پاکستان میں تو برداشت ہی برداشت ہے
کسان ہونے کے ناطے ہم بھی ’’برداشت‘‘ کے صرف انھی معنوں سے واقف تھے
کچھ چیزوں کچھ باتوں اور کچھ لوگوں کے بارے میں تو دیکھا سنا اور پڑھا تھا کہ کچھ خاص نہ ہوتے ہوئے بھی اچانک ''خاص'' ہو جاتے ہیں بلکہ جس کا کبھی سان گمان بھی نہیں ہوتا وہ ہو جاتا ہے، زرداری صدر بن جاتا ہے، جھگڑا صاحب گورنر بن جاتے ہیں اور مودی وزیراعظم بن جاتا ہے لیکن الفاظ اچانک راتوں رات اتنی اہمیت اختیار کر لیں ایسا نہ کبھی سنا تھا نہ دیکھا تھا نہ پڑھا تھا، اب اس لفظ ''برداشت'' کو ہی لے لیجیے جو پہلے صرف زراعت والوں کے زیر استعمال ہوا کرتا تھا، سبزیوں، پھلوں اور دوسری اجناس کی ''تڑوائی'' کو برداشت کرنا کہتے تھے۔
کسان ہونے کے ناطے ہم بھی ''برداشت'' کے صرف انھی معنوں سے واقف تھے لیکن اچانک یہ ان چند سالوں میں نہ جانے ایسا کیا ہو گیا کہ چاروں طرف برداشت ہی برداشت کا دور دورہ ہے اور اب یہ لفظ اتنا عام اتنا کثیر الاستعمال اور اتنا وافر ہے کہ آپ کسی بھی جگہ ہارٹ بازار، گلی کوچے، گاؤں شہر حتیٰ کہ جنگل بیابان میں بھی ذرا کان لگاکر سنئے تو چاروں اطراف سے برداشت برداشت برداشت کی گونج سنائی دے گی، بدقسمتی سے یہ لفظ اینکروں، تھنکروں، لیڈروں، دانا دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے ہاتھ بھی لگ چکا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے بندر کے ہاتھ استرا اور چوہے کے ہاتھ ہلدی کی گانٹھ لگ گئی ہو، اگر صرف اکیلے دکیلے ''برداشت'' کا سلسلہ ہوتا تو پھر بھی گزارہ ہو سکتا تھا لیکن جو کچھ زیادہ دانا دانشور لوگ ہیں وہ اس کے ساتھ طرح طرح کے دم چھلے بھی لگا دیتے جیسے ''عدم برداشت'' جس کا آج کل سب سے زیادہ چلن ہے کہ ہر ادبی غیر ادبی، سیاسی غیر سیاسی، سرکاری غیر سرکاری تقریبات اور تقاریر تحاریر اور مقالہ جات میں اس لفظ عدم برداشت ہی کا بول بالا ہے۔
حالانکہ اس سے پہلے ہم صرف ایک یا دو ''برداشتوں'' کو جانتے تھے، ایک وہ برداشت جسے شوہر بھی کہتے ہیں اور دوسرا وہ برداشت جو کھیتوں باغوں وغیرہ میں پایا جاتا ہے، یعنی پھلوں سبزیوں اور دوسرے اجناس کی ''تڑوائی'' کو برداشت کہا جاتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال مرحوم محکمہ زراعت والے کرتے تھے، لیکن اب نہ جانے اس برداشت لفظ کی کون سی ادا لوگوں خاص طور پر دانا دانشوروں کو بھا گئی ہے کہ ... چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی... اور تو اور وہ مشہور و معروف لیکن نامعلوم ''ہم'' بھی اس کا پرستار نکلا ... ''ہم'' میں برداشت کی کمی ہے ہم میں برداشت کا مادہ بالکل نہیں ہے۔
معاشرے سے برداشت اٹھ گئی ہائے برداشت وائے برداشت ... خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں ''غائب'' ہونے والے میں، اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں محض فیشناً برداشت و عدم برداشت استعمال کر رہے ہیں ورنہ ہمارے ''پاکستان'' میں جتنی برداشت آج کل پائی جاتی ہے اور موجود ہے اور زیر استعمال ہے اتنی برداشت کسی مالدار بیوی کے شوہر میں بھی نہیں ہو گی بلکہ اگر پیشہ ور اور فیشن ایبل اینکروں تجزیہ نگاروں اور دانا دانشوروں کو ایک طرف کر دیا جائے تو پاکستان میں صرف ایک ہی چیز کا دور دورہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ برداشت کے جتنے بھی معانی و مفہوم ہیں وہ سب کے سب پاکستان ہی میں ''سرسبز'' ہو رہے ہیں، ذرا اپنی طرف دیکھئے عوام ان لیڈروں کو مسلسل برداشت کیے جا رہے ہیں ۔
جنھیں بیویاں اور پہاڑ تک برداشت نہ کریں، حالانکہ ان میں ایسے ایسے ناقابل برداشت ''نمونے'' ہیں کہ آئینہ بھی جن کو برداشت کرنے کے بجائے ریزہ ریزہ ہونا پسند کرے، لیکن داد دیجیے پاکستانی عوام کی ہمت حوصلے اور برداشت کی کہ یہ لوگ ابھی تک زندہ ہیں اور شرمندہ تو خیر ہو ہی نہیں سکتے کہ شرم نامی پرزہ ان میں ہوتا ہی نہیں ہے، لیکن برداشت کے صرف یہی معنی لاگو نہیں ہیں بلکہ اس کے اور بھی جو معنی ہیں وہ زیر استعمال ہیں مثلاً وہ برداشت جو زراعت والے پھلوں اور سبزیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ بھی مکمل طور پر بلکہ بہت زیادہ زیر استعمال ہیں۔
سرکاری ادارے محکمے لیڈر افسر تاجر کون ہے جو عوام نامی اس بدنصیب پیڑ کا میوہ برداشت نہیں کر رہا ہے جسے دیکھو توکرائے ''برداشت'' میں لگا ہوا ہے اس پیڑ کو ابھی پھل لگا بھی نہیں ہوتا ہے کہ توڑنے والے ہاتھ برداشت برداشت چلاتے ہوئے پل پڑتے ہیں، ایک لحاظ سے دیکھا جائے کہ ہر ہر سطح پر برداشت ہی برداشت ہے، عوام لیڈروں کو برداشت کیے جارہے ہیں اور لیڈر عوام کو برداشت (پھلوں اور سبزیوں والی) کر رہے ہیں یہ بھی برداشت کر رہے ہیں وہ بھی برداشت کر رہے ہیں اور اس پر بھی یار لوگ کہتے ہیں کہ ہماری ''برداشت'' نہیں ہے اتنی بڑی موٹی اور ھمہ گیر ''برداشت'' بھی جن کو دکھائی نہیں دیتی ان کو آپ کیا کہیں گے۔
کسی اور ملک کے عوام ہوتے تو اب تک ان لوگوں کو زمین کے چھ فٹ اوپر لٹکا چکے ہوتے یا چھ فٹ نیچے گاڑ چکے ہوتے لیکن صبر کی انتہاء دیکھیے کہ ہر چار پانچ سال بعد ''میوہ دار'' ہو کر خود کو برضا و رغبت برداشت (تڑوائی) کے لیے پیش کر دیتے ہیں حالانکہ اب بدنصیب اور بار بار توڑے جانے والے باغ کو کھاد وغیرہ تو کیا کبھی پانی بھی نہیں دیتے خود ہی بے چارے میوہ دار بھی ہو جاتے ہیں اور برداشت یعنی تڑوائی کے لیے حاضر بھی ہو جاتے ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں ہی اپنے اپنے ''برداشت'' میں بے مثل ہوتے ہیں اگر عوام یا ذرا مکھن لگایئے تو ''قوم'' برداشت ہونے کے لیے ھمہ وقت تیار رہتی ہے اور اپنا پھل ووٹ، نعرہ بازی اور دھرنے کی صورت میں ''اتروانے''کو بے تاب رہتی ہے تو برداشت کرنے والے بھی اپنے کام میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔
ٹھیک ٹھیک وقت پر ووٹ کے دانے، نعروں کے خوشے اور دھرنے کے ٹوکرے لیے بیٹھے ہوتے ہیں، نہ صرف یہ کہ جب ان کا پھل برداشت کرنے والے کریٹوں میں ڈبوں میں اور پیٹیوں ٹوکروں میں بھر بھر کر مختلف قومی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں بیچ ڈالتے ہیں اور اس کے بدلے میں ''کرسیاں'' حاصل کر لیتے ہیں تو ان کرسیوں پر بیٹھ کر اور مختلف محکموں اداروں اور ٹیکسوں کے آلات برداشت ہاتھ میں لے لیتے ہیں تو پھر اس باغ بلکہ جنگل پر پل پڑتے ہیں پھل تو خیر پھل ہیں ان میں کچی بنولیاں اور پتے تک نہیں چھوڑتے اور جاتے جاتے اس جنگل کو ایسا ٹنڈ منڈ کر دیتے ہیں صرف ٹہنیاں رہ جاتی ہیں۔