ہم بجلی میں خود کفیل ہونے ہی والے ہیں

اس پر سائل نے فوراً پاکستانی بن کر نتیجے پر چھلانگ لگاتے ہوئے امید کی شمع روشن کرنا چاہی


Saad Ulllah Jaan Baraq May 31, 2016
[email protected]

KARACHI: عام طور پر سگمنڈ فرائڈ کو نفسیات کا بانی کہا جاتا ہے ۔کچھ دوسرے لوگ بھی اس سلسلے میں کافی یا اچھی یا بری شہرت رکھتے ہیں جیسے یونگ، ڈیل کارینگی، راکھی ساونت ، بپاشاباسو اور ملکہ شراوت وغیرہ لیکن ... ہمیں ان سب سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ ہماری نظر میں سب سے بڑا اور تقریباً بابا یا دادائے نفسیات کے درجے کا ماہر نفسیات وہ نجومی تھا جس نے ایک شخص کا صرف ہاتھ دیکھ کر بتایا تھا کہ چالیس سال تک تیری زندگی میں مشکلات ہی مشکلات ہوں گی۔

اس پر سائل نے فوراً پاکستانی بن کر نتیجے پر چھلانگ لگاتے ہوئے امید کی شمع روشن کرنا چاہی کہ ... اور چالیس سال کے بعد ؟ اس کا خیال تھا کہ نجومی اسے کسی نئے الیکشن یا حکمت یا لیڈر کی طرح خوش خبری دے گا کہ پھر روز گوشت پکے گا ہر شام پلاؤ کھائیں گے، روٹی کپڑا مکان ہو گا، دہلیز پر انصاف سر جھکائے بیٹھا رہے گا اور جمہوریت گھر میں برتن مانجھے گی، لیکن نجومی نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا کہ پھر تم عادی ہو جاؤ گے، اور انسانوں کی پوری تاریخ الٹ پلٹ کی جائے تو ہر صفحے پر یہی لکھا ہوا نظر آئے گا کہ چالیس سال کے بعد لوگ مصیبت حتیٰ کہ بیوی بچوں جیسی بڑی مصیبت کا بھی عادی ہو جاتا ہے بلکہ اگر کوئی اسے اپنی اس عادی اور مطمئن حالت سے نکالنے کے لیے کہے گا تو ڈھیٹ کرایہ دار اور بے شرم لیڈر کی طرح قطعی انکار کر دے گا۔

ہمارے ساتھ ایک نوکر تھا جو قد کے لحاظ سے بھی اتنا تھا کہ چنے کی جھاڑ پر بھی سیڑھی یا سہارے کے بغیر چڑھ نہ پاتا اور شکل و صورت میں بھی بدصورتی کی ذرا بھر کمی نہ تھی، اوپر سے باتیں ایسی کرتا تھا کہ جیسے اگر وہ اس دنیا میں نہ ہوتا تو یہ دنیا قطعی ادھوری رہ جاتی ۔ اپنی جوانی کے زمانے کی بہادریوں اور رومانوی کہانیوں کا اس کے پاس اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ کلیلہ دمنہ اور الف لیلیٰ مل کر بھی اس کے برابر نہ ہو سکیں، چنانچہ محلے اور خاندان کے نوجوانوں نے اسے طرح طرح سے چھیڑنا شروع کیا اور پہلوان نام رکھ کر چھیڑ بنا لی یہاں تک بھی خیریت تھی لیکن کچھ نوجوانوں نے اس میں یہ دکھتی رگ ڈھونڈ لی کہ ''میاؤں'' کی آواز سے غصے میں آجاتا تھا۔

بس پھر کیا تھا جہاں کہیں ہوتا تھا اور کہیں سے میاؤں کی آواز آتی تو گالیاں دیتا ہوا دوڑ پڑتا ، اتنے میں دوسری طرف سے میاؤں کی آواز لگ جاتی، آخر تنگ آکر رو پڑتا۔ ہمیں پتہ چلا تو محلے کے سارے نوجوانوں کو سختی سے منع کر دیا کہ اگر آیندہ اسے کسی نے بھی چھیڑا تو اچھا نہیں ہو گا۔ اچھا ہوا سب نے ہماری بات مان لی، آوازیں تو بند ہو گئیں بلکہ اب اس کے پاس جانا اور تعرض کرنا بھی چھوڑ دیا، ایک دن گزرا دوسرا بھی گزرنے والا تھا سوچا ذرا نکل کر دیکھوں کوئی نوجوان اسے چھیڑ تو نہیں رہا ہے، دروازے میں کھڑا ہو کر ڈیرے کی طرف دیکھنے لگے۔

وہ اکیلا برآمدے میں بیٹھا تھا اور ایک طرف دیکھ دیکھ کر آنے کے اشارے کر رہا تھا۔ اس طرف دیکھا تو دو چار شریر نوجوان دیوار کے سائے میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے، جب اشاروں سے ان کو متوجہ نہ کر سکا تو پھر اچانک منہ کے گرد ہاتھ رکھ کر پکارا میاؤں ... یعنی صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے۔ وہ خود ہی اس میاؤں کا عادی ہو گیا تھا۔ اسی طرح کچھ لوگ بھی کسی نہ کسی ''چیز'' کے عادی ہو جاتے ہیں جیسے ہم پاکستانی لوگ کچھ خاص خاص انسانی شکل رکھنے والی ''چیزوں'' کے عادی ہو چکے ہیں اور رحمن بابا کا وہ فرمودہ تو ہم کئی بار بیان کرتے رہے ہیں کہ لت چلی جاتی ہے لیکن عادت کو صرف موت ہی اپنے ساتھ لے جا سکتی ہے یعنی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں ساتھ نہیں چھوڑتی۔ دراصل ہم بات اس ماہر نفسیات بلکہ دادائے پردادائے نفسیات نجومی کے بارے میں کرنا چاہتے تھے۔

نفسیات میں اس کی مہارت مسلمہ ہے لیکن اس کی مہارت پر ہم ایک فٹ نوٹ لکھنا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ اس کے پاس جو کیس آیا تھا، وہ کچھ منفرد قسم کا رہا ہو اور وہ آدمی ذرا نالائق ٹائپ کا رہا ہو گا جسے عادی ہونے کے لیے چالیس سال کا عرصہ چاہیے تھا جب کہ ہمارے مشاہدے میں ایسے کیس بھی آئے ہیں کہ لوگ چند سال بلکہ ایک دو سال میں عادی ہو جاتے ہیں اور پھر زندگی بھر ... عادت کے بارے میں تو بتا ہی چکے ہیں اور یہ ہم کوئی سنی بنائی بات نہیں کر رہے بلکہ ہمارے سامنے یہ جو مملکت خداداد سوری اللہ داد پاکستان کے باسی رہتے ہیں یہ تو عادتوں کے بارے میں اتنے حریض ہیں کہ ڈھونڈ کر مصیبتیں پیدا کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کے عادی ہو جائیں۔ ہماری ولولہ انگیز قیادت عرف ایوب خان کے زمانے میں سرکاری نجومیوں نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اگلے سال غلے میں خود کفیل ہو جائے گا۔

ان کو بھی پتہ تھا ساری دنیا کو معلوم تھا کہ ایسا ممکن ہی نہیں لیکن بات تو عادی بنانے کی تھی سو اس وقت سے یہ عادت پاکستانیوں میں ایسی ہی راسخ ہو چکی ہے جیسے چینیوں میں چینی زبان راسخ ہے کہ ہر سال پاکستان کسی نہ کسی چیز میں تو خود کفیل ہوتا رہا ہے اور خود کفالت کا اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس چیز سے ہاتھ ہی کھنیچ لیا جائے مثلاً اگر آپ کپڑے پہننا چھوڑ دیں تو خود کفالت ہی خود کفالت ہے بلکہ اس سے پہلے والے جوڑے کسی اور کو دے کر ثواب دارین بھی حاصل کر سکتے ہیں، دوسری چیزوں کے بارے میں تو ہمیں زیادہ جانکاری نہیں ہے کہ اب تک ہم کن چیزوں کے عادی ہو کر خود کفیل بن چکے ہیں کیونکہ ہم نہ ماہر اقتصادیات ہیں نہ ریاضیات اور نہ تعمیرات و تخریبات، لیکن دو چیزیں بالکل سامنے ہیں جن میں ہم خود کفالت کے مرحلے سے نکل کر ایکسپورٹ کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

ان میں ایک تو باتیں ہیں اگر باتوں کا کوئی وزن ہوتا تو پاکستان اب تک اس کے وزن سے زمین میں دھنس کر آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ کے آس پاس کہیں ابھر چکا ہوتا بلکہ ہو سکتا ہے کہ زمین کی محوراتی چال بھی کچھ لنگڑاہٹ کا شکار ہو جاتی۔ صرف لیڈروں، اینکروں اور کالم نگاروں کا مال بھی پوری دنیا کے لیے آیندہ ایک صدی تک کافی ہو گا، دوسری چیز جس میں ہم عادی ہونے اور خود کفالت کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہیں وہ لیڈر لوگ ہیں ان کو خادمان عظام اور رہبران کرام بھی کہا جاتا ہے لیکن اصل میں نجات دہندے ہوتے ہیں اگر قوم کو خود سے نجات دلانا چاہیں تو ؟

ان کی تعداد بلکہ پیداوار تو اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ کنکر اٹھاؤ تو اس کے نیچے سے بھی ایک دو نہیں بلکہ پوری پارٹی اپنے دو چار دھڑوں سمیت نکل آئے گی چنانچہ ان کو کھپانے کے لیے اکثر پارٹ ٹائم کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے جو ذرا گھس جاتے ہیں یا کسی بارش میں مٹکے کا رنگ اتر جاتا ہے تو باہر بھیج دیے جاتے ہیں تاکہ سینگ وغیرہ کٹا کر رنگ روغن بدل کر پھر استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں۔ کچھ تو ان میں سے ایسے ہیں جو ملک میں جگہ نہ پا کر باہر ہی سے خدمت کرتے رہتے ہیں، لیکن اصل مقطعے والی بات تو ہم اب کریں گے۔

یہ اب تک تو ہم زمین ہموار کر رہے ہیں اور وہ اصل مقطعے میں آنے والی سخن گسترانہ بات یہ ہے کہ ہم بہت جلد ایک ایسے مرحلے میں پہنچنے والے ہیں کہ جو کچھ بھی تھا اس کے عادی ہو چکے ہیں اور باقی جو کچھ ہے اس میں خود کفالت کا ٹارگٹ حاصل کرنے والے ہیں، سب سے پہلے تو بجلی کو لے لیجیے یہ بھی تقریباً غلے میں خود کفالت کا ہم عمر معاملہ ہے اگرچہ کچھ لوگ سال بھی بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں سال تک ہم بجلی کی تکلیف سے چھٹکارا پا لیں گے لیکن سب اندازے ہیں اصل میں ہم عادی کے درجے سے ترقی کر کے خود کفالت کے درجے پر پہنچ ہی چکے ہیں۔

صرف چند اکا دکا لوگ ایسے ہیں جو اب بھی آس لگائے بیٹھے ہیں ورنہ غالباً اگلے سال ہی ہم بجلی میں خود کفیل ہو جائیں گے کیونکہ اگر اتنا عرصہ بھی کوئی اندھیرے کا عادی نہ ہو تو تف ہے اس پر اور اس کی ذات پر... حکومت کتنے عرصے سے کوشش کر رہی ہے لیکن اگر اب بھی کوئی بجلی کا عادی بچا ہے تو وہ نہایت ہی پھسڈی نالائق اور کچھ بھی نہ سیکھ سکنے والا ہے، ویسے حالات بتا رہے ہیں کہ اب خود کفالت کے دن دور نہیں ہیں کیونکہ لوگوں نے اب وہ واویلے احتجاج اور جلسے جلوس تو بند کر دیے ہیں کیونکہ جان گئے ہیں کہ صحرا میں اذانیں دینا صرف اپنی انرجی برباد کرنا ہے اور ایک دن اچانک آپ یہ خبر سہ سرخیوں سے پڑھ لیں گے کہ لوگ اندھیرے کے عادی ہو گئے ہیں اور بجلی میں مکمل طور پر خود کفیل ہو گئے ہیں۔