رنگا رنگ کی فہمیاں
سب سے پہلے تو ہمیں اس بات پر ’’اپنی پیٹھ‘‘ خود ہی ٹھونکنے دیجیے کہ ہم بھی کچھ ہیں۔
سب سے پہلے تو ہمیں اس بات پر ''اپنی پیٹھ'' خود ہی ٹھونکنے دیجیے کہ ہم بھی کچھ ہیں۔ بہت کچھ نہ سہی کسی ''کچھ'' کے رشتے دار بھی نہ سہی اور تعلق دار بھی نہ سہی لیکن کچھ یا چلیے تھوڑا سا ''کچھ کچھ'' تو ہیں اور یہ غلط فہمی یا خوش فہمی یا صحیح فہمی ہمیں ان خطوط سے ہو گئی ہے جو اب ہم نے اپنے کالم میں من و عن شایع کرنا تو بند کر دیے ہیں لیکن پھر بھی ان میں کچھ نہ کچھ بات ایسی نکل آتی ہے کہ اس سے بات بلکہ باتیں نکل سکتی ہیں، ادھر کوئی خط ہمارے کالم میں چھپا نہیں اور ادھر حکومت کے ایوانوں میں بھونچال برپا نہیں ہوا حالانکہ جہاں تک ہمارا اندازہ ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا نہ ہی ''ان لوگوں'' کو ''اس طرح'' کے کام کرنے سے اتنی فرصت ہے کہ ہمارا کالم پڑھ بھی لیں وہ تو سب کے سب۔
آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
لیکن پھر بھی کم از کم ہمیں تو یہ ''فہمی'' ہو جاتی ہے کہ ہم پورے پورے ہم ہیں ورنہ ہمارے اردگرد یہ خوش فہمیوں، غلط فہمیوں،کم فہمیوں اور نہ فہمیوں کا اتنا بڑا جمگھٹا کیوں لگا رہتا، ویسے بھی انسان کے ''جینے'' کا سارا دارومدار انھی ''فہمیوں'' پر ہے، خدا نخواستہ اگر یہ ''فہمیاں'' نہ ہوتیں تو یہ ''حضرت کالیا'' جو دوسری فہمیوں کے ساتھ ساتھ اس فہمی میں بھی مبتلا ہے کہ وہ انسان ہے حالانکہ پیر و مرشد بہت پہلے فرما گئے ہیں کہ
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
مطلب یہ کہ انسان ہونا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے کہ دو آنکھیں دو کان ایک ناک اور دو ہاتھ پیر لگا کر ہر کوئی کہنے لگے کہ میں بھی انسان ہوں، وہ ایک شخص کا روزگار ''میتوں'' کے سقاط اور بعد از مرگ تقسیمات پر تھا ، جب ایک مرغن سی میت کو بھگتا کر لوٹا تو اپنی چادر کے چاروں کونوں کی بھاری گانٹھیں بیوی کے سامنے چارپائی پر پھینکتے ہوئے بولا، میت اسے کہتے ہیں یہاں ہر کوئی ٹانگیں پسار کر بولتا ہے کہ میں ''میت'' ہوں جھوٹے کہیں کے، تو جس طرح ہر ''میت'' کو میت نہیں کہا جا سکتا اسی طرح ہر دو ٹانگوں والی مخلوق کو انسان بھی نہیں کہا جا سکتا، زیادہ سے زیادہ اسے آدمی یا کالیا کہہ سکتے ہیں کہ تیرا کیا بنے گا کالیا ۔
کیا ہم نے انسان نہیں دیکھے ہیں؟ بہت سارے دیکھے ہیں آپ نے بھی دیکھے ہوں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ آپ ان میں سے ہوں جن کو آئینے میں بھی انسان دکھائی دیتے ہیں لیکن نہ ہر آدمی انسان ہوتا ہے اور نہ ہر کسی کے پاس آئینہ ہوتا ہے بلکہ اکثریت کے پاس تو آنکھیں بھی نہیں ہوتیں اور ان آنکھوں کے پیچھے دھرے ہوئے ''فٹ بال'' میں بھی کچھ نہیں ہوتا، ایسے نمونے جن کو اپنے انسان ہونے کی ''فہمیاں'' ہوتی ہیں ، اصل میں ووٹ اور ہندسے ہوتے ہیں یا دل کو خوش رکھنے کے لیے کوئی اور اچھا سا نام بھی رکھ لیتے ہیں، جیسے اب ہمارے سامنے ایسے ہی خوش فہمیوں کے گروہ کا ایک خط پڑا ہوا ہے ان بے چاروں کو شاید اور کوئی ٹائٹل نہیں ملا تو خود کو آل ''پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن'' کہہ کر اس خوش فہمی میں پڑ گئے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں حالانکہ یہ اگر اس سے بھی زیادہ ہو کر آل پاکستان کے بجائے آل ورلڈ یا آل یونیورس پنشنرز بھی ہوتے تو کسی کا کیا بگاڑ لیتے۔
غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
خود تو فہمیوں کے مارے ہوئے تھے ہی ہمیں بھی اپنے ساتھ لپیٹ میں لے لیا، ان کا شاید خیال ہو کہ ہم نے اگر ان کے ساتھ ان کا رونا رویا تو آسماں گر پڑے گا، زمین پھٹ جائے گی، ہمالیہ دھول بن کر اڑ جائے گا اور بحر ہند اچھل کر ہمالیہ بن جائے گا، اس سے بڑی خوش فہمی بلکہ غلط فہمی بلکہ جہالت فہمی اور کیا ہو گی کہ ان کا خیال ہے کہ اگر ہم نے ان کی فریاد ذرا فل والیوم پر نشر کر دی تو سرکاری محکموں میں کھلبلی مچ جائے گی فوراً نوٹس لیے جائیں گے۔ محکموں کے محکمے اور دفتر کے دفتر تہہ و بالا ہو جائیں گے اور ان کے ''آنسو'' خشک ہونے سے پہلے پہلے ان کا حق ان کی ہتھیلیوں پر دھر دیا جائے گا کہ سوری ہمیں پتہ نہیں تھا، غالباً اس خوش فہمی کی جڑیں اس بے خبری میں ہیں کہ ان کی آواز ''اہل حکم'' کے کانوں تک پہنچی نہیں ہے اور جیسے ہی ہم یہ آواز پہنچائیں گے، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
ان کی ریسٹوریشن بھی بحال ہو جائے گی، بیمہ کی رقم کی جو کٹوتی ہوتی رہی ہے وہ بھی ہاتھوں ہاتھ مل جائے گی، حکومت اپنے سارے کام چھوڑ چھاڑ اسی کام میں لگ جائے گی، ان کے کوئی لیڈر ہیں ڈاکٹر سید غلام، ان کو تو ضرورت اور گنجائش دونوں سے کچھ زیادہ ہی ''فہمیاں'' لاحق ہیں چنانچہ اب انھوں نے ہم سے رجوع کیا ہے، اس فہمی کے ساتھ کہ ہم اگر کالم میں ان کے مطالبات کا ذکر کریں گے تو بے چارے معصوم بے خبر سرکاری حکام اس کالم کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے پہلے تو فوراً نوٹس لیں گے پھر اگر لیٹے ہوں گے تو بیٹھ جائیں گے۔
بیٹھے ہوں تو کھڑے ہو جائیں گے کھڑے ہوں گے تو چل پڑیں گے اور چل رہے ہوں گے تو دوڑ پڑیں گے فوراً فائلوں کے قبرستان میں کھدائی شروع کر دیں گے اور آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن کی مردہ فائلیں نکال کر ان پر ''چف'' کریں گے اور وہ ساری کی ساری زندہ ہو کر ادھر ادھر بھاگنے لگیں گی، اس خدا کے سادہ دل بندے کو سب سے بڑی اور موٹی ''فہمی'' یہ ہے کہ سرکاری حکام یعنی ارباب بست کشاد صبح سویرے منہ اندھیرے جاگ ہمارے کالم کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں اور جیسے ہی اخبار آتا ہے یہ اس پر پل پڑتے ہیں۔
کاپی پنسل ان کے پاس ہوتا ہے اور نوٹس لینے میں لگ جاتے ہیں، ارے خدا کے سادہ دل بے خبر اور بھولے بادشاہ آدمی، ان بے چاروں کو پتہ ہے کتنے کام ہوتے ہیں رات گئے تک تو عوام کے غم میں ان کو نیند نہیں آتی پھر ان غموں کو سرہانے رکھ کر سو جاتے ہیں تو دوسرے دن کہیں بعد دوپہر ان کی آنکھ کھلتی ہے پھر واش روم جاتے ہیں حوائج ضروریہ اور لباس وغیرہ پہن لیتے ہیں تو چمچوں کی قطار منتظر کھڑی ہوتی ہے، ان چمچوں سے نپٹ کر قریب قریب شام کو دفتر جاتے ہیں بشرطیکہ کہ کوئی دورہ کوئی جلسہ اور کوئی تقریب نہ ہو، دفتر میں میٹنگ ہوتی ہے جو رات گئے چلتی رہتی ہے پھر ڈنر کا وقت ہوتا ہے جس کے بارے میں اکبر الہ آبادی نے تشریحاً بتایا ہے
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ
ان کے اوپر کام کا اتنا بوجھ ہوتا ہے کہ تقریباً اپنے آدھے سے زیادہ کام انھوں نے اپنے بھائیوں بیٹوں اور دامادوں کے سپرد کر رکھے ہوتے ہیں ایسے میں آپ ہی بتائیں کہ سر درد یعنی ہمارے کالم اور آپ کے مطالبات کے لیے ٹائم کہاں سے لائیں، بتائیں بتائیں اور پھر یہ کس احمق نے آپ سے کہا ہے کہ ان کو آپ کے مطالبات کا پتہ نہیں ہے انھی نے تو ان کو اپنی ران تلے دبایا ہوا ہوتا ہے کیا اپنی ران اور اس نیچے دبے ہوئے مال مصالحے کے بارے میں وہ بے خبر ہیں جو آپ ہمیں اپنے کالم کے ذریعے ''خبردار'' کرنے کو کہہ رہے ہیں، جگایا تو اسے جاتا ہے جو سویا ہوتا ہے اور جو جان بوجھ کر کانوں میں تیل ڈالے بیٹھا ہو انھیں کون جگائے کیسے جگائے اور کس لیے جگائے۔