آئین و قانون میں مسائل کا حل

اس نے تو اور بھی ستم کر ڈالا ہے، فرماتے ہیں کہ مسائل کا حل آئین اور قانون میں ’’مضمر‘‘ ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq April 07, 2016
[email protected]

جناب اسفند یار ولی خان ویسے بھی ہمارے لیے بہت محترم ہیں کیوں کہ ... کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی ... دور کی تو نہیں تھی لیکن کیا کیا جائے کہ ''کباب'' نے گرتے ہی اپنا ذائقہ بدل ڈالا، یہ لطیفہ تو ہم بارہا سنا چکے ہیں لیکن کچھ نئے قاری بھی تو ہمارے ساتھ شامل ہو ہی جاتے ہیں اس لیے مختصر طور پر یوں ہے کہ ایک چرسی اندھیرے میں بیٹھ کر کباب کھا رہا تھا۔

ایک ٹکڑا چھوٹ کر ہاتھ سے گر گیا' اس نے چارپائی کے نیچے ہاتھ پھرایا تو کچھ چیز ہاتھ لگی جو کباب کے بجائے کچھ اور تھی اس نے کباب سمجھ کر منہ میں ڈالا، ذائقہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ اپنے مخصوص انداز میں بولا ... کم بخت تم نے تو گرتے ہی اپنا ذائقہ بدل ڈالا، لیکن پارٹی کے ذائقہ بدلنے کے باوجود ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں اور جو تازہ ترین بیان انھوں نے بعد مدت کے دیا ہے۔

اس نے تو اور بھی ستم کر ڈالا ہے، فرماتے ہیں کہ مسائل کا حل آئین اور قانون میں ''مضمر'' ہے اور یہ بات ہمارے لیے نہایت ہی نئی اور چونکا دینے والی ہے کیوں ہم ابھی تک اپنی اولڈ ماڈل کی سمجھ دانی کے باعث یہ سمجھتے رہے ہیں کہ مسائل کا حل پارٹیوں اور لیڈروں عرف منتخب نمایندوں میں ''مضمر'' ہے۔

دراصل یہ غلط فہمی اس وجہ سے تھی کہ ''مضمر'' کا لفظ کچھ کچھ ''ضمیر'' کا رشتہ دار لگتا ہے اور چونکہ پارٹیوں اور لیڈروں کے پاس نہایت اعلیٰ کوالٹی کے ضمیر ہوتے ہیں اس لیے اگر کوئی حل کر سکتا ہے مسائل کو تو وہ یہی لوگ ہیں اسی لیے کبھی کبھار ہم بھی اپنا ''ضمیر'' ان کے ضمیر کے ساتھ شامل کر لیتے تھے کیونکہ عرف عام میں ووٹ کو بھی ضمیر کہتے ہیں چونکہ یہ لوگ بہت سارے ضمیروں کو اکٹھا کر کے اپنی بڑی سی گراں ڈیل سٹرانگ ضمیر میں شامل کر لیتے ہیں اور احمد فراز نے بھی کہا ہے کہ ''نشہ بڑھتا ہے ضمیریں جو ضمیروں میں ملیں'' اور یہ خیال اس وجہ سے بھی ہمارے ذہن میں جڑ پکڑ چکا تھا کہ سو ڈیڑھ سو یا تین چار سو پانچ سو کے چھوٹے چھوٹے سے ننھے سے منے سے ''ضمیر'' مل کر ایک بڑے بہت بڑے ضمیر یعنی منتخب نمایندے کا روپ اختیار کر لیتے تھے تو اس کی قیمت کروڑوں میں ہو جاتی تھی۔

اس وقت ایک اور لطیفہ دم ہلا رہا ہے اجازت ہو تو اسے بھی آپ کے متھے مار ہی دیں، موضوع سے پتہ نہیں اس کا تعلق ہے بھی یا نہیں؟ کہتے ہیں کسی مغربی ملک یا چلیے اپنا امریکا ہی سمجھ لیجیے ''دماغوں'' کا ایک شوروم تھا، ایک پاکستانی سیاح نے دیکھا کہ دنیا کے تمام ملکوں کے دماغ جاروں میں پڑے ہوئے ہیں اور ان پر قیمتوں کی چٹ بھی لگی ہوئی تھی کسی ملک کے دماغ کی سو کسی کی دو سو ڈالر قیمت تھی لیکن ایک بھیڑ جس جار کے گرد جمع تھی اس دماغ کی قیمت پورے ہزار ڈالر تھی اور یہ پاکستانی دماغ تھا، پاکستانی سیاح کو بڑا فخر ہوا انتہائی پرغرور قدموں سے چلتا ہوا منتظم کے پاس گیا اور پوچھا ، کیوں یہ پاکستانی دماغ کوئی خاص قسم کا ہے جو اتنا قیمتی ہے؟

منتظم بولا، نہیں جناب بات دراصل یہ ہے کہ دوسرے ممالک میں ہر سر کے اندر ایک دماغ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں یہ نایاب چیز صرف لیڈروں کے سر میں ملتی ہے اور لیڈر بڑے مہنگے پڑتے ہیں۔ سوال کنندہ نے پوچھا کیا عوام کے سر میں دماغ نہیں ہوتا؟ منتظم بولا ، ویسے ہوتا تو ہے لیکن لیڈر لوگ اسے کھا کھا کر ختم کر چکے ہوتے ہیں، اسی بنیاد پر ہم بھی سمجھتے رہے کہ مسائل کا حل ان پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کے اندر ہوتا ہے لیکن اب جناب اسفندیار صاحب کہہ رہے ہیں کہ مسائل کا حل قانون اور آئین میں مضمر ہے، یہیں پر ہماری ترکی تمام ہو گئی کہ جسے سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی ۔ اگر مسائل کا حل آئین و قانون میں مضمر ہیں تو پھر یہ لوگ کیا کر رہے ہیں بلکہ ان کے اندر کیا پوشیدہ یا مضمر ہے جو اپنے شور سے نہ صرف اپنے ملک کا آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں بلکہ پاس پڑوس کے ملکوں کا آسمان بھی اس سے گونج رہا ہے، دیکھیں نا کتنے زیادہ لوگ ہیں جو اپنے کام دھندے چھوڑ کر ''مسائل'' کا حل ڈھونڈنے کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ سارے قوم و ملک کے خادم جو مسائل کو شکار کرنے نکلے ہیں یونہی اپنی قیمتی جانیں جوکھ میں ڈالے ہوئے ہیں جب کہ مسائل کا حل قانون اور آئین میں مضمر ہے۔ ہمیں اپنی کوئی زیادہ چنتا نہیں ہے ہماری سمجھ دانی میں تو صرف جانکاری کی حد تک کمی تھی جو ہم پارٹیوں اور لیڈروں کو مسائل کے حل کا نسخہ اعظم سمجھتے تھے لیکن زیادہ دکھی ہم جو خواہ مخواہ مسائل کا حل پارٹیوں اور لیڈروں کے اندر مضمر سمجھتے تھے اور اس امید میں نہ جانے کتنی کتنی بار لٹ لٹا چکے ہیں ہر مرتبہ کسی نئی امید میں ووٹ بلکہ ''انڈا'' ڈالتے ہیں کہ عجیب الخلقت نہ سہی ''غریب الخلقت'' چوزہ نکل آئے گا لیکن یا تو وہ انڈا کوے کھا جاتے ہیں یا کسی نااہل سیاسی مرغی کے نیچے سڑ جاتے ہیں یا کوئی انڈا فروش ٹوکری میں ڈال کر سر بازار بیچ ڈالتا ہے

بھیگ جاتی ہیں اس امید میں آنکھیں ہر رات
شاید اس رات کو مہتاب لب جو آئے

کم سے کم 333 تو سیاسی پارٹیاں ہوں گی پھر 333x333 وہ لیڈران صاحبان بلکہ قربانی دہندگان سمجھ لیجیے جن کو ہم نے مسائل حل کرنے کا ٹاسک سونپا ہوا ہے ان سب کی جگہ اگر صرف ''آئین اور قانون'' کی جوڑی ہمارے مسائل حل کر سکتا ہے تو یہ سودا بالکل بھی مہنگا نہیں ہے، ہمیں کرنا اب صرف یہ ہے کہ ان دونوں صاحبان یعنی آئین اور قانون کی جوڑی کو جلد سے جلد تلاش کریں اور ان سے اپنے مسائل حل کروائیں جو کچھ زیادہ نہیں ہیں یہی تقریباً 333x333 مسائل ہی تو ہیں، اگر ہم نے قانون اور آئین کا پتہ لگا لیا اور صحیح طریقے پر انھیں اپنے مسائل حل کرنے کے لیے آمادہ کر لیا تو سمجھ لیجیے کہ بیڑا اپرم پار ہے۔

مسئلہ سر درست جو ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں حل المسائل حضرات کو کیسے ڈھونڈا جائے اور کہاں تلاش کیا جائے، بظاہر یہ کام مشکل سا لگتا ہے کیونکہ لگ بھگ عرصہ ستر سال سے ان دونوں کا ویرا باؤٹ معلوم نہیں ہو رہا ہے صرف نام میں جو لیے جاتے ہیں اور تذکرے ہیں جو ہوتے رہتے ہیں لیکن ٹھیک ٹھیک اور یقینی پتہ ان دونوں کا کوئی بھی نہیں بتا سکتا ہے کیوں کہ ہم تو ہر جگہ اٹھتے بیٹھتے رہتے ہیں اور ہر کہیں صرف ایک بات سننے میں آتی ہے کہ

وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کو آنکھیں ترستیاں ہیں

ویسے ایک ہلکا سا سراغ ملا ہے ایک باوثوق مخبر نے بتایا ہے کہ یہ دونوں گمشدگان آج کل... سیاسی لیڈروں کے ٹھینگے تلے اسیر ہیں ،کچھ نے تو انھیں اپنی ران تلے دبایا ہوا ہے اور کچھ ایسے بھی لیڈر ہیں جنہوں نے اسے اپنے گھریلو کاموں پر لگا رکھا ہے، جیسے کھانا پکانا، برتن جھاڑو کرنا، کپڑے دھونا استری کرنا وغیرہ وغیرہ اتنے کام ہیں کہ بے چاروں کو سر کھجانے تک کی فرصت نہیں ہے کیونکہ اپنے علاوہ وہ ان سے بال بچوں رشتہ داروں اور اپنوں پرائیوں کی خدمت بھی لے رہے ہیں، مخبر نے ان کی ایک جھلک دیکھی ہے بالکل پہچانے نہیں جارہے تھے، بال اور ناخن بڑھے ہوئے گرد و غبار میں اٹے ہوئے اور میل کچیل میں سٹے ہوئے بالکل بھوت لگ رہے تھے، مطلب یہ کہ کوئی نجات دہندہ چاہیے جو پہلے ان دو معصوموں کو لیڈروں کی قید سے آزاد کرائے جن کے پاس مسائل کا حل مضمر ہے پھر سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔