سندھ حکومت 4 سرکاری جامعات کو فنڈز کی فراہمی پر رضا مند

جامعہ کراچی کی سینیٹ کااجلاس، تجربہ گاہوں کی مرمت کیلیے کباڑی مارکیٹ سے سامان لا رہے ہیں شعبہ جاتی سربراہان.


Staff Reporter November 17, 2012
جامعہ کراچی کی سینیٹ کااجلاس، تجربہ گاہوں کی مرمت کیلیے کباڑی مارکیٹ سے سامان لا رہے ہیں شعبہ جاتی سربراہان. فوٹو: فائل

حکومت سندھ نے مالی خسارے کاشکارجامعہ کراچی سمیت صوبے کی4سرکاری جامعات کوفنڈزکی فراہمی پررضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

جامعہ کراچی سمیت دیگرسرکاری جامعات کوفنڈزکی فراہمی کی سفارش صوبے کی سرکاری جامعات کے چانسلراورگورنرسندھ عشرت العباد خان نے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے ایک تحریری خط کے ذریعے کی تھی، یہ بات جامعہ کراچی کے وائس چانسلرڈاکٹرمحمد قیصرنے جامعہ کراچی کے فیصلہ ساز ادارے سینیٹ کے اجلاس کے موقع پربتائی، سینیٹ کااجلاس 2012-13کے سالانہ بجٹ کی منظوری کیلیے بلایاگیاتھا، دوران اجلاس خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے شعبہ جات کے سربراہوں نے ایچ ای سی کی جانب سے فنڈزکی کٹوتی اوریونیورسٹی انتظامیہ کے تحت فنڈزنہ دینے پرکڑی تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ وہ شعبوں اورتجربہ گاہوں کی مرمت کیلیے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ سے کباڑلاکرتجربہ گاہیں تیارکرارہے ہیں، اجلاس کے دوران اساتذہ نے جامعہ کراچی کے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے رویے اورکارکردگی پرتنقید کی۔

اجلاس سے جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ کے رکن اورسینیٹرعبدالحسیب خان،پروفیسرفیاض وید،پروفیسرمونس احمر، پروفیسر عابد حسنین،پروفیسرخالد عراقی، پروفیسر منیر مہدی،پروفیسرجمیل احمدکاظمی،پروفیسراحمد قادری اور پروفیسر مطاہر شیخ سمیت دیگرنے بھی اظہارخیال کیا، جس کے بعد جامعہ کراچی کے ڈائریکٹرفنانس قاضی ظفرعباس کی جانب سے رواں مالی سال کے 2ارب 78کروڑ50لاکھ روپے خسارے کا پیش کیا گیابجٹ منظورکرلیا گیا،ڈائریکٹرفنانس کی جانب سے اجلاس کوبتایاگیاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے گذشتہ دومالی سال سے تنخواہوں اورالائونسز میں اضافے اورایچ ای سی کی جانب سے گرانٹ میں کٹوتی کیے جانے کے سبب رواں مالی سال کے بجٹ میں یونیورسٹی کو99کروڑ 80 لاکھ روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

اجلاس کے آخر میںسینیٹرعبدالحسیب خان نے ہائوس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرجامعہ کراچی کے اساتذہ اورانتظامیہ ان کاساتھ دیں تووہ یونیورسٹی کے مالی مسائل کامقدمہ حکومت سندھ اورسینیٹ میں پیش کریں گے تاہم انھیں اس حوالے سے مکمل اعدادوشمار فراہم کیے جائیں جس کے بعد شیخ الجامعہ ڈاکٹرمحمد قیصرنے انھیں بجٹ اوراخراجات کے حوالے سے تمام تفصیلات جلد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی، اجلاس میں کالج اساتذہ کی جانب سے الحاق شدہ سرکاری کالجوں میں بی کام کی نشستوں میں اضافے کابھی مطالبہ کیا گیا ۔