اگر منافقت نہ ہوتی

کچھ باتیں بلکہ آپ سے کیا پردہ بہت سی باتیں صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq May 05, 2016
[email protected]

KARACHI: کچھ باتیں بلکہ آپ سے کیا پردہ بہت سی باتیں صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہیں، ڈائیلاگ اور تقریروں میں بھی مزہ دے جاتی ہیں لیکن عملی طور پر ان باتوں کو اپنے آپ پر یا معاشرے پر لاگو کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا، اب اس نہایت بدنام زمانہ، رسوائے عالم اور ننگ جہاں ''منافقت'' کو لے لیجیے جسے الٹا جائے تو جھوٹ بھی کہا جا سکتا ہے، بظاہر نہایت ہی بری اور ناپسندیدہ چیز ہے، خاص طور پر کتابوں میں تو اس پر ہر طرف سے ''تھو تھو'' ہی ہوتی ہے لیکن حقیقت میں دیکھئے تو زمانے کے سارے رنگ، لوگوں کے سارے ڈھنگ اور معاشرے کے خوش رنگ یہی منافقت ہی تو ہے، اسے زندگی سے نکال دیجیے تو باقی کچھ بچتا ہے تو وہ لڑائی اور جنگ ہی تو ہے۔

اگر ہم غلط کہہ رہے ہیں تو آپ صرف ایک دن کے لیے اسے ترک کر دیجیے، صرف صبح سے شام تک اس سے مکمل پرہیز کر کے منہ نہ لگایئے، اگر شام کی اذان سے پہلے پہلے ہی سارے دوست اور رشتہ دار آپ کے پیچھے لٹھ لے کر نہ دوڑنے لگیں تو وہی لٹھ لے کر ہمارے پیچھے دوڑنے لگئے گا، اور تو اور جس دن منہ سے لگی ہوئی یہ کافر چھوٹ گئی اسی دن تمام سیاسی لیڈران کرام اور خادمان عظام کی بے وقت موت واقع ہو جائے گی۔ آج کل تو کسی کے اچانک مر جانے پر لوگ کہتے ہیں کہ دل کا دورہ پڑ گیا ہے پھر ہر طرف یہی باتیں ہوں گی کہ بے چارے کو اچانک منافقت نہ کرنے کا دورہ پڑ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چٹ پٹ ہو گیا، خدا بخشے یہی ایک ''خوبی'' تھی مرنے والے میں، وہ بھی چھوڑتے ہی دم نکل گیا

جھوٹی سی زندگی تھی اور عیب کے رات دن

دم لینے کو جو رک گئے تو دم نکل گیا

حالانکہ علمائے موت و حیات اور حکمائے ذاتیات کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ لیڈران کرام اور خادمان عظام بڑے سخت جان ہوتے ہیں چلو بھر پانی تو کیا اگر سمندر میں بھی ڈبو دیجیے تو تھوڑی دیر بعد سمندر کو اپنی جیب کے کوزے میں بھر کر ہاتھ ہلاتے ہوئے برآمد ہوں گے، لیکن یہ اتنی سخت جاں مخلوق بھی ایک سانس تک لینے نہ پائے اگر دوسری سانس میں منافقت چھوڑنے کا یقین ہو جائے، جملہ تھوڑا سا غلط ہو گیا منافقت چھوڑنے کے لیے نہیں اگر منافقت ان کو چھوڑنے کی دھمکی دے کر داغ مفارقت دے جائے

ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے

مرنے والا کوئی، زندگی چاہتا ہو جیسے

اور یہ صرف سیاست کی دنیا تک محدود معاملہ نہیں اگر ایک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہنے والے اور ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے والے میاں بیوی کو بھی (چاہے ان کی لو میرج ہی کیوں نہ ہوئی ہو) اس ''ٹانک'' سے محروم کیا جائے تو ایک دوسرے کو کاٹنے بلکہ کاٹ کھانے کو دوڑ دوڑ جائیں، اور جہاں یہ ''امرت دھارا'' میسر ہو وہاں

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے

جاں کا بعد صورت دیوار میں آئے

ہم منافقت کی وکالت نہیں کر رہے ہیں آپ سب کی طرح ہم بھی اسے سخت ناپسند کرتے ہیں اس سے نفرت کرتے ہیں اور اسے گناہ عظیم سمجھتے ہیں (اگر دوسرے کر رہے ہوں تو) لیکن کیا کیا جائے اس کی ضرورت اہمیت اور لازمیت سے انکار بھی تو نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آخر ہر کسی کو ''جینا'' تو پڑتا ہی ہے اور اس کے بغیر جینا... ناممکن امپاسیبل، لایمکن، جس کی زندگی میں یہ دولت عظمیٰ نہ ہو یوں سمجھئے کہ وہ زندہ ہی نہیں ہے

ترے بن سونا پیتل

ترے سنگ پیتل شیتل

اور یہ ہم کوئی سنی سنائی پڑھی پڑھائی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے اوپر بیتی ہوئی بیان کر رہے ہیں۔ ایک دن ایک ''عالم دین'' کی تقریر سن کر ہم نے اسی وقت توبہ کر لی کہ آیندہ اس کم بخت منافقت کو منہ ہاتھ تو کیا انگلی بھی نہیں لگائیں گے لیکن جیسے ہی مسجد سے نکلتے ہوئے جوتے پہننے لگے اس مولانا سے ٹاکرا ہو گیا، صرف دو باتیں کیں بغیر ''منافقت'' کے ... اور ہم پر کفر کا ٹھپہ لگ چکا تھا۔ ویسے ہم اکثر سوچتے ہیں کہ اگر دنیا میں یہ امرت دھارا نہ ہوتا تو دنیا کیا سے کیا ہو جاتی ... دنیا میں تعلق اور رشتوں کا نام و نشان نہ ہوتا اور ... یہ سارے ''شکسلے'' پہچان لیے جاتے، اور ہر کوئی گاتا پھرتا کہ

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کہ کچھ لوگ پہچانے گئے

خاص طور پر معاشرے کا یہ جو سب سے بڑا اور عظیم الشان سبز باغ جو سیاست کے نام سے لہلہا رہا ہے اس کی جگہ ایک دشت بے آب و گیاہ بن چکا ہوتا، زندہ باد مردہ باد کے بجائے برباد برباد کے نعرے لگتے اور سارے لوگ باہم دگر ''گوشت چھری'' ہو جاتے، اسی لیے تو ایک نہایت ہی پہنچے ہوئے بزرگ نے کہا ہے کہ

پرکھنا مت پرکھنے سے کوئی اپنا نہیں رہتا

کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا

گویا دنیا میں اس وقت جو رنگ ہیں وہ سب کے سب پھیکے پڑنا تو کیا ایک دم اڑ چکے ہوتے۔ ہم ایک مرتبہ پھر عرض کر دیں کہ چیز اچھی بالکل نہیں ہے یہ منافقت نہایت بری بری چیز ہے لیکن اگر یہ بات صرف تحریر و تقریر اور قلم و کالم تک رہے تو اچھا ہے کیونکہ کوئی کچھ بھی آسمان کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے زمین کی اس واحد فصل بلکہ ''کیش کراپ'' کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا، کم از کم آج تک تو یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ کتنی کتابیں آئیں کتنے ڈراوے آگئے، کتنے عذاب اترے لیکن یہ کم بخت آج بھی چیلنج کرتے ہوئے کھڑی ہے کہ ہم سا کوئی ہو تو سامنے آئے، میں ایک تناور پیڑ کی طرح کھڑا ہوں آکر بہار و خزاں بگاڑ لے میرا جو کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر انسان کے ہاتھ یہ سنگ پارس نہ لگتا تو کیا ہوتا، اگر اب بھی کوئی جادو کے زور سے یہ نعمت عظمیٰ انسان کے ہاتھ سے چھین لے تو؟ ... اس ''تو'' کے بعد کا تصور بھی انسان کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے

نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ ''مے خانہ''

تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی

تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

وہ تو خدا نہ کرے خدا نہ کرے اگر انسانوں کا یہ بھرم کھل جائے کہ ''سچ کا بول بالا ہوتا ہے'' سچائی کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے اس لیے پردے میں رہنے دو پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا۔