بدعنوانی کے الزامات ایم پی اے ترجیحی پروگرام کے ٹینڈرز روکنے کا حکم

قانون کے تقاضے پورے کرنیوالے کنٹریکٹرز کو ٹینڈرنگ کے عمل میںشرکت سے روکا گیا، درخواست گزار.


Staff Reporter November 21, 2012
ایڈمنسٹریٹر شاہ فیصل ٹائون ،اورنگی ٹائون ،صدر ٹائون ،بلدیہ ٹائون،سائٹ ٹائون،جمشید ٹائون. فوٹو: فائل

ہائی کورٹ نے کراچی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی پروگراموں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات کے باعث شہرکے مختلف ٹائونز میں جاری ایم پی اے ترجیحی پروگرام میں ٹینڈرنگ کا عمل روکنے کے احکامات دیتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا ہے اور مدعا علیہان کو 30نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں کنٹریکٹرز کی تنظیم معمار پاکستان کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمد اور مختلف ٹائونز کے ایڈمنسٹریٹرز نے بدنیتی کے باعث ٹینڈرز کے پورے عمل کو غیر شفاف بنادیا ہے ، انجینئرنگ کونسل آف پاکستان سے تصدیق شدہ اور قانون کے تقاضے پورے کرنیوالے کنٹریکٹرز کو ٹینڈرنگ کے عمل میںشرکت سے روکا گیا اور ان کو ٹینڈر دستاویزات جاری نہیں کی گئیں ،صرف من پسند کمپنیوں اور افراد کو یہ دستاویزات فراہم کی گئیں ، جب متاثرہ کنٹریکٹروں نے پراجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمد اور متعلقہ ٹائونز کے ایڈمنسٹریٹرز اور ان کے عملے سے رابطہ کیا تو انھوں نے ملاقات سے گریز کیا اور ان کی شکایات وصول کرنے سے انکار کردیا۔

اس صورتحال میں کنٹریکٹرز نے اپنی نمائندہ تنظیم معمار پاکستان کنٹریکٹر ایسوسی ایشن سے رجوع کیا ، شفیق احمد ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں ڈائریکٹر جنرل پیپرا ، پراجیکٹ ڈائریکٹر ایم پی اے پرائریٹی پروگرام ، ایڈمنسٹریٹر شاہ فیصل ٹائون ، ایڈمنسٹریٹراورنگی ٹائون ،ایڈمنسٹریٹر صدر ٹائون ، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ ٹائون ، ایڈمنسٹریٹر سائٹ ٹائون ، ایڈمنسٹریٹر جمشید ٹائون ، ایڈمنسٹریٹر لانڈھی ٹائون اور سیکریٹری لوکل ٹائون کو فریق بنایا گیا ہے ،شفیق احمد ایڈووکیٹ کے مطابق معمار پاکستان نے 8 نومبر کو ڈائریکٹرجنرل پیپرا،انجینئرنگ کونسل اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو تحریری طور پر اس صورتحال سے آگاہ کیا۔

درخواست گزار کے مطابق ان ٹائونز میں ارکان صوبائی اسمبلی کے اربوںروپے کے ترقیاتی کام جاری ہیں ، تاہم ان میں بدعنوانی کے پہلے مرحلے پر متعلقہ ٹائونز اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کی ملی بھگت سے میرٹ پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو ٹینڈرز کے عمل سے باہر کردیا گیا ،درخواست گزار کے مطابق ٹینڈرز کیلیے دستاویزات جمع کرانے کی آخری تاریخ 13نومبر تھی، 15نومبر کو ٹینڈرزکی پیشکشیں کھولی جانی تھیں جبکہ 20 نومبرکو ٹینڈرز دیے جانے کے اعلان کرنا تھا، درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ مدعا علیہان نے زیادہ نرخوں کی پیشکش قبول کرلی ہیں،اس وجہ سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچے گا، اس لیے ٹینڈرز کے اعلان کو روکا جا ئے اور یہ عمل دوبارہ شفاف طریقے سے مکمل کرنے کاحکم دیا جائے۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست گزار کے وکیل کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی آئندہ سماعت 30نومبر تک کسی کو ٹینڈر جاری نہ کیے جائیں، واضح رہے کہ کراچی میں ایم پی اے ترجیحی پروگرام میں شدید نوعیت کی بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں ہورہی ہیں ،مجموعی طور پر اربوں روپے مالیت کے ان ٹھیکوں کا تمام کام بلدیہ عظمیٰ کے ایک انجینئر شکیب احمد کے سپرد ہے جنھوں نے اس کام کے لیے گلشن اقبال میں ایک نجی بنگلے میں اپنا دفتر کھولا ہوا ہے جہاں پر وہ ایم پی اے پروگرام کے ٹھیکے تقسیم کرتے ہیں ،ان کے پرائیویٹ دفتر کے حوالے سے اعلیٰ حکام کو بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے متعدد بار آگاہ کیا مگر کیونکہ شکیب احمد کے اعلیٰ حکام سے قریبی تعلقات ہیں جس کے باعٖث ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے ۔