سوبھراج اسپتال میں لوڈشیدنگ مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ

6بچے انکوبیٹرز پر ہوتے ہیں، ڈاکٹرز ایمرجنسی لائٹ میںآپریشن کرتے ہیں.


Staff Reporter November 17, 2012
6بچے انکوبیٹرز پر ہوتے ہیں، ڈاکٹرز ایمرجنسی لائٹ میںآپریشن کرتے ہیں. فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کے ماتحت چلنے والے امراض نسواںکے سوبھراج میٹرنٹی اسپتال بجلی کی عدم فراہمی، ادویات کے فقدان سمیت دیگرمسائل کا شکار ہے۔

اسپتال میںیومیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث خواتین اور نومولودکی زندگیاں خطرے میں بتائی جاتی ہیں ، اسپتال میں یومیہ 24گھنٹوںکے دوران 3بار لوڈشیڈنگ کے باعث نرسری میں داخل نومولود اورآپریشن تھیٹر میں موجود خواتین کی زندگیاں بھی خطرے میںہیں جبکہ یومیہ لوڈ شیڈنگ کے دوران ڈاکٹرزایمرجنسی لائٹ کے ذریعے مریضوںکے آپریشن پرمجبور ہیں،اسپتال انتظامیہ نے بھی یومیہ ہزاروں روپے کا ڈیزل خریدنے سے انکار کردیا ،تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کے ماتحت چلنے والا سوبھراج اسپتال مختلف مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے،320 بستروں پر مشتمل اسپتال میں دن میں 3بار لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

بیشتر اوقات میں دوران آپریشن بجلی کی عدم فراہمی معمول بن گئی ہے، دوران آپریشن لوڈشیڈنگ کی صورت میں لیڈی ڈاکٹرز بڑی ایمرجنسی لائٹ کے ذریعے آپریشن کرنے پر مجبورہیں جبکہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اسپتال کی نومولود نرسری میں داخل متعدد بچوںکی زندگیاں خطرے میں ہیں، اسپتال میں موجود جنریٹرکیلیے ڈیزل خریدنے کے حوالے سے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران روزانہ کی بنیادوں پر ہزاروں روپے کا ڈیزل نہیں خریدا جاسکتا، اسپتال میں موجود لیڈی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے نے بتایا کہ بیک وقت3 آپریشن ہوتے ہیں جبکہ 6 سے زائد بچے انکوبیٹرز پر ہوتے ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آسکتا ہے،ڈاکٹروں نے بتایا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران جنریٹرکوچلایا جاتا ہے اور چندگھنٹوں میں ہزاروں روپے کا ڈیزل خرچ ہوجاتا ہے جبکہ بعض اوقات انتطامیہ جنریٹر چلانے سے گریزکرتی ہے جو خواتین مریضائوں کی زندگی کیلیے بڑا خطرہ ہے ۔