قصہ ایک کھیت کا

جناب شفیق الرحمن نے کہیں لکھا ہے کہ لوگ جب ایک پیشے سے وابستہ ہو جاتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq April 21, 2016
[email protected]

جناب شفیق الرحمن نے کہیں لکھا ہے کہ لوگ جب ایک پیشے سے وابستہ ہو جاتے ہیں تو پھر جو بھی بات کرتے ہیں خواہ کسی بھی موضوع پر ہو تو اس میں اپنے پیشے سے متعلق اصطلاحات کہاوتیں اور محاورے وغیرہ بے تحاشا برتتا ہے، انھوں نے ایک ایسے افسانہ نگار کا تذکرہ کیا ہے جو پیشے سے درزی تھا اور اپنے افسانے میں بھی اس نے اپنے پیشے کو اجاگر کیا تھا جیسے مثلاً ہمارا ایک دوست موسیقی سے تعلق رکھتا ہے جب اپنے گھر کی روداد سنائے گا تو ... کل تھکا ہارا ایک محفل سے رات گئے گھر پہنچا تو کم بخت بیوی نے مجھے دیکھتے ہی مالکونس چھیڑ دیا کہ گھر میں کچھ بھی نہیں ہے گھر کا سارا آرکسٹرا ہی بے سرا ہو رہا ہے۔

ابھی اس نے بات ختم نہیں کی تھی کہ سوئی ہوئی منی نے بھیرویں الاپنا شروع کیا، ماں نے نہ صرف اس پر دونوں ہاتھوں سے ''تادھا پکڑک'' بجا دیا بلکہ باقی کے بچوں کو بھی طبلے کی طرح بجانا شروع کیا اور تھوڑی دیر میں سارا گھر سارے راگوں سے بھر گیا، ایک ڈرائیور ہے وہ یہی بات اپنی اصطلاحات میں یوں بیان کرے گا ... یار کیا بتاؤ لمبا ٹریپ مار کے گھر پہنچا تو بیوی کا پریشر ہارن بجنے لگا ... مطلب یہ کہ پیشے کی اصطلاحات ذہن میں ایسی رچ بس جاتی ہیں کہ ؎ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر اور چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، ہم بھی چونکہ پیشے سے آپ کو پتہ ہے کہ کسان ہیں اس لیے جس چیز کو بھی دیکھتے ہیں کھیت کھلیان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اب اس بڑے اور وشال کھیت کو لے لیجیے بلکہ یوں کہیے کہ آدھا کھیت، کیونکہ آدھا جو کبھی ہمارا تھا اب کسی اور کا ہے کیوں کہ دعویٰ جھوٹا اور قبضہ سچا ہوتا ہے، ہاں تو اس آدھے کھیت کو جب بھی ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں تو دل مسوس کر رہ جاتے ہیں

دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذت درد
کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا

یہ ایک ایسا کھیت ہے جسے چڑیاں جڑوں تک چگ چکی ہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ چڑیاں ابھی تک ''اڑی'' نہیں ہیں بلکہ آس پاس کے پیڑوں پر چہچہا رہی ہیں کہ کب کھیت میں کچھ اُگے اور وہ ہلہ بول دیں، وہ ایک قصہ تو آپ کو یاد ہو گا کہ تصویری نمائش میں ایک خالی کینوس کے گرد لوگ جمع تھے اور مصور اپنی تصویر کی ''خوبیاں'' بیان کر رہا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ ''تصویر'' کس چیز کی ہے۔ مصور بولا ، اس میں ایک کھیت اور گائے کی منظر کشی کی گئی۔ پوچھنے والے نے مزید پوچھا مگر کھیت ہے کہاں ؟ بولا کھیت کو گائے نے چرا لیا ہے... اور گائے کہاں ہے؟

کمال ہے مصور بولا، چرنے کے بعد گائے خالی کھیت میں ٹھہر کر کیا کرتی؟ اس لیے ''چر'' کر چلی گئی۔ ہمارا یہ مشترکہ کھیت بھی ویسا ہی ایک کھیت ہے بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اس مصور نے جو گائے اور کھیت کی تصویر بنائی تھی اس پر اگر ''پاکستان'' کا کیپشن لگا دیتا تو مزید کسی وضاحت کی ضرورت ہی نہ پڑتی، کیوں کہ سارے دیکھنے والے کچھ اور جانیں نہ جانے اپنے ''کھیت'' کے بارے میں تو خوب جانتے ہیں اور ان گائیوں سے بھی واقف ہیں جو اس کھیت کا تیاپانچہ کر چکی ہیں، ویسے ہم مصور نہیں ہیں لیکن اگر ہوتے تو وہ تصویر ذرا مختلف اور کچھ اور زیادہ معنی خیز ہوتی، کیوں کہ ''خالی کھیت'' دکھانے کے بعد ہم گائے کو ''گو وینٹ گان'' ہرگز نہ کرتے بلکہ کنارے پر کھڑا کر کے دوبارہ منظر دکھاتے کیوں کہ یہ جو کھیت ہے یہ وہی کھیت ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال کو بھی پتہ تھا حالانکہ کھیت ابھی ان کے خواب میں تھا لیکن پھر بھی کہہ گئے کہ

نہیں ہے ناامید اقبال اپنے کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ نے ''نم'' کا لفظ اس لیے برتا ہے کہ اس زمانے میں آئی ایم ایف نامی ''یوریا'' ایجاد نہیں ہوئی تھی لیکن علامہ چونکہ بڑے روشن ضمیر تھے جس طرح انھوں نے بہت پہلے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اسی ''نم'' کے بارے میں بھی جانتے تھے جو آیندہ زمانے میں اس کھیت کا مقدر بننا تھا، اب آپ کاشت کار تو ہیں نہیں ورنہ پہلے سے جانتے ہوتے کہ اکثر فصلیں جو بار بار کاٹی جاتی ہیں یہ خاصیت رکھتی ہیں کہ کٹائی کے بعد یوریا ڈال کر پانی لگا دیا جائے تو دوبارہ سبز ہو جاتی ہیں اور ہمارا کھیت تو پیدائشی طور پر ''سبز'' ہے اس لیے گائیں اور چڑیاں اسے چرچگ کر غائب نہیں ہوتیں بلکہ کنارے پیڑوں کی چھاؤں میں بیٹھ یا لیٹ کر انتظار کرتی ہیں، اب ایک ایسا مقام آگیا ہے جس میں ہم اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑ سکتے ہیں اور علامہ ہی کا ایک شعر اس کھیت پر چسپاں کر سکتے ہیں کہ

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

لیکن ہم ایسا نہ کہیں گے اور نہ کریں گے کیوں کہ کھیت کا خوشہ گندم ہی تو دہقان کی کل کائنات ہے، گھوڑوں، گائیوں اور چڑیوں کا کیا ہے وہ تو اس کھیت کو چھوڑ کر کسی اور کھیت میں جا بسیں گے کیوں کہ ان کے ''آشیانے'' یہاں وہاں جہاں تہاں ''کہاں'' نہیں ہیں؟ بے چارا دہقان جائے گا بھی تو کہاں؟ اور اگر گیا بھی تو کسی نامعلوم سمندر کی کسی نامعلوم لانچ میں ڈوب جائے گا یا کسی کنٹینر میں دم گھٹ کر رزق خاک ہو جائے گا یا کسی ملک کی سرحد پر کسی اپنے نام کی گولی کا شکار ہو جائے گا اور اگر زیادہ خوش قسمت ہوا تو کسی ملک کی جیل میں عمر کا بقیہ گزار دے گا اس لیے کہ دہقان کا آشیانہ تو صرف اپنے کھیت میں ہوتا ہے، مطلب یہ کہ

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

کوئی چاہے تو پھول کی ''پھ'' کو ''ف'' میں بدل سکتا ہے۔ اپنے اس مشترکہ کھیت جیسے ایک اور کھیت کا بھی ہمیں پتہ ہے جو ہمارے ایک پڑوسی کا تھا، بے چارے نے کسی ضرورت سے مجبور ہو کر وہ کھیت ایک اور آدمی کو اجارے پر دیا، پانچ سال وہ کھیت اس دوسرے آدمی کے قبضے میں تھا ساڑھے چار سال تو اس نے کھیت میں کھاد واد ڈال کر خوب زرخیز بنایا اور اچھی آمدنی حاصل کی، چھ ماہ اجارے کی میعاد میں رہے تو اس نے کھیت میں ''جوار'' کی فصل کاشت کی اور کٹی کٹانیاں لے کر چھوڑ دیا، جوار کی فصل تو زمین کا خون چوستی ہے چنانچہ اجارہ ختم ہونے کے بعد جب کھیت اصل مالک کا ہوا تو ڈیڑھ دو سال تو اس میں اتنا بھی دم نہ تھا کہ گھاس کے سوا کچھ اور اُگا سکے، سچ کہا ہے کہ مالک مالک ہوتا ہے اور گوالا گوالا ہوتا ہے۔