کیا اس ملک میں ’’قوم‘‘ بھی ہے

کہتے ہیں کہ خدا ’’شکر خورے‘‘ کو ’’شکر‘‘ دے ہی دیتا ہے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq April 25, 2016
[email protected]

کہتے ہیں کہ خدا ''شکر خورے'' کو ''شکر'' دے ہی دیتا ہے۔ ایک عرصہ سے ہم دیکھ رہے تھے کہ ہمارے ہاں کے بیان بازوں، بیت بازوں اور قوالی بازوں کو کوئی اچھا سا، نیا سا اور دل چسپ سا موضوع نہیں مل رہا ہے اور بیچارے انھی پرانی گھسی پٹی قوالیوں پر گزارہ کر رہے ہیں۔ وہی دہشت گردی، وہی نیب و ریب کے لاحاصل قصے، وہی ایک دوسرے کی کھچائی بذریعہ بیانات... بے چارے لیڈر الگ پریشان، لکھاری اور اینکرز الگ حیران اور عام لوگ بے چارے الگ ناطقہ سر بگریباں ... وہی ستر سال سے جاری بیان بازیاں کوئی کب تک سہتا رہا ہے۔ نہ اخباروں میں کوئی کشش رہی تھی نہ چینلوں میں کوئی مزہ رہا تھا اور نہ ہی سیاسی جلسوں میں کچھ رونق شونق بن رہی تھی، گویا

عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی

بارے بندہ پریشان اللہ مہربان ۔۔۔ خدا پانامہ لیکس والوں کا بھلا کرے کہ اچانک نیا مال مارکیٹ میں ڈال گئے اور کچھ اس اہتمام کے ساتھ کہ ہر کسی کو کچھ نہ کچھ کہنے، کچھ نہ کچھ لکھنے اور کچھ نہ کچھ پڑھنے کو مل گیا۔ سب ویسے تو اس نئے موضوع پر نئی ''انتاکشریاں'' ہر جگہ اور ہر سطح پر چل رہی ہیں لیکن غالباً سب سے زیادہ فائدہ ہمارے کپتان صاحب کو ہوا ہے کہ ایک عرصے سے بے چارے کی دکان میں کوئی ''سودا'' موجود نہ تھا۔

خالی ڈبے کنستر کوئی کب تک کھڑکاتا، نہ کوئی دھرنے کی بات، نہ احتساب کی بات نہ ری ایکشن کی بات ۔۔۔ بیانات تو اب بھی دے رہے تھے لیکن بیانات میں وہ ''روح جلالی'' اور فکر ''غزالی'' نہیں رہی تھی۔ بے بصاعتی کے اس شدید دور میں اور تو اور حضرت طاہر القادری بھی کچھ نہیں بول رہے تھے۔

نہ جانے اسلام آباد میں انقلاب لانے کے بعد کس جہاں میں جا کر کھو گئے کہ صرف ان کی ''صحت'' کے بارے میں معلومات تو آ رہی تھیں باقی ۔۔۔۔ واں ایک خامشی ترے سب کے جواب میں ۔۔۔ ایسے میں ''پانامہ لیکس'' کا نیا مال اچانک مارکیٹ میں اترنا گویا بلی کے بھاگوں چھینگا ٹوٹنے والی بات ہو گئی۔ خاص طور پر ہمارے کپتان صاحب کی تو ایک ساتھ عید بھی ہو گئی اور شب برات بھی ۔۔۔ نہ صرف بیانات میں نیا زور پیدا ہوا بلکہ وہ ''دھرنے'' کا ''برہم اُسترا'' جو قریب قریب زنگ آلود ہو گیا ایک مرتبہ پھر چمکایا جانے لگا

جذبہ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

اس مرتبہ دھرنے کے لیے اسلام آباد کے علاوہ دوسرے کئی فیورٹ لوکیشن ان کی نظر میں ہیں۔ ہماری کوئی مانے گا نہیں ورنہ ہم تو کپتان صاحب کو مشورہ دیں گے کہ کسی خاص مقام کی جھنجھٹ ہی چھوڑ دیجیے پورے پاکستان کو ہی ''مقام دھرنا'' ڈیکلیئر کر دیجیے

دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم ''غیر'' ہمیں اٹھائے کیوں

جو جہاں ہے ہیں پر آلتی پالتی مار کر محو ''دھرنا'' ہو جائے کیونکہ مطلب تو کچھ منوانا ونوانا ہے نہیں صرف حکومت بلکہ صاب صاف لفظوں میں نواز شریف کی ٹانگ کھنیچنا ہے اور کہیں سے بھی کھنیچی جا سکتی ہے یعنی ؎ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ ویسے کافی عرصہ پہلے بھی ہمیں ایسا کوئی شک ہوا تھا جب باقیؔ صدیقی نے کہا تھا کہ

یوں بھی ہونے کا پتہ دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

یہ اب کہیں جا کر ہماری سمجھ میں آیا کہ باقیؔ صدیقی کس کے بارے میں بات کر رہے تھے بلکہ یہ ایک شعر نہیں دوسرا شعر بھی اب کہیں جا کر ہم پر منکشف ہوا ہے کہ

پہلے ہر بات پہ ہم بولتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں

تو یہ گویا ''قوم'' کی طرف اشارہ تھا لیکن ہم کچھ اور سمجھتے رہے، بلکہ یہ سن کر ہمارا تو کلیجہ گز بھر کا ہو گیا ہے کہ یہ جو ''قوم'' ہے یہ علی بابا اور چالیس چوروں کو مزید بالکل بھی برداشت نہیں کرے گی، خاص طور پر اس ٹولے کی حکومت ۔۔۔ اور وزیر صاحب کا بیان اس لیے بھی معتبر ہو جاتا ہے کہ وہ خود بھی حکومت میں ہیں۔

ویسے یہ جو قوم ہے جس کے بارے میں وزیر صاحب نے فرمایا ہے کہ علی بابا اور چالیس چوروں کی حکومت اب مزید برداشت نہیں کرے گی کچھ عجیب سی چیز ہے۔ خاص طور پر برداشت کے معاملے میں۔ وزیر صاحب کے بیان کے بعد جب ہم نے اس قوم کے بارے میں پتہ کیا جو ہمارے خیال میں موجود نہیں تھی اور وزیر صاحب نے ہماری یہ غلطی درست کر کے ثابت کیا کہ یہ قوم نہ صرف موجود ہے بلکہ بہت زیادہ موجود ہے یا اب اس پانامہ لیکس کے بعد تو یقیناً بہت زیادہ موجود ہو گئی ہے کیونکہ اب اس نے اپنے پرانے وتیرے یعنی برداشت کو برداشت نہ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔

اسے ہم ایک انقلاب ہی کہیں گے کیوں کہ دنیا میں اگر اس قوم کی کوئی ''خصوصیت'' مشہور ہے تو وہ ''برداشت'' کی بے پناہ خصوصیت ہے۔ پورے ستر سال سے ''اتنا کچھ'' برداشت کرنا ایک عالمی تو کیا کائناتی ریکارڈ ہے۔ سنا ہے دنیا کے اکثر ممالک کے لوگ حیران ہیں کہ آخر یہ ''قوم'' کس چکی کا آٹا کھاتی ہے، کس نلکے کا پانی پیتی ہے اور کس گینڈے یا کچھوے کا لباس پہنتی ہے کہ اس کی برداشت کی نہ کوئی حد ہے نہ حساب۔ اتنے زیادہ ناقابل برداشت واقعات و حادثات اور ''شخصیات'' اگر کوہ ہمالیہ پر پڑتے تو اب تک وہ ریزہ ریزہ ہو کر ''بحر ہند'' میں ڈوب چکا ہوتا بلکہ ہمالیہ کی جگہ پر اب ایک پاتال تک گہرا گڑھا بھی پڑ چکا ہوتا، یعنی

رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہیں وہ اگر شرار ہوتا

لیکن اب ایک وزیر کے باوثوق بیان سے پتہ چلتا ہے کہ آخر کار اس قوم گراں خواب نے بھی کروٹ لے ہی لی ہے اور اب وہ علی بابا اور چالیس چوروں کی حکومت ہر گز برداشت نہیں کرے گی کیا واقعی؟ کیا آپ کو یقین ہے؟