ایڈیلیڈ‘ کینگروز اور پروٹیز پلیئرز لفظی جنگ کیلیے بھی تیار

حد کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کوغصہ دلانے میں کوئی ہرج نہیں ہے، مائیک ہسی


Sports Desk November 19, 2012
حد کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کوغصہ دلانے میں کوئی ہرج نہیں ہے، مائیک ہسی فوٹو : فائل

ایڈیلیڈ میں کینگروز اور پروٹیزکے درمیان بیٹ و بال کیساتھ لفظی جنگ بھی عروج پر ہوگی۔

دونوں ٹیموں کو کچھ توانائیاں فقرے بازی کے تیروں کا توڑ کرنے پر بھی صرف کرنا ہوں گی، آسٹریلوی مڈل آرڈر بیٹسمین مائیک ہسی کا کہنا ہے کہ حد کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کوغصہ دلانے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹیسٹ کی سیریز کا دوسرا مقابلہ جمعرات سے ایڈیلیڈ میں شروع ہوگا، اس سے قبل برسبین میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے آخری روز فیلڈ پر کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی گرما گرمی کی آنچ ایڈیلیڈ میں بھی محسوس کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

گابا اسٹیڈیم میں جیمز پیٹنسن نے گریم اسمتھ کو فقرے کس کر اکسایا،ہاشم آملا کو بھی کینگروز نے اپنے زبانی تیروں کا نشانہ بنایا جبکہ خود اسمتھ نے بھی میزبان اوپنر ایڈ کوان کی توجہ کھیل سے ہٹانے کی کوشش کی۔ فقرے بازی میں آسٹریلیا کو مہارت حاصل اور وہ اس کے بل پر کئی ٹیموں کو غصے کی آگ میں جلا چکا ہے مگر جنوبی افریقی ٹیم بھی اس میدان میں ان سے پیچھے نہیں، اس لیے ایڈیلیڈ میں یہ جنگ پورے عروج پر ہونے کا امکان صاف دکھائی دے رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے ٹیسٹ میں کھلاڑیوں کے درمیان فقرے بازی کا فیلڈ امپائرز بلی بائوڈن ، اسد رئوف اور میچ ریفری رنجن مدوگالے نے کوئی سخت ایکشن نہیں لیا تاہم فیلڈ آفیشلز نے بعض مواقع پر کچھ کھلاڑیوں کو زبانی کلامی محتاط رہنے کی ہدایت کی۔ آسٹریلوی مڈل آرڈر بیٹسمین مائیک ہسی کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک طرح سے کھیل کا حصہ ہے جب آپ فیلڈ میں اترتے ہیں تو جذبات ابھرنا شروع ہوجاتے ہیں، ویسے بھی یہ کھیل کیلیے بہتر ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان حقیقی مسابقتی اسپرٹ دیکھنے کو ملے، میرے خیال میں قانونی حد کے اندر رہتے ہوئے فقرے بازی وغیرہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔