کیا دنیا میں واقعی پانی کی قلت ہے

عامل جنات نے کچھ عجیب و غریب حرکتیں کرنے کے بعد بتایا کہ اس پر 75 جن بیٹھے ہوئے ہیں۔


Saad Ulllah Jaan Baraq April 09, 2016
[email protected]

KARACHI: اگر ہم سے پوچھا جائے کہ انسان کا سب سے زیادہ پسندیدہ کام یا شوق کون سا ہے تو ہم سوچے سمجھے بغیر جواب دیں گے کہ ڈرنا اور ڈرانا۔ اپنے اس شوق کے لیے، یہ پرانے زمانے میں نہ جانے کہاں کہاں سے بھوتوں' بلاؤں اور جادوگروں وغیرہ کی کہانیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر سنایا کرتا تھا۔ بھوتوں پریتوں بدروحوں اور چڑیلوں کا تو پوچھیے مت، نہ جانے کہاں سے انواع و اقسام کے جن بھی پیدا کر دیے تھے۔ ایک مرتبہ ہم اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ ایک عامل جنات کے پاس گئے۔

عامل جنات نے کچھ عجیب و غریب حرکتیں کرنے کے بعد بتایا کہ اس پر 75 جن بیٹھے ہوئے ہیں۔ جس پر ہمارے منہ سے نکلا کہ یہ انسان ہے یا ریل۔ اچھا ہوا اس نے سنا نہیں ورنہ نہ جانے ہم پر کتنے جن سوارکرا دیتا کیونکہ اس کے کہنے کے مطابق ستر ہزار جن اس کے قبضے میں تھے۔ وہ سلسلہ کچھ کچھ کم ہوا تو پھر سائنس فکشن کے ڈراوے اور ''ایلینز' کے چشم دید گواہوں کا زمانہ آ گیا اور بہت سارے ''چشمہ دید'' گواہوں کو فضاء میں اڑن طشتریاں اور انتہائی ڈروانی مریخی اور خلائی مخلوقات نظر آنے لگیں۔

لیکن آج کل ایک اور فیشن یا رجحان کا بہت زور ہے۔ کچھ کھانے پینے والی چیزوں کے بارے میں روزانہ نئی نئی ''تحقیقات'' اخباروں میں شایع ہو رہی ہیں، یا دنیا پر آنے والی آفتوں کے تذکرے چل رہے ہیں۔ دوسرے قصوں کی طرح اس میں اگر کوئی نئی بات نکلتی ہے تو یار لوگ اسے لے اڑتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے حاشیئے چڑھانے لگتے ہیں۔

ایسی ہی باتوں میں ایک بہت ہی ہارٹ فیورٹ اور بیسٹ سیلر بات پانی کی قلت بھی ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پانی کی کمی کو لے کر طرح طرح کے ڈراوے دیے جا رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے بہت جلد پانی مفقود ہو جائے گا۔ مزے کی بات یہ ہے یہی لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کرہ ارض گرم ہو رہا ہے اور گلشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں یعنی پانی زیادہ ہونے والا ہے۔

حالانکہ یہ سب جھوٹ اور خواہ مخواہ خود اور دوسروں کو ڈرانے والی باتیں ہیں۔ چلیے ان ہی کے مطابق ہم مان لیتے ہیں کہ جس عظیم ہستی اور سپریم پاور کو مذاہب مانتے آ رہے ہیں اور ہمیشہ مانتے رہیں گے وہ نہیں ہے حالانکہ وہ اپنے ہونے کا ثبوت قدم قدم پر ذرے ذرے میں اور قطرے قطرے میں دے رہی ہے۔ لیکن ہم اپنا میدان چھوڑ کر ان ہی کے کورٹ میں کھیلتے ہیں۔

یہ تو سائنس و طبیعات اور تجربات و مشاہدات سے ثابت ہو چکا ہے بلکہ انھی جدید علوم سے ثابت ہوا کہ اس کائنات و موجودات کا نظام دائروی یعنی سائیکلی ہے۔ ہر چیز گولائی میں ہے۔ ہر حرکت گولائی میں چلتی ہے۔ تخلیق و تکوین اور ارتقاء کے تمام سلسلے گولائی کے چکر میں جکڑے ہوئے ہیں، جو چیز جہاں سے چلتی ہے وہیں پر آ کر ختم ہوتی ہے۔

یعنی تمام کائنات موجودات مخلوقات فنا و بقا اسی دائروی سفر میں چلتے ہیں۔ بگ بینگ ہوا کائنات پھیلنا شروع ہوئی پھیل رہی ہے لیکن اب چاہے کتنے ارب سال کے بعد ہو ایک مرتبہ پھر سکڑنا شروع ہو گی۔ یعنی انتشار کے بعد ارتکاز اور کثرت کے بعد وحدت کا سلسلہ شروع ہو کر کائنات سمٹتے سمٹتے ایک ذرے میں مرتکز ہو جائے گی، اور ایک دن ارتکاز کے آخری نقطے پر پہنچ کر پھر ذرہ پھٹے گا، نیا بگ بینگ اور نیا زماں و مکان وجود میں آ جائے گا۔ اب تک نہ جانے کتنے بگ بینگ ہوئے ہیں اور آیندہ ہوں گے اس کا علم کسی کو بھی نہیں۔ اسی طرح تمام اجرام مادے اور توانائیاں بھی اس دائروی چکر میں مبتلا ہیں۔

چاند زمین کے گرد دائرہ بنا کر گھوم رہا ہے، زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، سورج کہکشاں کے گرد گھوم رہا ہے، کہکشاں نہ جانے کس کے گرد گھوم رہی ہے۔ اسی دائروی چکر کا اسیر پانی بھی ہے اس زمین کی پیدائش کے ساتھ بلکہ موجودہ صورت اختیار کرنے کے ساتھ جتنا پانی اس میں تھا اتنا ہی آج بھی ہے نہ ایک قطرہ کم نہ ایک قطرہ زیادہ، البتہ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ پانی کے دائروی سفر میں کون سا قطرہ کب، کس مقام پر ہو گا۔ لیکن یہ تو واضح ہے کہ سمندر سے بادل اٹھتے ہیں اوپر چل کر برس جاتے ہیں۔ کہیں پانی کہیں برف لیکن گرتا سب زمین پر ہے۔ یاد رہے کہ جذب ہو جاتا ہے ختم نہیں ہوتا پھر مختلف راستوں سے جیسے چشموں، سیم کنوؤں ٹیوب ویلوں وغیرہ کی صورت میں باہر آتا ہے۔ مخلوقات اسے استعمال کرتی ہیں۔

ان کے جسموں میں کچھ مدت تک رہتا ہے پھر اس مخلوق کے فنا ہونے پر وہ پانی اس سے نچڑ کر زمین ہی میں جذب ہوتا ہے۔ مختلف طریقوں سے نکل کر ندی نالوں میں پہنچتا ہے۔ پھر بڑے دریاؤں کے ذریعے جا کر سمندر میں گر جاتا ہے جہاں سورج اسے پھر بھاپ اور بادل بنا کر اپنے ''سفر'' پر بھیج دیتا ہے اور آسمانوں سے گھوم کر پھر وہی زمین ... اس چکر میں پانی استعمال تو کیا جاتا ہے بظاہر ختم ہو جاتا ہے لیکن فنا بالکل نہیں ہوتا صرف کچھ عرصہ اس ''جسم'' میں رہتا ہے چاہے وہ جسم انسان کا ہو میدان کا ہو یا نباتات جمادات حتیٰ کہ مٹی اور زمین کا کیوں نہ ہو لیکن کوئی بھی پانی خرچ کرنے والا جسم پانی کو ہمیشہ کے لیے نہ فنا کر سکتا ہے نہ جذب کر سکتا ہے۔

جلد یا بہ دیر وہ پانی کسی نہ کسی طرح نکل کر ہی رہے گا چاہے وہ لق و دق ریگستان ہی کیوں نہ ہو اگر کہیں پر حرارت کی وجہ سے بھاپ بن جاتا ہے تو وہ بھی ہوا میں نمی کی صورت چلتا چلتا شبنم اور اوس بن کر اپنے دائرے سے مل جاتا ہے، برف بھی پگھل کر پانی اور پہاڑوں کے اندر ہی اندر چلتا ہوا چشموں کی صورت میں نکل ہی آتا ہے۔

مختصر یہ کہ دنیا میں جتنا پانی روز اول سے چلا آ رہا ہے اس میں نہ ایک قطرہ کم ہوا ہے نہ زیادہ ہوا ہے بلکہ اگر اسے سائنسی زبان میں بولا جائے تو اتنا ہی ہائیڈروجن اب ہے جتنا پہلے تھا اب رہ جاتا ہے یہ سوال کہ بعض مقامات پر پانی کم اور بعض مقامات پر زیادہ کیوں ہو جاتا ہے۔ کہیں سمندر اور کہیں صحرا کیوں ہے یا بعض مقامات پر پانی کی قلت کیوں پیدا ہو رہی ہے تو اس کے پیچھے قلت کا نہیں تقسیم کا ہاتھ ہے یا زیادہ اور کم استعمال کا نتیجہ ہے جیسے انسانوں نے ہمالیہ سے بہنے والے دریاؤں یا پانی کے سلسلے میں لکیریں کھنیچ لی ہیں بحر و بیابان کے بارے میں غالبؔ نے کہا ہے کہ

گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر اگر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

اگر آج کہیں بحر اور کہیں بیاباں ہے تو اس میں زیادہ ہاتھ تو خود کرہ ارض کی بناوٹ اور اونچ نیچ کا ہے جو بالکل ختم ہو سکتا ہے بشرطیکہ انسان اس میں لکیریں کھینچ کر اپنے پرائے کی تقسیم چھوڑ دے اور کہیں پر جل اور کہیں تھل بنانے سے باز آ جائے، لیکن یہ ایک خواہش اور آرزو تو ہو سکتی ہے عملی طور پر جب تک یہ انسان اور پھر انسانوں میں پندرہ اور پچاسی کی تقسیم موجود ہے ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض کی تقسیم قبضے کے رجحان اور ملکیت کی ہوس کا سلسلہ پانی تک بھی پہنچ چکا ہے اس لیے قلت نہ ہونے کے باوجود قلت کا سامنا ہے اور یہ صرف تقسیم کا شاخسانہ ہے۔ یہ تو آپ نے دیکھا ہی ہو گا کہ جب ''نل'' پر کوئی موٹر لگا کر زیادہ پانی کھینچ لیتا ہے تو قلت تو ہو گی ہی ...