’’چوہے‘‘ کے مت فریب میں آ جائیو

لیجیے مردان والوں نے بھی چوہوں کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے،


Saad Ulllah Jaan Baraq April 14, 2016
[email protected]

LONDON: لیجیے مردان والوں نے بھی چوہوں کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے، ہو سکتا ہے کہ ان سطور کے چھپنے تک کچھ اور مقامات سے بھی اس خطرناک مجرم کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے اعلانات نشر ہو جائیں لیکن اصل قصہ چوہے کا تھا اور جس کا مقصد چوہے ووہے پکڑنے سے نہیں تھا بلکہ ملک کے حکمران لوگوں کے اس سلوک کا تھا جو وہ ''جنتا'' یعنی عوام کے ساتھ کرتے آئے ہیں کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے کیونکہ حکمران ''اس کام'' کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور جنتا ''اس کام'' کے لیے ہی ہوتی ہے اور بزرگوں نے کہا ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہاں بھی معاملہ کچھ کچھ ویسا ہی لگتا ہے ورنہ اہل حکم کو چوہوں سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے بلکہ سچ کہیے کہ دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے پٹے ہیں، وہ بھی کترتے ہیں اور یہ بھی کترتے ہیں، لیکن یہ جو چوہوں سے زیادہ خطرناک دوسرے جانور ہیں جن میں خطرناک ترین جانور ''دو پیروں'' والا ایک جانور ہے اس سے تو طرح طرح کی بیماریوں اور امراض کے شگوفے پھوٹتے ہیں اس جانور کو آپ نے شاید دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو کیونکہ آج کل ''آئینے'' بہت کم پائے جاتے ہیں اور اگر کچھ ہیں بھی تو وہ ''اندھے'' ہوتے ہیں اور یہ جانور صرف آئینے ہی میں دکھائی دیتا ہے، چوہوں کی طرح یہ بھی زیادہ تر آبادیوں میں رہتا ہے اور چوہوں کی طرح جو بھی چیز ہاتھ لگتی ہے اسے کتر کر رکھ دیتا ہے۔

ایک مرتبہ سنا ہے ان جانوروں نے ایک پورے ملک کو جس کا نام مملکت اللہ داد ناپرسان تھا کو کتر کتر کر، کتر کتر کر ختم کر ڈالا تھا، مطلب ہمارا کہنے کا یہ ہے کہ آخر چوہے ہی کیوں اتنے امپارٹنٹ ہو گئے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ مقصد چوہوں سے زیادہ روزگار کی فراہمی ہو، ایک یہ بھی بات ہو سکتی ہے کہ چوہوں کا کوئی حساب نہیں رکھا جا سکتا کہ کون سا چوہا کون سا ہے، مثلاً چوہے پکڑے جائیں متعلقہ معاوضے والے پوائنٹ پر گنے بھی جائیں گے لیکن آگے کس کو پتہ ہو گا کہ اس جنس گراں مایہ کا کیا ہوا، مارا گیا یا چھوڑ دیا گیا یا کسی کو دے کر دوبارہ گنتی کے قطار میں ڈال دیا گیا اور ایسا ہوتا رہتا ہے۔

مثلاً منشیات یا اسلحہ جات بھی تو پکڑے جاتے ہیں لیکن بیچ بیچ میں مختلف ہنر مند ہاتھوں کی وجہ سے ''اصل'' تو کہیں اور پہنچ جاتے ہیں اور سرکاری گوداموں میں ''ڈپلی کیٹ'' رہ جاتے ہیں، جن کو بعد میں کیمرے کے سامنے تلف کر دیا جاتا ہے، چوہوں کے نہ تو نمبر پلیٹ ہوتے ہیں نہ شناختی کارڈ نہ نام نہ ولدیت اور نہ ہی کوئی رجسٹریشن وغیرہ ہوتی ہے اس لیے اگر ''کرنے والے'' چاہیں تو ایک چوہے کو بھی ہزار بار پکڑا جا سکتا ہے بیچا جا سکتا ہے اور تلف کیا جا سکتا ہے، مطلب یہ کہ عین ممکن ہے کہ چوہوں کی بھی وہ ''کبوتروں'' والی تجارت ہو جائے۔

کبوتروں کی تجارت کا قصہ یوں ہے کہ ہمارے ایک شناسا تھے جو اکثر نئے نئے دھندے کرتے تھے کبھی پتھر کی مومیائی، کبھی سنڈے کا تیل، کبھی شفائی کنگن اور انگوٹھی۔ ایک دن ملے تو پوچھا بھئی آج کل کیا چل رہا ہے بولے آج کل تو کبوتروں کا دھندہ کر رہا ہوں۔ تفصیل پوچھی تو بولا، آٹھ دس کبوتر پال رکھے ہیں روزانہ چار پانچ بیج دیتا ہوں، حیرت ہوئی کل تو آٹھ دس کبوتر پالے ہیں اور بیچتے روزانہ چار پانچ ہو، وہ کیسے؟ بولا... جن کبوتروں کو بیچ دیتا ہوں وہ کسی نہ کسی طرح واپس آ جاتے ہیں لیکن بابو جی... ممکن ہے یہ دھندہ بھی چھوڑنا پڑے ... کیوں؟ ہم نے پوچھا ... بڑے دکھ سے بولا بابو جی لوگ بڑے ''بے ایمان'' ہو گئے ہیں کبوتروں کے پر کاٹ لیتے ہیں اور جب تک پر نکلتے ہیں تب تک وہ اپنا یعنی میرا ''ٹھیا'' بھول چکے ہوتے ہیں۔

اور چوہوں کے تو پر بھی نہیں ہوتے کہ کوئی اکھاڑ سکے اور جب مقصد ہی پکڑ کر چھوڑنا اور چھوڑ کر پکڑنا ہو تو کس نے پوچھا ہے کہ کون سا چوہا کہاں اور کہاں کا چوہا کون سا؟ پھر ایک کہانی دم ہلا رہی ہے یہ ایک مشہور لوک کہانی ہے جس میں کچھ ٹھگوں کا واسطہ اپنے سے بھی زیادہ ''مہا ٹھگ'' سے پڑ جاتا ہے۔

اس مہا ٹھگ نے ان ٹھگوں کو کئی بار لوٹا تھا۔ ایک دن وہ نہایت خطرناک ارادے سے اس کے پیچھے آ گئے اس وقت مہا ٹھگ کھیت میں کام کر رہا تھا، مہا ٹھگ نے بیوی سے کہا پیغام مل گیا تھا نا؟ بیوی نے کہا ہاں بیٹے نے پیغام پہنچایا تھا، کھانا کھاتے ہوئے مہمان سامنے والے پنجرے میں اس نیولے کو دیکھ رہے تھے اور حیران ہو رہے تھے آخر کھانا کھانے کے بعد ٹھگوں نے کہا کہ یہ سیانا نیولا ہمارے ہاتھ بیج دو، مہا ٹھگ نے گراں قیمت پر گویا بادل نخواستہ اپنا بیٹا ان کے ہاتھ بیج دیا، حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا اسے معلوم تھا کہ یہ لوگ آئیں گے اور اس نے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی ایک جیسے دو نیولے بھی رکھے تھے اور بیوی کو بھی سمجھایا تھا، کچھ سمجھے آپ؟ نہیں سمجھے اتنے سمجھ دار ہوتے تو مہا ٹھگوں کے ہاتھوں بار بار لٹتے ہی کیوں اور بار بار نیولے کے فریب میں آتے کیوں؟