علی بابا کے ساتھ بے انصافی

یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ علی بابا کو چوروں میں شامل کیا جاتا ہے صرف شامل ہی نہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq April 23, 2016
[email protected]

ISLAMABAD: پاکستان میں جو بے پناہ بے انصافی الف لیلیٰ کی قدیم کہانی والے ''علی بابا'' کے ساتھ ہو تی ہے اس پر ہمارا چپ رہنا قطعی ناممکن ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے، سنے سمجھے یا لکھے

نہ کہیو طعن سے پھر یہ کہ ہم ستمگر ہیں
مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے

یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ علی بابا کو چوروں میں شامل کیا جاتا ہے صرف شامل ہی نہیں بلکہ یوں ظاہر کیا جاتا ہے جیسے علی بابا ان چالیس چوروں کے سردار رہے ہوں حالانکہ علی بابا کے لیے اگر کوئی لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تو وہ ''مور'' ہے جو چوروں پر پڑ گیا تھا۔ یہ تو ایسا ہے جیسے کسی احتساب یا اینٹی کرپشن والے کو کرپٹوں کا ''سردار'' مانا جائے، امر واقعہ کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو لیکن موروں کو چوروں میں بالکل بھی شامل نہیں کیا جا سکتا ہے، علی بابا درحقیقت ''مور'' تھے لیکن ایسے صابر و شاکر ''مور'' کہ صرف ایک گدھے پر قناعت کر گئے ورنہ اس غار میں علاج تنگی دامان بھی تھا، ہاں البتہ اس کے بھائی قاسم نے مور کے بجائے ڈومور ڈومور کا وطیرہ اپنا لیا تھا۔

اس لیے چوروں نے اس کے ڈومور ڈومور ٹکڑے کر ڈالے تھے جیسا کہ اکثر احتساب والوں کے ساتھ بھی ہو جاتا ہے، ڈومور ڈومور کا چسکا جن کو پڑ جاتا ہے ان کا انجام قاسم جیسا ہو جاتا ہے، ''قاسم'' کا مفہوم ہے تقسیم کرنے والا، بانٹنے والا اور حصے بخرے کرنے والا ۔۔۔۔ اور اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ غار چوروں کا ہو یا کرپٹوں کا وہاں ڈومور ڈومور کا چانس نہیں لینا چاہیے ورنہ ''نو مور'' ہو جائے گا، عہدے سے یا زندگی سے ۔۔۔۔ ہمارے ہاں اب یہ اصطلاح بلکہ یہ غلط اصطلاح اتنی زیادہ مروج ہو گئی ہے کہ جہاں بھی چوروں کا ذکر آتا ہے اس سے پہلے علی بابا کا نام لیا جاتا ہے اور بہت بری بات ہے کیوں کہ اس سے ہم جیسے سادہ دل خدا کے بندوں کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ چور اور احتساب والے آپس میں شیر و شکر ہوتے ہیں، ایک شخص نے تربوز کھانے کے بعد لسی پی لی تو اس کے پیٹ میں درد ہو گیا ۔

کسی کو بتایا تو اس نے کہا کہ تمہیں پتہ نہیں تربوز اور لسی کی آپس میں نہیں بنتی، وہ شخص بولا'آپ جھوٹے ہیں دونوں کی آپس میں خوب لگتی ہے صرف میرے خلاف یہ ڈھونگ کر رہے ہیں، سنا ہے وہ شخص ''پاکستانی عوام'' کہلاتا تھا جو بیک وقت چوروں اور موروں میں پھنس گیا تھا خیر من جملہ ان تمام کنفیوژنوں کے ہم اس پر کمر تحقیق باندھ لی ہے کہ علی بابا اور چوروں کے درمیان رشتہ کیا تھا اور پھر ان دونوں کی نسلیں کہاں کہاں پھیل گئی ہیں اور ہاں اس اہم ترین کردار کو تو ہم بھول گئے مس مرجینا ۔۔۔۔ اور تو کچھ زیادہ ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے صرف نام اور پیشے کے بارے میں سرسری معلومات حاصل ہوئی ہیں، کہتے ہیں وہ علی بابا کی ''کنیز'' تھی کنیز؟ ہائے

کلکتہ کا جو نام لیا تو نے ہم نشین
اک تیرے میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

کنیز کا یہ نام بجائے خود اتنا شیرین و لذیذ ہے کہ دوسری تفصیلات کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، سنا ہے پرانے زمانے کے شیوخ نکاحوں کے محدود چار مواقع سے تنگ آ کر ان ہی کنیزوں سے ''علاج تنگی نکاح'' کیا کرتے تھے، بلکہ شفیق الرحمن یا یوسفی یا کرنل محمد خان میں سے کسی نے تو ان کنیزوں کا ایک اور استعمال بھی بتایا ہے ۔۔۔ کہیں لکھا ہے کہ عرب شیوخ جب محفل میں تشریف فرما ہوتے تھے تو کنیزوں کو بطور گاؤ تکیہ بھی استعمال کرتے تھے، ساتھ مزید لطف اندوز ہونے کے لیے ایک دوسرے کے یا کی گاؤ تکیے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے بھی کرتے تھے، لیکن یہ ''مس مرجینا'' کوئی عرب یا ایرانی یا ترکی نہیں تھی بلکہ اس کے نام سے ہندی نژاد ہونے کا گمان ہوتا ہے کیوں کہ ایک مشہور گانے میں اس کا ذکر آیا ہے کہ

''جینا'' یہاں ''مرنا'' یہاں
اس کے سوا جانا کہاں

اس مرجینا یا مرن جیوی کے بارے میں ثقہ راویوں سے پتہ چلا ہے کہ پیشے کے لحاظ سے وہ ''تلنے والی'' تھی چیزوں کو گرم تیل میں تلنا اس کا خاندانی پیشہ تھا جس میں پکوڑوں اور پودیوں کے علاوہ ذی روح اشیا کا ''تلنا'' بھی شامل ہے اور اسی بات سے علمائے تحقیق نے نتیجہ نکالا ہے کہ اس کا تعلق اس خطے سے تھا جو ''ماسا ہاری'' یعنی ''نان ویجیٹیرین'' علاقہ ہے یہ شاکھا ہاری ہندوستان سے الگ ایک مخصوص علاقہ ہے جہاں ہمہ اقسام کے جانداروں کا گوشت رغبت سے کھایا جاتا ہے، چاہے پکا ہو یا کچا ہو یا ابلا ہوا ہو یا بھنا ہوا ہو، بلکہ اگر چار پاؤں کے ہوں یا دوپیروں پر چلنے والی وہ مخلوق، جو ہو بہو انسانوں کے مشابہہ ہوتی ہے لیکن انسان نہیں کہلاتی عوام کے مخصوص نام سے یاد کی جاتی ہے۔

غالباً مرن جیوی یا مرجینا کا تعلق اسی طبقے سے تھا جو چڑیا مسلم، بٹیر مسلم اور مرغ مسلم کے ساتھ ساتھ بندہ مسلم بھی تل یا بھون کر کھاتا ہے چاہے وہ مسلم کے ساتھ مسلم ہی کیوں نہ ہوں، مرجینا اس سرزمین بغداد کے شہر میں کیسے پہنچی اس کی پوری تفصیل علامہ ابن بے طوطا نے اپنے سفر نامے میں یوں بتائی کہ کنیز پسندی یا کنیز خوری کی ان صدیوں میں کچھ سوداگر + شکاری لوگ ملکوں ملکوں پھرتے تھے اور جہاں کہیں کوئی کام کا دانہ ملتا اسے شکار کر کے لے جاتے اور مختلف سلاطین کے ہاتھوں مہنگے داموں بیچتے تھے ان سلاطین اور امراء کو ''کنیز کلیکشن'' بنانے میں یدطولیٰ حاصل ہوتا تھا اور اس سلطان یا امیر کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔

جس کے کنیز کلیکشن یا حرم میں ہر رنگ و نسل اور ملک و قوم کی کنیزیں شامل ہوتی تھیں۔ یہ سلسلہ ترکی کے آخری سلطان عبدالحمید پر آ کر ختم ہو گیا جس کے حرم یا کلیکشن میں مختلف اقوام و انسال کی ساڑھے چار ہزار کنیزیں شامل تھیں۔ اس لحاظ سے وہ اکبر اعظم سے بھی بڑا درجہ رکھتا تھا کیونکہ مغل اعظم کے حرم میں صرف ڈھائی سو کنیزیں تھیں۔ آخری مغل بادشاہ اورنگزیب عالم گیر تو اس معاملے میں کچھ بھی نہ تھا کیوں کہ اسے کنیزوں کے بجائے ایک اور شوق تھا کچھ ایسا ویسا مت سوچئے اسے ٹوپیاں سینے اور پھر ان ٹوپیوں کے لیے کٹے ہوئے سر جمع کرنے کا شوق لاحق تھا، مرجینا کے ''تلو'' خاندان کا تعلق اس خطے سے یوں بھی ثابت ہوتا ہے کہ ''تلنے'' کا رواج اب بھی یہاں ہے فرق صرف یہ ہے کہ سرسوں یا زیتون وغیرہ کے بجائے یہ کام بجلی گیس اور عربوں کے تیل میں کیا جاتا ہے۔

لیکن اس معاملے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ان چوروں کی اولاد بھی مرجینا کے پیچھے پیچھے پہنچ گئی لیکن سب سے بڑے اور مرکزی کردار علی بابا کا کوئی پتہ نہیں چلا کہ اس کا کیا بنا، چنانچہ ہٹلر کی طرح علی بابا کے بارے میں بھی طرح طرح کی باتیں مشہور ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ وہ مرجینا کو قید شریعت میں لا کر اس کے ساتھ یہاں آ گیا اور پھر اس کی اولاد صدیوں تک ''محاسب اعظم'' کے عہدے پر فائز رہ کر چوروں پر مور بنتے رہے۔ لیکن تازہ ترین معلومات کے مطابق علی بابا کی اولاد سوئٹرز لینڈ جا کر آباد ہوئی کیوں کہ وہاں چوروں کے بہت زیادہ غار پائے جاتے ہیں۔