امراض ڈاکٹروں اور دوا سازوں کا سہ فریقی اتحاد

مملکت اللہ داد ناپرسان میں آج کل جس مشہور عالم ’’سہ فریقی‘‘ اتحاد کے چرچے چل رہے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq May 25, 2016
[email protected]

ISLAMABAD: مملکت اللہ داد ناپرسان میں آج کل جس مشہور عالم ''سہ فریقی'' اتحاد کے چرچے چل رہے ہیں وہ پانامہ لیکس سے بھی بڑی خبر ہے کیونکہ سہ فریقی اتحاد اس سے پہلے بھی مملکت اللہ داد ناپرسان میں بنتے بگڑتے رہے ہیں بلکہ ہر چیز ایک طرح کے سہ فریقی اتحاد میں جکڑی ہوئی ہے۔

جس بڑے اور وسیع پیمانے کے سہ فریقی اتحاد پر ہم آج چرچا کرنے جارہے ہیں۔ چینل ''ہیاں سے ہواں تک'کے تین ماہرین پر مشتمل ایک ٹریبونل نے اس پر تین دن غور کیا، تین گھنٹے میں اس کی رپورٹ مرتب ہوئی جو تین منٹ میں سنائی گئی اور تین سیکنڈ میں منظور ہوئی چنانچہ ''چونچ بہ چونچ'' میں چوں چیاں کیے بغیر تین چونچیں بٹھا دی گئیں۔

ان میں دو تو ہماری پرسنل اور ایک بڑی مملکت ناپرسان سے اسمگل کی گئی اس چونچ کا نام تین بٹا تین ہے، تین سیاسی پارٹیاں بنا اور کھا چکے ہیں، تین سہ فریقی اتحاد ڈکار چکے ہیں، تین مرتبہ وزیر بنے ہیں، تین سو کرپشن کے کیسوں میں ملوث ہیں،ارے ہاں مسئلہ تو ہم نے بتایا ہی نہیں ، زیر بحث اور حال ہی میں برپا ہونے والا سہ فریقی اتحاد جس پر ہم تین چونچ لڑا رہے ہیں، ڈاکٹروں، دوا ساز کمپنیوں اور بیماریوں کے درمیان ہونے والا وہ اتحاد ہے جس کی مثال تاریخ میں بالکل بھی نہیں ملتی، لیکن یہ موجودہ سہ فریقی اتحاد جو ڈاکٹروں، دوا ساز کمپنیوں اور امراض یا صحیح الفاظ میں ''موت'' کے درمیان ہوا ہے یہ اس قدر مضبوط ہے کہ کسی انسان کی تین سو جانیں بھی ہوں تو مجال ہے کہ ایک جان بھی سلامت لے جائے۔

اینکر : ہاں تو جناب تین صاحب
تین : انجینئر تین، میرا نام ہے
علامہ : مگر تین تو ''انجیر'' کو کہتے ہیں
تین : اس میں ایک ''ن'' زیادہ ہے
چشم : اچھا انجیر لیکن ایک اضافی ''ن'' کے ساتھ
علامہ : کیا یہ وہ ''ن'' ہے جو قلم اور یسطرون کے ساتھ
تین : نہیں یہ ایک اور نون ہے بلکہ یوں کہیے کہ یہ لفظ نہیں تصویر ہے
اینکر : یہ تم دونوں بات کو کہاں لے جارہے ہو مجھے بات کرنے دو۔علامہ : کرو کرو۔
چشم : اینکروں کو اور آتا بھی کیا ہے
اینکر : ہاں تو تین بٹا تین صاحب، یہ جو ناپرسان میں سہ فریقی اتحاد ہوا ہے ڈاکٹروں، دواؤں اور امراض کے درمیان۔تین : دراصل تینوں کو احساس ہو گیا تھا کہ منزل تو سب کی ایک ہے تو سفر جدا جدا کیا۔
چشم : مریض کو گورستان پہنچانا ہے۔علامہ : ٹھہرو مجھے ایک بات یاد آئی، رحمن بابا نے کہا ہے کہ ظالم حاکموں کی وجہ سے... گھر، گور اور پشاور تینوں ایک ہیں۔چشم : یہ رحمن بابا کے زمانے کی بات ہے جب یہ تینوں یعنی گھر گور اور پشاور الام الف لکھتے تھے دیوار دبستاں پر۔علامہ : اور آج کل ایل اے لکھ رہے ہیں۔چشم : مطب کیا بنا ۔۔۔ لا ۔۔۔ لا ۔۔۔ لا
علامہ : اور اس ''لا'' کے ساتھ اگر ہور لگا دیں تو ۔
تین : کیا ۔۔۔ لا یا لاہور۔اینکر : چوپ ۔۔۔ ہاں وہ اتحاد و ثلاثہ۔تین : جب تینوں فریقوں کو احساس ہو گیا کہ تینوں کی منزل و مرام اور مقصد و مدعا ایک ہی ہے تو سو پرواز کیوں کیا جارہا ہے
اینکر : بات تو ٹھیک ہے اتفاق میں برکت ہوتی ہے
علامہ : اور اتحاد میں حرکت اور حرکت میں برکت
چشم : لیکن میں نے تو سنا ہے کہ ان تینوں میں ولی لیکس اور پانامہ لیکس بھی ہوتے ہیں۔اینکر : تم بات کو جلیبی مت بناؤ۔علامہ : جلیبی ہماری قسمت میں کیسے ہو سکتی ہے
چشم : یہ عام جلیبی کی بات کر رہے ہیں اور آپ کا دھیان جلیبی بھائی کی طرف جارہا ہے۔اینکر : مگر وہ امراض ڈاکٹروں اور دوا ساز کمپنیوں کا سہ فریقی اتحاد۔
تین : وہ اتحاد ثلاثہ اس وجہ سے عمل میں آیا کہ دیکھاجارہا تھا کہ اگر مریض ان تینوں کی انتہائی کوشش کے باوجود بھی بچ بچا کر قدرتی موت مر جاتے تھے اور یہ ان تینوں کے لیے شرم کا مقام تھا کیوں کہ ایک مرتبہ ان کا ملک الموت کے ساتھ مقدمہ ہو گیا تھا اور ان تینوں نے ملک الموت کو نکما ثابت کرنے اور نوکری سے برخواست کرنے کے لیے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ہماری مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا، ہم کدھیڑ کر لاتے ہیں اور یہ یونہی لاپ پر پیر رکھ کر اپنی مونچھوں اور اپنی بھینس کی سینگوں کو تاؤ دینے لگتا ہے
چشم : یہ تو صحیح ہے ڈاکٹر، امراض اور ہمارے علامہ جیسے لوگ نہ ہوں تو...
تین : علامہ
چشم : ہاں یہ بھی دوائیں بناتے ہیں نا ...
تین : جان بچانے والی ... ہاں لیکن پہلے قیمت کے ذریعے جان نکالنے کے بعد
اینکر : ہاں وہ اتحاد
تین : تب سے اب تک مقابلہ شروع ہے سہ فریقی اتحاد کوشش کرتا ہے کہ کوئی ان کے علاوہ اور کسی بھی چیز کے ہاتھوں نہ مرے، اسی وجہ سے یہ لوگ دھماکوں، ایکسی ڈنٹوں اور قدرتی آفات کے بھی سخت خلاف ہیں
اینکر : وہ کیوں؟
تین : ان کے منہ سے نوالہ چھینتے ہیں نا اگر دھماکوں، ایکسی ڈنٹوں اور زلزلے، سیلابوں میں مرنے والے پہلے ان سے رجوع کرتے تو خواہ مخواہ ملک الموت کا گراف تو نہ بڑھتا
اینکر : اب ان کا ٹارگٹ کیا ہے
تین : ٹارگٹ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے تعاون کر کے ویکٹم کو کسی اور کے کھاتے میں نہ جانے دیاجائے۔