فوج کیخلاف سازش ہورہی ہے ادارے کشیدگی نہ بڑھائیں مشرف

مردہ ایشوز سے معاملا ت اور خرابی کی طرف جائینگے، سپریم کورٹ کے اوپر تو بس اللہ ہی ہے.


Monitoring Desk November 11, 2012
جلد سیاست میںکردار ادا کرونگا، پارٹی اچارڈالنے کیلیے نہیں بنائی،’’ٹودی پوائنٹ‘‘ میں گفتگو فوٹو: فائل

سابق صدر پرویزمشرف نے کہاہے کہ میں تمام اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپس میں کشیدگی نہ بڑھائیں اور پاکستان کے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کریں ۔

سپریم کورٹ کے اوپر تو بس اللہ تعالیٰ ہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چلنا چاہئے اس میں کوئی ابہام نہیں لیکن اب بس کردینی چاہئے۔ فوج کے خلاف سازش کی جارہی ہے، جب فوج کمزور ہوتی ہے تو ملک کمزور ہوتا ہے اس معاملے کو مزید نہیںکریدنا چاہئے۔ ہمیں پرانے ایشوز پر ڈسکس کرنے کے بجائے ملک کو آگے لے کر چلنا ہے ہمیں پاکستان کو بچانا ہے ۔اگر کوئی پندرہ سال پرانی بات کریگا تو دوسرا اس سے بھی پرانی بات کرے گا۔ میں سوفی صد پاکستان آکر پاکستان کی سیاست میں اپنا کردار ادا کروں گا، میں نے پارٹی اچارڈالنے کے لئے نہیں بنائی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''ٹو دی پوائنٹ'' میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں کیا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے کہاکہ مجھے بہت افسوس ہے کہ ملک کے دو اہم اداروں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان اس وقت مسائل میں گھر اہوا ہے ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہئے مردہ ایشوز کو ڈسکس کرنے سے معاملا ت اور خرابی کی طرف جائیںگے ۔پاکستان کی ہسٹری ایسی ہے کہ ہم پرانی باتوںمیں الجھے رہے اور ملک وقوم کا نقصان ہوا اگر پرانی باتوں پر ہی لڑنا ہے تو پھر پاکستان کا سب سے بڑا نقصان بنگلہ دیش کا بننا تھا۔ حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کو سامنے لایا جائے پھر ایوب خان کے مارشل لاء پربات کی جائے پھر اس سے بھی پیچھے لیاقت علی خان کے قتل پر بات کی جائے تو ہم کہاں تک پیچھے کو بھاگتے رہیں گے ؟۔ انہوں نے کہا کہمیں جھوٹ بولنے کا عادی نہیں ہوں، میرے خلاف جو بھی سیاسی مقدمات بنے ان میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو میرے اقتدار کے دنوں میں میرے ساتھی تھے اور مجھے ان کی سوچ پر دکھ ہے اور میںسیاسی مقدمات کا سامنا کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ تین نومبر کی ایمرجنسی میں نے اکیلے نے نہیں لگائی، یہ فیصلہ سب سے مشورہ کرکے کیاتھا ۔انتخابات قریب آرہے ہیں ایسے نازک وقت میں آپس میں الجھائو ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسلم بیگ اپنے طور پر ہی فلسفہ جھاڑتے پھرتے ہیں، ایک ماحول تھا جس میں آئی ایس آئی اور فوج کا حکومت میں کردار رہا ہے اوراسوقت کے صدر اور وزیراعظم بھی اس کا حصہ رہے لیکن جو ہوا وہ خراب ہوا اب اس سلسلے کو روک لیں اس سے کیا نکلے گا۔پانچ سالہ حکومت میں آرمی چیف کے کردار پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ۔ایم ایم اے ہم نے نہیں بنوائی جو یہ کہتا ہے بکواس کرتا ہے ۔2002 کے الیکشن شفاف اور منصفانہ تھے اگر دھاندلی ہوئی تھی تو یہ کیسی دھاندلی تھی کہ جو ہمارے حمائیتی تھے وہ ہارے اور ایم ایم اے جیت گئی ۔مسنگ پرسنز کے معاملے میں فوج کو خوامخواہ ہی ملوث کیا جارہا ہے، فوج کے پاس کوئی ڈیتھ اسکواڈ نہیں ہے