حسینؓ کی عظیم قربانی کے سبب دین اسلام کو حیات نو ملی

کربلا والوں نے رسول اکرمؐ اور دیگر انبیا کے مشن کی تکمیل کی، شہنشاہ حسین نقوی.


Staff Reporter November 19, 2012
امام حسینؓ کی تعلیمات پر عمل کرکے مشکلات سے نکلا جا سکتا ہے، مولانا ناظر عباس. فوٹو: اے پی پی

سیرت مصطفیؐ ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، پیغمبر اکرم کا ہدف یہ ہے کہ ہر ایک کو اللہ سے جوڑ دے۔

ان خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے نشترپارک میں محرم الحرام کی مرکزی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہا کہ انسان ادارے توڑ سکتا ہے، اصول نہیں توڑ سکتا، اگر ہم آہنگی ٹوٹ جائے تو اصول نہیں ٹوٹتے، حیات پیغمبر کہتی ہے کہ اصول اور دستور ختم نہیں ہوتے، ان کا دوبارہ سے احیاکردیا جائے اور ان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے خود ہی ہم آہنگی ہوتی چلی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ حسینؓ دین کے وارث اور نبیؐ کی امیدوں کا مرکز ہیں، آپؓ کی عظیم قربانی کے سبب دین اسلام کو حیات نو ملی کربلا والوں نے رسول اکرمؐ اور دیگر انبیا کے مشن کی تکمیل کی، علامہ طالب جوہری نے امام بارگاہ ساحرہ نیو رضویہ سوسائٹی میں عشرہ محرم کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل بیت رسول کی زندگی خدا کی خوشنودی اور رضا الٰہی کیلیے تھی، امام حسینؓ نے سرجھکانے کے بجائے اپنے سرکو کٹانے پر ترجیح دی، یزید حسینؓ سے بیعت لینا چاہتا تھا لیکن نواسہ رسول نے اسے کامیاب نہیں ہونے دیا۔

علامہ حسن ظفر نقوی نے رضویہ سوسائٹی میں عشرہ محرم کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین کو بچانے کیلیے امام حسینؓ اور ان کے رفقا کی لازوال قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، حسینی پیروکار آج بھی استحکام دین اور بقائے اسلام کیلیے پوری طرح متحد ہیں ، مولانا ناظرعباس تقوی نے مرکزی امام بارگاہ جعفرطیار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسینؓ کی سیرت و کردار ہم سب کیلئے مشعل راہ ہے۔