ایس ای سی پی کے ریگولیٹری اختیارات بڑھانے کا فیصلہ

جون 2016 تک اس کی پارلیمنٹ سے منظوری متوقع ہے۔


Irshad Ansari April 03, 2016
جون 2016 تک اس کی پارلیمنٹ سے منظوری متوقع ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)کے ریگولیٹری اختیارات بڑھانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ایکٹ پر نظرثانی کی جائے گی۔

اس ضمن میں دستیاب تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ایکٹ میں ترامیم کا مسودہ تیار کرکے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ساتھ شیئر کرے گی اور اس مسودے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کی صورت میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ایکٹ میں ترامیم کا مسودہ رواں ماہ ہی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا جبکہ فیوچر ٹریڈنگ بل پہلے سے ہی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جا چکا ہے۔

توقع ہے کہ ستمبر 2016 تک اس کی بھی پارلیمنٹ سے منظوری مل جائے گی، علاوہ ازیں بینکوں کی مانیٹرنگ و نگرانی کے لیے بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی تکنیکی معاونت سے خصوصی جامع فریم ورک متعارف کرایا جائے گا، اس فریم ورک کے تحت بینکنگ گروپس کی نگرانی کی جائے گی جبکہ بینکوں کے پھنسے اور ڈوبے ہوئے قرضوں کی بینکنگ کورٹس کی مداخلت کے بغیر ریکوری کیلیے بھی قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کیلیے قانونی مسودہ پارلیمنٹ میں منظوری کیلیے پیش کیا جا چکا ہے اور جون 2016 تک اس کی پارلیمنٹ سے منظوری متوقع ہے۔