امریکا میں فائرنگ کا واقعہ
واقعے میں 14 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے، آنسو گیس بم بھی پھینکا...
امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں بیٹ مین سیریز کی فلم 'دی ڈارک نائٹ رائزز' کے پریمیئر شو پر نقاب پوش افراد کی فائرنگ سے 14 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آنسو گیس بم بھی پھینکا گیا۔ حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص 24سالہ جیمز ہولمز کو اس جرم کے ارتکاب میں حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ اس کے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔
واقعے کے بعد نیویارک میں مذکورہ فلم دکھانے والے سینما گھروں کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق مرنے والوں میں کچھ امریکی فوجی بھی شامل تھے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق یہ بظاہر دہشت گردی کا واقعہ نہیں تاہم اس کو کسی حد تک امریکا کی جانب دارانہ عالمی سیاست کا شاخسانہ ضرور کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس ناروے میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک شخص نے لوگوں کے ایک ہجوم پر فائرنگ کر کے کئی افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا۔
ظاہر ہے ایسے واقعات بلاوجہ پیش نہیں آتے ان کے پس منظر میں کچھ نہ کچھ عوامل ضرور کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ کوئی دور کی بات نہیں کہ جب نائن الیون کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف مہم کا آغاز کیا اور بعد ازاں جب وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر عراق کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا تھا تو اس وقت مسلم دنیا کے علاوہ خود امریکا کے اندر سے بھی اس عمل کے خلاف آوازیں ابھریں تھیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ کسی نجی نوعیت کی مخالفت یا دشمنی کا نتیجہ ہو اصل صورتحال تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گی تاہم یہ واضح ہے کہ لبرل امریکا میں اس طرح کے واقعات افسوسناک تو ہیں ہی' یہ امریکی معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد آمیز رویے اور رجحان کی جانب بھی ایک اشارہ ہے' اس روش پر قابو پانے کی ضرورت ہے' کہیں ایسا نہ ہو کہ القاعدہ اور طالبان کی طاقت کچلنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرنے اور بے تحاشا وسائل کا استعمال کرنے والے امریکا کو خود اپنی سرزمین پر انتہا پسندی کے خاتمے کی جنگ لڑنا پڑ جائے۔
صدر اوباما اور ان کے حریف میٹ رومنی نے اس افسوسناک واقعے کے سوگ میں اپنی اپنی انتخابی مہمیں معطل کر دی ہیں' امریکا بھر میں گزشتہ روز اس سانحے کے غم میں سوگ منایا گیا۔ اوباما نے کہا ہے کہ انھیں واقعہ سے دھچکا لگا تاہم امریکی عوام کی حفاظت کی جائے گی اور جو بھی ذمے دار ہے اسے کٹہرے میں لایا جائے گا چنانچہ امید کی جاتی ہے کہ اس واقعے کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کرائی جائے گی تاکہ اس واقعے کے اصل ذمے داران کا پتہ چلایا جا سکے۔