اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض
بولنے والے بونے اور کاٹنے والے کٹرپلر … اور ستر سال سے صرف برداشت کا ہی کاروبار چل رہا ہے
گذشتہ کسی کالم میں ہم نے ''برداشت'' کے بارے میں بات کی تھی اور ان تمام دانا دانشوروں، اینکروں، ٹینکروں، تجزیہ نگاروں اور ''ہم کہاں کھڑے ہیں'' والوں کی یہ بات پکے وٹے غلط ثابت کی تھی کہ پاکستان میں ''برداشت'' نہیں ہے بلکہ الٹا یہ ثابت کیا تھا کہ پاکستان میں برداشت ہی برداشت ہے اور برداشت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے کہ اس ملک میں صرف دو ہی فریق ہیں۔
بولنے والے بونے اور کاٹنے والے کٹرپلر ... اور ستر سال سے صرف برداشت کا ہی کاروبار چل رہا ہے کچھ ہیں جو ''برداشت'' ہوتے ہیں اور کچھ ہیں جو ''برداشت'' کرتے ہیں، اور اب ایک ایسا یہ مسئلہ درپیش ہے جو دو لفظوں حقوق و فرائض کے گرد گھومتا ہے اور ایسا گھومتا ہے کہ واہ کیا گھومتا ہے یہ بھی ان ہی دانا دانشوروں، اینکروں، ٹینکروں اور بینکروں ہی کی اڑائی ہوئی افواہ ہے کہ پاکستان کے لوگ حقوق و فرائض کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، حالانکہ ہماری تحقیق یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی حقوق و فرائض کے بارے میں جانتا ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستانی ہیں اور یہ ہم کوئی سنی سنائی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ باقاعدہ تحقیق و تدقیق اور تجربات کے بعد کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں حقوق و فرائض کے بارے میں جتنا پاکستانی جانتے ہیں اتنا اقوام متحدہ کا وہ کیا ہے جسے دنیا کا ''وزیراعظم'' بھی کہا جاتا ہے بلکہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ نوم چومسکی، بل گیٹس، انجلینا جولی اور کنڈولیزا رائس بھی حقوق و فرائض کے معاملے میں اتنی جانکاری نہیں رکھتے ہوں گے۔
دنیا میں جتنے ممالک ہیں اور پھر ان میں جتنے بھی عالم فاضل ذہین و فطین اور دانا دانشور لوگ ہیں وہ حقوق و فرائض کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ جانتے ہوں گے کہ حقوق جو ہوتے ہیں وہ حقوق ہوتے ہیں اور فرائض فرائض ہوتے ہیں، اگر کسی نے بہت زیادہ محنت اور زیادہ کی ہو گی تو اس کی جانکاری اس حد تک بڑھ گئی ہو گی کہ میرے حقوق کیا ہیں اور فرائض کیا ہیں، مطلب یہ کہ اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن پاکستانی ... کیا بتائیں ان کے پاس تو علم کا وہ بھنڈرا ہے کہ پیدائشی طور پر ان کو ودیعت ہوا ہے چنانچہ یہ اپنے سے باہر نکل کر یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے حقوق کیا ہیں اور دوسروں کے فرائض کیا ہیں۔
بظاہر یہ چھوٹی سی بات نظر آرہی ہے لیکن یہ چھوٹی بات ہی بہت بڑی بات ہے اس بے پناہ مصروفیت کے زمانے میں بھلا کس کو پڑی ہے کہ دوسروں کے بارے میں جانتا پھرے، صرف اپنا پاجامہ ادھیڑ کر سی لے تو یہ بھی بہت ہے لیکن شاباش آفرین ہے اور واہ واہ ہے پاکستانیوں پر ... کہ دوسروں کے پاجامے بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر ادھیڑتے اور سیتے رہتے ہیں۔ دنیا میں اتنا مخلص اور نیک اور کون ہو سکتا ہے کہ اپنے ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھے چنانچہ پاکستانی سب کے سب یہ جانتے ہیں کہ ''ان کے'' حقوق کیا ہیں اور ''دوسروں'' کے فرائض کیا ہیں اور اس پیمانے پر اگر ہم باقی دنیا سے پاکستانیوں کا موازنہ کرنا چاہیں تو نمبر ون کی پوزیشن پاکستانیوں کو ہی ملے گی، یوں کہیے کہ حقوق و فرائض کے معاملے میں باقی دنیا کے لوگ ''سنگل فیز'' یا ون وے دماغ رکھتے ہیں جب کہ پاکستانیوں کو ڈبل اعزاز اور علم حاصل ہے۔
یہ سنگل فیز اور ون وے علم نہیں تو اور کیا ہے کہ باقی دنیا کے لوگ یا تو صرف حقوق کے بارے میں جانتے ہیں اور یا صرف فرائض پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور اگر تھوڑا بہت جانتے بھی ہیں تو صرف اتنا کہ ہمارے اپنے حقوق و فرائض کیا ہیں، آپ یقین نہیں کریں گے کہ علم و جانکاری کے بڑے بڑے مدعی ممالک جیسے امریکا برطانیہ وغیرہ کے لوگ بھی اپنے حقوق و فرائض جاننے تک محدود ہیں جب کہ پاکستانی اپنے اور دوسروں دونوں کے بارے میں جانتے بھی ہیں پہچانتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں ان کو ٹھیک ٹھیک یہ علم حاصل ہے کہ ہمارے حقوق کیا ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ زبردست جانکاری بھی رکھتے ہیں کہ دوسروں کے فرائض کیا ہیں۔ پاکستانی بچہ پیدا ہوتے ہی یہ جان جاتا ہے کہ میرے حقوق کیا ہیں اور والدین یا آیا کے فرائض کیا ہیں۔
بلکہ یوں کہیے کہ جس طرح بطخ اور مچھلی کے بچے پیدا ہوتے ہی تیرنے لگتے ہیں اسی طرح ہر پاکستانی پیدا ہونے کے ساتھ ہی اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض ازبر کر کے آتا ہے اور پھر چونکہ کلمہ حق کے بھی رسیا ہوتے ہیں اس لیے ہر وقت ہر جگہ اور ہرکسی کے سامنے اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں کہ میرے حقوق کیا کیا ہیں اور دوسروں کے فرائض کی فہرست کیا ہے، کسی عالم فاضل جو ساتھ ہی دانا دانشور اور اینکر و تجزیہ نگار بھی ہے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ چونکہ ہر پاکستانی کو پیدائش سے پہلے بذریعہ آئی ایم ایف ایسے انجکشن دیے جاتے ہیں جو اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض پر مبنی ہوتے ہیں اس لیے ان کو سکھانے بتانے یا یاد کرانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کہ اس کے حقوق اور دوسروں کے فرائض کیا ہیں۔
ایک زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ غلط سلط باتیں شروع کی ہوئی تھیں کہ کاش پاکستانی ''اپنے فرائض'' کے بارے میں بھی اتنا جانتے جتنا کہ دوسروں کے فرائض کے بارے میں علم سے بھرپور ہوتے ہیں اور اتنا ہی دوسروں کے حقوق کے بارے میں بھی جانتے ہوتے جتنا کہ اپنے حقوق کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں لیکن ان لوگوں کو آئی ایم ایف کی مدد سے اسی وقت کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا یہ کہتے ہوئے کہ آخر پاکستانی بے چارے انسان ہیں کوئی دیو نہیں ہیں کہ ڈبل ڈبل کام کریں، اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کا بار بھی دھوئیں اور دوسروں کے فرائض کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کا اوور ٹائم بھی لگائیں، حقوق و فرائض کے بارے میں ہم پاکستانیوں کی آگاہی کا یہ عالم ہے کہ اور تو اور ان کو حکومت کے فرائض کے بارے میں بھی تفصیلی علم ہوتا ہے چنانچہ اخباروں میں آپ کوئی سا بھی کالم مضمون یا اداریہ اٹھا کر دیکھیں نہایت تفصیل کے ساتھ ان میں حکومت اور عوام دونوں کو ان کے فرائض یاد دلائے جاتے ہیں۔
دراصل حب الوطنی اور ''اپنی حکومت'' کے ساتھ جذبہ یک جہتی اور جذبہ حب الوطنی کا تقاضا ہی یہ ہے کہ حکومت کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اسے اپنے فرائض یاد دلائے جاتے ہیں اور جب حکومت اپنا فرض ادا کر دے تو پھر بعد میں اپنے حقوق کا مظاہرہ کریں مثلاً ایک بستی ہے جہاں باسیوں کو سڑک کی سخت ضرورت ہے۔
یاد دلانے پر حکومت اپنا فرض نبھاتے ہوئے سڑک تعمیر کر دیتی ہے جب لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ حکومت نے اپنے فرائض پورے کر دیے ہیں تو پھر کہیں جا کر یہ بے چارے اپنے حقوق کی طرف توجہ دیتے ہیں اس سڑک میں ''بریکر'' کھڑے کر دیتے ہیں اور ایک شخص کا حق ہے کہ اپنے دروازے کے سامنے بریکر بنا دے تو ساتھ والے پڑوسی کو بھی اپنے حقوق سے آگاہی ہوتی ہے چنانچہ وہ اس سے بھی اونچا بریکر بنانا ضروری سمجھتا ہے اس طرح اپنے حقوق کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک کو ''محفوظ'' بنا لیتے ہیں، آنے جانے سے محفوظ بریکروں سے مزین سڑک تو اپنی جگہ پڑ جاتی ہے پھر گھروں تک پانی کی سپلائی کا فرض بھی حکومت پورا کر چکی ہوتی ہے اس لیے ہر گھر والے اپنے حقوق کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ پانی سڑکوں پر بہانا شروع کر دیتے ہیں، مطلب اس ساری بحث کا یہ ہے کہ ... پاکستانی لوگ دنیا بھر میں اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔