ایک سال گزر گیا پولیس واٹر بورڈکے سابق چیف انجینئرکوبازیاب نہیں کراسکی

ایم ایم مہدی کوگلشن اقبال سے اغوا کیا گیا،ملزمان پولیس ٹی شرٹ اورجوتے پہنے ہوئے تھے۔


Staff Reporter November 19, 2012
مغوی مرزا محمد مہدی۔ فوٹو: فائل

اینٹی وائلنٹ کرائم یونٹ اور سی پی ایل سی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے سابق چیف انجینئر ایم ایم مہدی کا ایک سال گزر جانے کے باوجود سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے۔

پولیس نے تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پرکیس کو سرد خانے کی نذرکردیا، تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال8 اگست 2011 اور رمضان المبارک مہینے میں واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے سابقہ چیف انجینئر70 سالہ مرزا محمد مہدی کو بیٹے ضیا مہدی سمیت گلشن اقبال بلاک5سے اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے صمدانی اسپتال کے قریب پہنچ کر بیٹے ضیا مہدی کو کار سے اتار دیا تھا اور ایم ایم مہدی کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

ایم ایم مہدی اغوا سے قبل بڑے بیٹے ضیا مہدی کے ہمراہ درزی کی دکان پرجارہے تھے کہ راستے میں ہی سفید رنگ کی کار میں سوار اغواکاروں نے انہیں اغواکیا جس کا مقدمہ تھانہ گلشن اقبال میں بیٹے ضیا مہدی کی مدعیت میں درج ہے اور واقعے کے فوری بعد گلشن اقبال انویسٹی گیشن پولیس نے ایم ایم مہدی کے اغوا کی تحقیقات شروع کردی تھیں لیکن کچھ دنوں بعد سابق چیف انجینئر کے اغوا کی تفتیش اینٹی وائیلنٹ کرائم یونٹ منتقل کردی گئی،ایم ایم مہدی کے اغوا کے2 ماہ بعد نارتھ ناظم آباد سے ان کی زیر استعمال کارمل گئی تھی تاہم ایم ایم مہدی کا کوئی سراغ نہیں ملا ،اغوا کاروں نے ایم ایم مہدی کے اہل خانہ سے5 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم یونٹ نیاز کھوسو نے کہا ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے سابق چیف انجینئر کے اغوا کے کیس میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا ہے جبکہ سی پی ایل سی کے چیف احمد چنائے نے کہا کہ اہم شواہد ہاتھ لگ گئے ہیں جلد اغوا کاروں تک پہنچ جائینگے،مغوی ایم ایم مہدی کے بیٹے ضیا مہدی نے بتایا کہ اغوا کاروں کی جانب سے تاوان کی رقم کیلیے کبھی کراچی اورکبھی دوسرے صوبے سے کالز آتی رہیں لیکن تاوان کی رقم کا معاملہ طے نہیں ہوسکا ، والد کے اغوا میں5ملزمان ملوث تھے جن میں سے 3 اغوا کاروں نے پولیس ٹی شرٹ اور پولیس جوتے پہنے ہوئے تھے انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ والد کو بازیاب کرایا جائے ۔