آمدنی بڑھانے کا نسخہ صرف حکومت کے لیے
بے چاری کتنی کوشش محنت جدوجہد کرتی ہے کہ یہ جو ’’گھر‘‘ کے ہزار خرچے ہیں
SUKKUR:
اپنی مشورہ بازی کی بری عادت بلکہ لت کے بارے میں تو ہم بعد میں بات کریں گے کیونکہ ہمارا یہ مرض اب لاعلاج کے زمرے میں داخل ہو چکا ہے، ویسے تو یہ مرض کم از کم پاکستان میں تو ''وبائی'' شکل اختیار کر چکا ہے کیوں کہ ایسا کوئی فرد و بشر بڑی مشکل سے ملے گا جو مشورے دینے کے اس لاعلاج روگ میں مبتلا نہ ہو، لیکن ہمارا مرض ان سب سے پرانا اور لاعلاج ہے۔
یوں کہیے کہ آخری اسٹیج پر خود بھی پہنچ چکا ہے اور ہمیں بھی پہنچا چکا ہے اس سے زیادہ بری حالت اور کیا ہو گی کہ اب ہم آئینے میں خود کو بھی مشورہ دینے لگے ہیں کہ میاں بس کرو، خود کو کب تک ڈراتے رہو گے، لیکن اپنی اس عادت اس مرض بلکہ اس ''لت'' پر تو بعد میں بات کریں گے پہلے حسب عادت ایک کثیفہ سنیے، کسی شادی کی تقریب میں کھانے کے موقع پر ایک شخص بڑھ بڑھ کر اپنی انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا تھا ۔۔۔ ان لوگوں کو کھانا دو، ان کو پانی پلاؤ، انھیں وہاں بٹھاؤ انھیں وہاں بٹھاؤ، یہ کرو، وہ کرو، شادی والے اسے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ اس ولیمہ لیڈر کو ہم میں سے کسی نے بلایا ہو گا لیکن آپس میں ملنے کے بعد پتہ چلا کہ اس شخص کو کسی نے بھی نہیں بلوایا ہے اور یہ بن بلایا ہی آیا ہے اور یہاں اپنی ''مشورٹی'' بھی دکھا رہا ہے۔
سب نے ایک جگہ کھڑے ہو کر اس شخص کو اشارے سے اپنے پاس بلوایا اور پوچھا ذرا یہ تو بتاؤ تم ہم میں سے کس کے بلاوے پر آئے ہو، وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو سب نے اسے دھکے دے کر نکلوانا چاہا لیکن نکلتے نکلتے بھی وہ اپنی ''مشورٹی'' سے باز نہیں آیا، بولا ۔۔۔ مجھے تو نکلوا رہے ہو ۔۔۔ ٹھیک ہے لیکن وہ وہ کونے میں بیٹھے ہوئے لوگ بڑی دیر کے آئے ہوئے ہیں اور وہ جو کھا رہے ہیں ان کو پانی دیا جائے اور وہ جو کھا چکے ہیں ان کے برتن اٹھوانا ضروری ہے۔
کچھ ایسی ہی مرنجا مرنج طبیعت ہماری بھی ہے اگرچہ حکومت کرنے والوں کی اس عظیم الشان ''دعوت کھاؤ پیو'' میں ہمیں کوئی پوچھتا بھی نہیں اور ستر سال سے بچھے ہوئے اس ''خوان لیغما'' میں ہماری حیثیت کسی ترک فقیر کی بھی نہیں ہے لیکن اپنی عادت بلکہ علت بلکہ مرض کو ہم کیا کریں، حالانکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حکومت کو مشورے دینے والے بھی بہت ہیں کچھ منتخب کچھ غیر منتخب کچھ سرکاری کچھ ترکاری کچھ نامزد اور کچھ بے نام مشورہ باز ڈھیروں ڈھیر پڑے ہوئے ہیں لیکن ہم بھی مجبور ہیں، چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، اب تو مرض کی حالت اس انتہاء پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی اگر ہمیں قتل بھی کرنے لگے تو ہم اسے بھی مشورہ دیے بغیر نہیں رہیں گے کہ میاں اپنی تلوار کی دھار کو چیک کر لو، چاقو کو تیز کر لو، پستول میں گولیاں ڈالی ہیں کہ نہیں
موچ نہ آئے کلائی میں تری
سخت جاں ہم بھی بہت ہیں پیارے
وہ کسی جگہ کچھ لوگوں کو پھانسی دی جا رہی تھی عارضی سا انتظام تھا یا یوں کہیے کہ رسی اور ٹکٹکی کسی وزیر کے رشتہ دار ٹھیکیدار نے سپلائی کی تھی کہ اکثر کبھی ٹوٹ جاتی کبھی کھل جاتی اور پھانسی پانے والا بچ جاتا تھا کیونکہ صرف ایک ہی مرتبہ پھانسی دینے کا حکم تھا، سردار جی کی باری آئی تو اس نے خود بھی رسی کو جھٹکے وغیرہ دیے اور جلادوں کو ڈانٹا کیوں کھوتیو سب کچھ ٹھیک ہے کہ نہیں، بہرحال ہم تو مشورہ دیں گے کوئی مانے یا نہ مانے کسی کو پسند نہ آئے بھاڑ میں جائے، کسی کے لیے ہم اپنی ''قرأت'' تو نہیں چھوڑ سکتے (یہ قرأت کا لطیفہ ہم آن پیپر عرض نہیں کر سکتے اس لیے کسی سے پوچھ کر سن لیجیے) مشورہ دینے کے لیے ہم اس لیے بھی بے چین ہو رہے ہیں کہ حکومت کی یہ پتلی حالت ہم سے دیکھی نہیں جا رہی ہے۔
بے چاری کتنی کوشش محنت جدوجہد کرتی ہے کہ یہ جو ''گھر'' کے ہزار خرچے ہیں ان کے لیے رقم کا بندوبست ہو جائے پہلے تو اہل خاندان بھی ذرا ''اچھا کھانے اور اچھا پینے پہننے والے لوگ ہیں اوپر سے اور بھی ہزار خرچے ہیں حالانکہ حکومت کوشش بہت کرتی ہے، دھونے نچھوڑنے اور چوسنے کا ہر عمل وسیع پیمانے پر کرتی ہے حتیٰ کہ اکثر بھیک مانگنے بھی نکل جاتی ہے کبھی کبھی شدید ضرورت کے وقت کچھ خاص خاص اہل خاندان جیسے واپڈا، پٹرولیم، ریونیو وغیرہ کے ہاتھ میں بندوق دے کر رہزنی بھی کر لیتی ہے جسے کچھ اور ناموں سے جانا جاتا ہے کیونکہ قانون کے دائرے میں ہوا کرتی ہیں یعنی
بہ فروغ چہرہ زلفت ھمہ شب زند رہ دل
چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد
یعنی تمہارے چہرے کی روشنی میں تمہاری زلفیں ساری رات دلوں کی راہیں لوٹتی رہتی ہے کیا دلیر چور ہے جو اپنے ہاتھ میں چراغ لے کر رہزنی کرتا ہے، لیکن باایں ھمہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں خرچہ پورا نہیں پڑتا اور مجبوراً کشکول گلے میں ڈال کر در در پر بھیک مانگنے کی نوبت آ جاتی ہے، اس مسئلے کے حل کے لیے ہمارے پاس ایک بڑا ہی تیر بہدف بلکہ ایک تیر ''بے شمار شکار'' مشورہ موجود ہے جو ہم حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اور شرابور ہو کر برائے نام قیمت پر پیش کر رہے ہیں ویسے تو بازار میں اس قسم کے مشوروں کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اگر ''اپنی حکومت'' کی بجائے کوئی دوسرا ہوتا تو ہم اس کے عوض وزارت نہ سہی مشاورت بھی نہ سہی، قیمت بھی نہ سہی صرف ایک ماڑا مٹھا ایوارڈ مانگ ہی لیتے لیکن ''اپنی حکومت'' کے لیے
سرمہ مفت نظر ہوں میری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
سارا مسئلہ یہی ہے نا کہ حکومت کو پوری نہیں پڑ رہی ہے کیونکہ بے چاری خرچہ اٹھنی اور آمدن چونی کے مرض میں مبتلا ہے باہر کے غیر یعنی عوام لوگ تو ایک طرف ''اہل خاندان'' بے حد محرومی کا شکار ہیں اور اس مسئلے کو ہم چٹکیوں میں حل کیے دیتے ہیں کرنا صرف اتنا ہو گا کہ باقی تو کچھ بچا نہیں ہے بجلی پانی سڑکیں پل اسپتال اسکول وغیرہ سب پر ٹیکس ہے لیکن ایک چیز ابھی تک ایسی بچی ہے کہ حکومت نے اس میں سے اپنا حصہ بطور ٹیکس نہیں لگایا ہے نہ جانے کیوں؟
حالانکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حکومت کے پاس ایسے ایسے ''ماہرین'' موجود ہیں کہ اگر کالی چکنی سڑک پر بٹھا دیے جائیں تو پلک جھپکنے میں اس سے بھی چار پانچ تازہ تازہ گھاس کے ''گڈے'' کاٹ لیں اگر کسی بھینسے یا بیل پر لگا دیے جائیں تو اس سے بھی آٹھ دس سیر دودھ حاصل کر لیں، ایک پاؤ کا پتھر ہاتھ میں دیا جائے تو اس سے آدھا سیر تیل نکال ڈالیں اگر کسی جگہ ایک اینٹ لگا دیں تو اپنے دو آدمیوں کے روزگار کا بندوبست بھی کر دیں گے اور ٹیکس کے طور پر حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ دے دیں گے، لیکن نہ جانے کیوں اس انتہائی لازمی اور قیمتی چیز پر ان کی نظر نہیں گئی شاید اس لیے کہ یہ چیز نظر نہیں آتی، لیکن ضروری اتنی ہے کہ باقی سب کچھ بجلی تیل گیس کھانے پینے کے بغیر انسان کا گزارہ ہو جائے گا لیکن اس کے بغیر ایک پل بھی زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔
ہاں یہ ناپ تول ذرا مشکل ہے کہ اس کی ''بکنگ'' کا کیا بندوبست کیا جائے، میٹر وغیرہ لگایا جائے یا کسی اور آلے کا بندوبست کرنا ہو گا، لیکن اس کے لیے ہمارے پاس ایک اور مشورہ حاضر ہے جیسے ''بائی ون گٹ ون فری'' کی بنیاد پر دے رہے ہیں، کسی میٹر وغیرہ کی ضرورت نہیں کچھ ماہرین کو بٹھا کر تخمینہ لگایا جائے کہ انسان اوسطاً کتنی سانسیں کتنے وقت میں لیتا ہے اور اس حساب سے ٹیکس لگایا جائے اس سے دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ عوام اور محنت کش چونکہ تیز تیز اور زیادہ سانسیں لیتے ہیں اس لیے خاص لوگ مفت میں آرام کی سانسیں لیتے رہیں گے۔