قصہ چوہا ماری کا

ایک دن یہ مژدہ جاں فزا کانوں میں پڑا کہ پشاور کی شہری حکومت نے ’’چوہا مار‘‘ مہم لانچ کی ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq April 08, 2016
[email protected]

حکومت اچھی ہو، لیڈر کمال کے ہوں، محکمے اور ادارے چست درست اور تندرست ہوں تو عوام کی ''فلاح و بہبود'' کے لیے ''مواقع'' پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں، اس سلسلے میں ہمارے موجودہ صوبائی سیٹ اپ کا تو جواب ہے نہ مثال اور نہ نظیر ... اب تک مشیروں، معاونوں اور صلاح کاروں، کمیٹیوں وغیرہ کی شکل میں روزگار کے مواقع تو سب نے دیکھے پھر لوکل گورنمنٹ کے سلسلے میں لگ بھگ پچاس ہزار خاندانوں کو باروزگار کیا گیا کیونکہ ایک منتخب نمایندہ چاہے کسی بھی سطح کا ہو اپنے آٹھ دس خاندانوں کو تو ''باروزگار' کر ہی لیتا ہے اور اب کے جو نئی روزگار اسکیم شروع کی گئی تھی اس سے تو بیروزگاری کی اگلی پچھلی سات پشتیں تک ختم ہو جاتیں لیکن افسوس کہ ابتداء ہی میں کچھ تکنیکی خرابی ہو گئی ہے اور یہ ہمہ گیر قسم کا عظیم الشان روزگار منصوبہ فلاپ ہو گیا

پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

یہ زبردست روزگار اسکیم چوہا پکڑی اور چوہا فروشی کی تھی لیکن افسوس کہ

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے

ایک دن یہ مژدہ جاں فزا کانوں میں پڑا کہ پشاور کی شہری حکومت نے ''چوہا مار'' مہم لانچ کی ہے اور جو کوئی ایک چوہا پکڑ کر پیش کرے گا اسے پچیس روپیہ سکہ رائج الوقت انعام دیا جائے گا، لیکن چوہے کا زندہ ہونا شرط ہے یعنی وہ عام انعامی اشتہارات کی طرح ''زندہ یا مردہ'' کی پیش کش نہیں تھی گویا

صلائے عام تھی یاران چوہے داں کے لیے

لیکن دوسرے دن اچانک کنٹونمنٹ بورڈ نے چوہوں کے نرخ میں زبردست اضافہ کیا، نہ دگنا نہ چوگنا بلکہ کئی گنا بڑھا کر تین سو روپے فی چوہا کا اعلان کیا ...

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

یہ بڑی پرابلم والی بات تھی۔ شہر اور کنٹونمنٹ ایریا ایک دوسرے میں تقریباً گھسے ہوئے ہیں اور چوہوں کی کوئی نمبر پلیٹ اور شناختی کارڈ تو ہوتا نہیں کہ شہر اور چھاؤنی کے چوہوں کی پہچان ممکن ہو، دوسرے ممالک تو خیر دور ہیں لیکن افغانستان تو پہلو میں آباد ہے اور وہاں آنے جانے والوں کی کوئی چیکنگ بھی نہیں ہوتی، آج تک آدمیوں کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے کہ یہاں کا ہے یا وہاں کا ... پاکستان اور افغانستان دونوں ہی نالاں ہیں ایک دوسرے پر دراندازی کا الزام لگاتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ یہاں اور وہاں کا کوئی باقاعدہ شناختی نظام نہیں ہے۔

خواہ مخواہ بے روزگاروں کو للچانے ترسانے اور عین لب بام سے گرانے کا مطلب کیا، یہ تو ایسا ہے کہ آپ کسی پیاسے کے منہ سے ٹھنڈے پانی کا جام عین اس وقت ہٹا دیں جب وہ گھونٹ لینے کے لیے اسے ہونٹوں سے لگانے ہی والا ہو یا کسی بھوکے کو کھانا کھلانے کے لیے بٹھا دیں پھر کھانا بھی اس کے آگے رکھ دیں جس سے گرما گرم بھاپ اور خوشبوئیں بھی اٹھ رہی ہوں اور بھوکے کا نوالہ اٹھاتے ہی اس کے ہاتھ سے نوالہ چھین لیں اور کھانا ہٹا کر دھتا پتا دیں اور وہ بات تو ہم نہیں کہیں گے جو ایک بھارتی فلم ''قصہ کرسی کا'' میں جنتا کے ساتھ ہوئی تھی بے چاری چوہا بیچنے گئی تھی اور لٹ کر آ گئی۔

ویسے ہم چوہا پکڑنے کی اس مہم میں شامل نہیں تھے کیونکہ چوہا پکڑنا ہمیں بالکل بھی نہیں تھا اور پھر اسے بیچنا تو بالکل بھی نہیں تھا ورنہ ''ایوان اقتدار'' میں آج چوہوں کا نام و نشان تک نہ ہوتا، ورنہ اگر یوں ہمارے ساتھ ہوتا تو آج شہر بھر بلکہ چھاؤنی بھر میں جلسے جلوس اُٹھ رہے ہوتے ہر جلوس میں لوگ بینر اور پلے کارڈ کی جگہ چوہوں کے پنجرے اٹھائے ہوئے چلتے نظر آتے اور جو کچھ نعرہ بازی کرتے اس کا ذکر یہاں ہو ہی نہیں سکتا، اگر ایسا کوئی کیمیکل موجود تھا تو آخر بے روزگاروں کو للچانے اور سبز باغ بلکہ سبز پنجرے دکھانے کی کیا ضرورت تھی نہ جانے بے چاروں نے کتنے خواب دیکھے ہوں گے جن میں چوہے ہی چوہے نظر آئے ہوں گے اور پھر اب نہ جانے اب وہ بے چارے کتنے ہی بھیانک بھیانک خواب دیکھ رہے ہوں گے جن میں چوہا ان پر حملہ کر رہا ہو گا یا چوہے ان کا سب کچھ کتر رہے ہوں گے

چھپ جاتے ہیں آئینہ دکھا کر تیرے چوہے
سونے نہیں دیتے مجھے شب بھر ترے چوہے

اور آخر میں اپنے اصل مطلب کی بات کہ وہ کون سا کیمیکل ہے جسے کنٹونمنٹ بورڈ والے نالیوں میں بہا کر چوہوں کا خاتمہ کرنے والے ہیں یعنی جسے سونگھ کر ہی سارے چوہے ہلاک ہو جائیں گے ہمیں بھی تھوڑا سا یہ کیمیکل چاہیے تا کہ ہر جلسے جلوس اور دفاتر میں لے جا کر چپکے سے چھوڑ آئیں کیوں ان مقامات پر ......