمر، متحدہ عرب امارات کے پروفیسر زید العبیدی، پروفیسر نسیم صلاح الدین، پروفیسر غلام محبوب نے خطاب کیا۔

ماہرین نے کہاکہ جن بچوںکی کھیل کودیا گرنے کے باعث بازو اور پاؤں کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں، اگر ان کا بروقت مستند معالج سے علاج نہ کرایا جائے تو بیماری بعد میں بگڑ جاتی ہے،ایسے ٹوٹے بازو اورپیر پر آدھی پٹی باندھنے کے باعث ہاتھ اور پیر میں خون کی فراہمی رک جاتی ہے جس سے وہ کالے پڑ کر اکڑ جاتے ہیں، بعض صورتوں میں یہ کاٹنے بھی پڑ سکتے ہیں، کانفرنس میں کولہے کے گولے کا خود بخودگل جانا، گولے کا سلپ ہو جانا، ہڈیوں کے کینسر، جوڑوں اور ہڈیوں کے انفیکشنز کے موضوعات پربھی مقالے پڑھے گئے۔