عدالتی حکم عدولی پر سیکریٹری آثار قدیمہ کو نوٹس جاری

قومی ورثہ قرار دی گئی عمارت کے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت کی برہمی.


Staff Reporter November 22, 2012
قومی ورثہ قرار دی گئی عمارت کے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت کی برہمی۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے عدالتی حکم پر عمل درآمدنہ کرنے پر سیکریٹری آثار قدیمہ اور ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

عدالت نے آبزروکیا کہ عدالت نے 30 اگست 2012 کو سیکریٹری آثار قدیمہ اور ایس بی سی اے کو ہدایت کی تھی کہ قومی ورثہ قراردی گئی عمارت پلاٹ11/40گوالی لین3صدرکا معائنہ کریں اور وہاں جاری غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں تاہم عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، عدالت نے سرکاری حکام کے روئیے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ 10 دسمبر تک اظہار وجوہ کے نوٹس کا جواب داخل کیا جائے اورعدالتی حکم کی خلاف ورزی کی وضاحت کی جائے بصورت دیگر متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔