دلوں کے اور جسموں کے حکمران

ایک چوتھی مشابہت یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے دور کے حکمران گزیدہ تھے


Saad Ulllah Jaan Baraq April 04, 2016
[email protected]

ہم خانہ فرہنگ ایران اور پشتو اکیڈمی کے ممنون ہیں جنہوں نے ہمیں ایک ایسی تقریب میں بلایا جو ہمارے دو پسندیدہ شاعروں علامہ فردوسی اور خوشحال خان خٹک کے موضوع پر منعقد کی گئی تھی، ان دونوں عظیم شعراء کے درمیان قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ''زرمیہ شاعری'' کے بے مثل شاعر ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں حد درجہ قوم پرست تھے اور تیسرے یہ دونوں نے اپنی اپنی قوموں کو زندہ جاوید کیا ہوا ہے۔

ایک چوتھی مشابہت یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے دور کے حکمران گزیدہ تھے لیکن یہ ''قدر مشترک'' تو تقریباً سارے شاعروں میں ہوتی ہے ایسا کوئی کم ہی بڑا شاعر گزرا ہو گا جسے وقت کے حکمرانوں نے ستایا رلایا نہ ہو اور بے چارے فردوسی کو تو چھلنی چھلنی جگر ٹکڑے ٹکڑے دل اور شرحہ شرحہ سینے کے ساتھ دنیا سے جانا پڑا تھا، اس کی قدر افزائی کا ''ایوارڈ'' جو اسے زندگی میں نہیں دیا گیا تھا ۔

اس وقت اس کے شہر پہنچا جب دوسرے دروازے سے اس کا جنازہ نکل رہا تھا، قصہ مختصر یہ ہے کہ محمود غزنوی نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ تم شاہنامہ ایران لکھو، میں اس کے عوض فی شعر ایک اشرفی دوں گا لیکن کئی سال کی محنت کے بعد جب وہ شاہنامہ لکھ کر لایا تو ایسا لگتا ہے کہ اس نے خود نہ سنا اور نہ پڑھا بلکہ آج ہی کی طرح کسی ''سرکاری منشی'' کے حوالے کیا ہو گا، سرکاری منشی تو ہوتے ہی ایسے ہیں اس نے پڑھ یا سونگھ کر محمود غزنوی سے کہا کہ اس میں عربوں کو برا بھلا کہا گیا ہے۔

حالانکہ فردوسی نے خود وہ بات نہیں کہی تھی بلکہ قدیم زبانوں کے قدیم کرداروں میں سے ایک ایرانی کردار نے عرب کردار سے کہی تھی جس کا اسلام سے تو کیا سارے عربوں سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے اور چونکہ ایرانی اور عرب پڑوسی ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے بارے میں طعنہ زنی کرتے رہتے تھے تو ایسی کوئی بڑی بات نہیں تھی لیکن محمود کو تو بہانہ چاہیے تھا ویسے بھی مقابل میں ایک بے بصاعت شاعر تھا چنانچہ اس اشرفی (سونے کا سکہ) کی بجائے درہم (چاندی کے سکے) تقریباً بیس ہزار دے دیے جو کوئی خاص رقم نہیں تھی۔

فردوسی نے وہ بیس ہزار درہم اسی وقت باہر جا کر حمام کے ملازموں کو دیے اور اپنے شہر چلا گیا، کچھ عرصے کے بعد جب محمود ہندوستان کے ایک شہر کا محاصرہ کیے ہوئے تھا اور شہر والوں سے بات چیت چل رہی تھی تو اس نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ اگر شہر والے شہر کی حوالگی پر راضی نہیں ہوئے تو ... اس پر وزیر نے ایک شعر پڑھا کہ

وگرنہ بکام من آمد جواب

من وگرز و میدان و افراسیاب

یہ شعر سلطان محمود غزنوی کو بڑا پسند آیا، پوچھا کس کا ہے تو جواب ملا کہ فردوسی کا ہے، اور یہ بات مشہور پہلوان رستم نے اس وقت کہی تھی جب اس کی شاہ توران افراسیاب سے جنگ ہو رہی تھی، محمود بڑا پچھتایا اور اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے شاہنامہ خود نہیں پڑھا تھا، واپس جا کر اس نے وعدے کے مطابق اشرفیاں اپنے آدمیوں کو دیں کہ جا کر فردوسی کو دے آؤ لیکن جب یہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو فردوسی کا جنازہ نکل رہا تھا، فردوسی کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس کا ارادہ تھا کہ محمود سے ملنے والے معاوضے سے وہ اپنی بیٹی کی شادی کرائے گا۔

شاہی اہل کاروں نے وہ اشرفیاں فردوسی کی بیٹی کو دینا چاہیں لیکن خود دار باپ کی خود دار بیٹی نے بھی لینے سے انکار کر دیا، کہتے ہیں کہ بعد میں وہ پیسے سرکاری حکم سے شہر میں ایک سرائے تعمیر کرنے پر خرچ کیے گئے، لیکن ہم اس وقت فردوسی اور سلطان محمود غزنوی کے درمیان ہونے والے اس واقعے کی تفصیلات نہیں سنا رہے بلکہ ان دونوں کے بارے میں ایک اور بات بتانا چاہتے جو کسی کو بھی معلوم نہیں یا مشاہدہ نہیں کیا ہو گا۔

ویسے بھی یہ کوئی پرانی کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارا خود کیا ہوا آج کا مشاہدہ ہے، فردوسی کے مزار کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں کہ اس کی شان کے مطابق بنا ہوا ہے اور مرجع خلائق ہے لیکن محمود غزنوی کی قبر ہم نے خود دیکھی ہے وہ جو نورجہان کی قبر پر لکھا ہے وہ اس پر بھی لکھا جانا چاہیے کہ

برمزار ماغریباں نے چراغ نے گُلے

نے پرِ پروانہ سوزد نے صدائے بُلبُلے

کابل سے ہم ایک دوست کو لے کر غزنی پہنچے تو ہمارے پاس صرف ایک دن تھا اور غزنی کو اگر ملتان کی طرح مزاروں کا شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، حضرت شمس العارفین، جلال الدین، حضرت شاہ منیرپا لیزوان اور بھی بہت سارے مزارات یہاں پر موجود ہیں اور ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہیں، کابل اور غزنی کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا پشاور اور اسلام آباد کے درمیان ہے۔

ہمارے دوست کا وہاں ایک اور دوست تھا، ظاہر ہے خاطر تواضح میں بھی اچھا خاصا وقت صرف ہوا چنانچہ دیکھنے کی لائق چیزیں بڑی عجلت میں دیکھنا پڑیں، آخر میں جب ان دونوں نے اپنے خیال میں سارا قبائل دید غزنی ہمیں دکھایا تو ہمیں محمود غزنوی کا خیال آیا کہ وہ کہاں ہے؟ اچھا ہوا کہ وہ راستے میں بڑی سڑک کے کنارے تھا لیکن مزار دیکھ کر دکھ ہوا اس سے زیادہ عبرت بھی ہوئی، ایک مستری خانہ سڑک کے کنارے تھا۔ ایک پتلا سا راستہ مزار کو سیڑھیوں کی صورت میں چڑھا تھا، اسے پرانا غزنی بھی کہتے ہیں۔

ایک چھوٹا سا گنبد اور اس کے نیچے شہنشاہ ہندوستان و افغانستان و ایران کی قبر اتنی کسمپرس کہ اردگرد کے درختوں کے سوکھے پتے بھی کوئی ہٹانے والا نہ تھا، ہمیں وہی احساس ہوا جو بھارت میں آگرے کی سیاحت کے دوران شیخ سلیم چشتی ؒ اور شہنشاہ اکبر کے مزارات دیکھنے پر ہوا تھا جو ایک دوسرے سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہیں، شیخ سلیم چشتی ؒ کے مزار پر بس رکی تو پوری بس کے سیاح بلا تفریق مذہب نسل دوڑ پڑے، پہلے سے بھی بے پناہ اژدہام تھا۔

ہر کسی نے اپنے اپنے طریقے پر عقیدت کا اظہار کیا، تصاویر کھینچیں اور تبرکات خریدے، لیکن شہنشاہ اکبر کے مقبرے پر ہم اکیلے ہی مزار کے اندر جانے والے فرد تھے، باقی اردگرد کے خوب صورت پارکوں میں ہرنوں وغیرہ کے ساتھ تصاویر لیتے رہے اور آج ہمیں ایک مرتبہ پھر احساس ہوا کہ دنیاوی بادشاہوں اور روحانی بادشاہوں میں کتنا فرق ہوتا ہے۔

وہ جو جسموں پر حکومت کرتے ہیں، جسم کے بے جان ہوتے ہی مٹ جاتے ہیں اور جو دلوں کے حکمران ہوتے ہیں، خلیفہ کے انکار پر اس نے ایک خط بھیجا کہ مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ ہاتھیوں کی فوج لے کر بغداد پر اپنا قبضہ کر لوں، جواب میں خلیفہ نے اپنے مکتوب میں صرف ''سورۃ الفیل'' لکھ کر بھیج دی جس سے اس کی سمجھ ٹھکانے پر آ گئی اور پھر خلیفہ کا پیچھا چھوڑ دیا اور آج اس کا مزار لوہے ہتھوڑے کی آوازوں اور دنیا بھر کے خس و خاشاک میں بے کس و بے بس گِھرا ہوا ہے، راستے میں کباڑ شدہ زنگ آلود گاڑیاں اور اندر ...؟