پیٹ کے کیڑے کبھی ختم نہیں ہوتے

یعنی ’’جادۂ راہِ فنا‘‘ سےتوہرکسی کوگزرنا ہی ہوتا ہےلیکن یہ فنا… فنا نہیں بلکہ عالم کے اجزائے پریشان کی شیرازہ بندی ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq March 28, 2016
[email protected]

سٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی چیز مکمل طور پر فنا نہیں ہوتی حتیٰ کہ بلیک ہولز میں گرنے والی چیز بھی کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے گی اور غالب نے کہا ہے کہ

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشان کا

یعنی ''جادۂ راہِ فنا'' سے تو ہر کسی کو گزرنا ہی ہوتا ہے لیکن یہ فنا ... فنا نہیں بلکہ عالم کے اجزائے پریشان کی شیرازہ بندی ہے... یہ کائنات بھی پھیلتی ہے سکڑتی ہے، سکڑتی ہے پھیلتی ہے لیکن سب کچھ وہی ہوتا ہے شکل نام یا مقام بدل جاتا ہے، اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ہم کوئی سائنسی فلسفیانہ دانشورانہ یا ''اینکرانہ'' موضوع چھیڑنے والے ہیں تو ڈریئے مت، ہم نہ دانشور ہیں نہ تجزیہ نگار اور نہ اینکر، وہ تو یونہی ذرا اپنی علم کی دھاک بٹھانے کے لیے مانگے تانگے کی باتوں کو چھیڑنا پڑتا ورنہ من آنم کہ من دانم ... ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں کہ ایک سیر آٹے کی کتنی روٹیاں بنتی ہیں اور لوگ گندم وغیرہ کا کھڑاگ پال کر اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں، سیدھے سیدھے آٹا یا روٹی یا ڈبل روٹی کیوں نہیں اگاتے، بات ہم صرف اتنی کرنا چاہتے ہیں کہ اس طرح پیٹ کے کیڑے بھی کبھی ختم نہیں ہوتے چاہے۔

وہ انسان کے پیٹ میں ہوں یا کسی ملک کے شکم میں پرورش پا رہے ہوں، اگر آپ ابھی سمجھ نہیں پا رہے ہوں تو خدا ہی آپ سے سمجھے بشرطیکہ ''پیٹ کے کیڑوں'' سے خدا کے لیے کچھ بچ پائیے، پیٹ کے کیڑوں پر بھی کائنات کا وہی اصول لاگو ہوتا ہے جو ہم نے ابتدا میں عرض کیا تھا یعنی کوئی چیز کبھی ختم نہیں ہوتی صرف شکل بدل لیتی ہے، سنڈیوں کو آپ نے دیکھا ہو گا خاص طور پر امریکن سنڈیوں کو تو ایسا پاکستانی بہت کم ملے گا ۔

جس نے امریکن سنڈیوں کے بارے پڑھا یا سنا نہ ہو، یہ سنڈیاں پودے مثلاً کپاس یا پاکستان کا رس چوس چوس کر خوب موٹی تازی ہو جاتی ہیں پھر اچانک غائب ہو جاتی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ختم ہو گئیں ... لیکن اصل میں یہ رنگ روپ بدل کر ''تتلیاں'' بن جاتی ہیں ہم بڑے خوش ہوتے ہیں اور ان کو دیکھ دیکھ کر تالیاں بجاتے ہیں جیسا کہ بچے جگنو کو دیکھ کر بجاتے ہیں

جگنو میاں کی دم جو چمکتی ہے رات کو
سب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں

اسی طرح خوش نما تتلیوں کو دیکھ کر بھی ہم خوش ہوتے ہیں کچھ لوگ تو ان کو پکڑ پکڑ کر کاغذ یا کپڑے پر چپکا کر ذخیرہ بھی کر لیتے ہیں، حالانکہ یہ کچھ اور نہیں بلکہ ''سنڈیاں'' ہی ہوتی ہیں جس رنگ کی سنڈی ہو اس رنگ کی تتلی بن جاتی ہے سب سے زیادہ خوب صورت اور کئی رنگوں میں مشتمل تتلی دراصل کھجلی کی وہ بال دار سنڈی ہوتی ہے جسے دیکھ کر ہی انسان کھجلی میں مبتلا ہو جاتا ہے، ویسے اگر آپ چاہیں تو اسے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں خاص طور پر رنگوں اور کھجلی اور ''فصل خوری'' کی بنیاد پر کیونکہ ایک سنڈی شناس اور تتلی شناس ماہر نے ہمیں بتایا ہے کہ پاکستان میں جتنی اقسام اور رنگوں کی سنڈیاں پائی جاتی ہیں اتفاق سے اتنی ہی سیاسی پارٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

تتلیوں کی عمر جب پوری ہو جاتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ تتلیاں سردی کی وجہ سے مرکھپ گئی ہیں لیکن یہ بھی ایک دھوکا اور غلط فہمی ہے کیونکہ مرنے سے پہلے وہ اپنا ''فرض'' پورا کر چکی ہوتی ہیں اپنے اپنے خاص مقامات پر انڈے دے چکی ہوتی ہیں جو بہار یا الیکشن کی گرمی سے نئے بچے نکال لیتی ہیں اگر آپ چاہیں تو اس عمل کے لیے ایک شعر بھی گنگنا سکتے ہیں کہ

جہاں میں ''سنڈیاں'' بھی صورت خورشید جیتی ہیں
ادھر نکلیں ادھر ڈوبیں، ادھر ڈوبیں ادھر نکلیں

یہی سلسلہ پیٹ کے کیڑوں کا بھی ہے چاہے وہ انسان کا پیٹ ہو کسی گائے بھینس کا شکم ہو یا کسی ملک کا پیٹ ... ان کیڑوں میں سب سے خطرناک کیڑے وہ ہوتے ہیں جو بچے میں ماں کے پیٹ سے آ جاتے ہیں ویسے تو یہ ہرے رنگ کے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر کچھ ''گرگٹ'' کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں یہ کبھی بھی کسی بھی ''رنگ'' میں ڈھل سکتے ہیں خاص طور پر کہیں اگر ''مٹھاس'' کا سراغ پا لیں اپنے اصلی جدی پشتی سبز رنگ میں یہ صرف اس وقت ہوتے ہیں جب کہیں سے بوٹوں کی آواز سنائی دے جائے یا کوئی وردی پوش ویکم مل جائے۔

چنانچہ پاکستان میں جتنی بھی اقسام کے کیڑے اس وقت موجود ہیں وہ ابتداء میں سبز رنگ ہی کے تھے یا کم از کم ان کے والدین تو پورے ''ہری چند اختر'' ہوتے تھے لیکن بعد میں ناساز گار موسم یا نامساعد حالات کی وجہ سے ''کئی رنگ'' ہو گئے، لیکن اپنے مادری سبز رنگ کی دھاری کسی نہ کسی طرح ان میں موجود ہوتی ہے اور پہچاننے والے پہچان لیتے ہیں بقول کسے

تو چاہے تو جو بھی لباس پہن لے
میں تیری قامت سے تجھے پہچان لیتا ہوں
یا بقول داغؔ
وہ سر بام چڑھے زلف کا پردہ لے کر
ہم قیامت کے نظر باز تھے پہچان گئے

اس حکیم صاحب کا قصہ تو آپ کو ہم نے سنایا تھا جس کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھنا تھا ویسے تو بھارتی پنجاب کا رہنے والا تھا لیکن اس کی سیاہ رنگ کی بناء پر وہ بنگالی حکیم کہلاتے تھے۔ بڑے حاذق اور سمجھ دار تھے ایک دن ہمارے رشتہ داروں میں ایک نومولود بچے کو کچھ ہو گیا ادھر ادھر کے حکیموں ڈاکٹروں سے کچھ نہ بن پایا تو پشاور بھی لے گئے لیکن بچے کو کچھ افاقہ نہیں ہو رہا تھا مسلسل روئے جاتا تھا اور پلٹیاں کھائے جاتا ہے اور مچھلی کی طرح تڑپے جا رہا تھا رات کو اس کی حالت بہت غیر ہوئی تو صلاح ٹھہری کہ بنگالی حکیم کے پاس لے جایا جائے۔

خاندان کا اکلوتا اور بڑی منتوں کے بعد پیدا ہونے والا بچہ تھا اس زمانے میں ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر تھی لیکن کسی نہ کسی طرح ایک ٹرک کو ڈھونڈ لیا گیا سارے محلے کے لوگ بھی ساتھ ہو گئے آدھی رات تھی حکیم کو بڑی مشکل سے جگایا گیا اس نے لڑکے کو دیکھا تو خاموشی سے اٹھے گھر کے اندر گئے اور ایک کٹورے میں کچھ لے کر آئے کٹورے سے چمچے کے ذریعے بچے کے منہ میں ''دوا'' ٹپکائی گئی بچے نے غڑپ غڑپ کر کے دوائی پی لی اور مزید کے لیے ہمکنے لگا، آٹھ دس چمچے پلانے کے بعد بچہ بالکل ہی شانت ہو گیا۔

حکیم صاحب نے چار پانچ چمچے اور پلائے اور لڑکا باقاعد مسکرانے لگا، ہم حیران تھے کہ یہ کیا جادو کی دوا تھی لیکن حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ پانی میں کوئی دوا نہیں تھی، لڑکے کو تم نے پیاسا مار دیا، دوائیاں پلاتے رہے اور اس کی پیاس بڑھتی رہی، صرف پیاس ہی اس کی بیماری تھی اس کے بعد ہم بنگالی حکیم کے فین ہو گئے جب بھی موقع ملتا تھا اس کی دکان میں بیٹھ جاتے تھے اور اس کے خذاقت کے کمالات دیکھتے، آدمی ظریف طبع بھی تھے اس لیے خوب جمتی تھی۔

ایسے ہی ایک دن ایک مرد و عورت اپنے دس سالہ بچے کو لے کر آئے جو تین سال کا بھی نہیں دکھتا تھا، دبلا پتلا مدقوق اور انجر پنجر ... صرف اس کا پیٹ اتنا پھولا ہوا تھا جیسے کسی اور کا پیٹ ہو، حکیم صاحب نے معائنہ کیا نبض دیکھی زبان اور آنکھوں کا بھی معائنہ کیا جو تقریباً پیلی رنگت کی ہو رہی تھی حکیم صاحب نے پوچھا اس کا نام؟ باپ بولا گلستان ... حکیم صاحب ہنس پڑے ... بولے پہلے تو اس کا نام بدل کر پاکستان رکھ دو، کیونکہ پاکستان ہی کی طرح اس کا پیٹ ھمہ اقسام کے کیڑوں سے بھرا ہوا ہے جو اس کا خون چوس رہے ہیں اور اگر یہی حال رہا تو ایک دن صرف کھال اور ہڈیاں رہ جائیں گی گلستان اجڑ جائے گا۔

لڑکے کے باپ نے کہا لیکن ہم نے تو اسے کیڑوں کی بہت ساری دوائیں بھی پلائی ہیں، پھر حکیم صاحب نے کیڑوں کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ پیٹ کے کیڑے تب ہوتے ہیں جب پیٹ کے اندر کا ماحول ان کے لیے سازگار ہوتا ہے ورنہ پیٹ تو ہر کسی کا ہوتا ہے اور جن کے پیٹوں کا ماحول کیڑوں کے لیے سازگار ہوتا ہے انھیں آپ کتنی بھی کیڑے مار دوائیں پلائیں، کیڑے ختم نہیں ہوں گے، پہلے اس کا نظام ہاضمہ درست کر کے پیٹ کا ماحول ایسا بنانا ہو گا کہ کیڑے اور ان کے انڈے بچے پنپ نہ سکیں۔