تحفظ نسواں کے بعد ’’تحفظ نہواں‘‘
اسلامی نظریاتی کونسل کا جو تحفظ نسواں بل آیا ہے ان میں کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو ہم سمجھنا چاہتے ہیں
اسلامی نظریاتی کونسل کا جو تحفظ نسواں بل آیا ہے ان میں کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو ہم سمجھنا چاہتے ہیں، اسے کسی اعتراض یا نکتہ چینی یا طرہ مزاج کے کھاتے میں مت ڈالیے، اتنی بڑی محترم کونسل کے بارے میں اپنے اتنے چھوٹے منہ سے بڑی بات نکالیں تو ہماری باچھیں ہر دو جانب سے پھٹ جائیں گی، بات صرف اتنی سی ہے کہ ہماری سمجھ کچھ تو پیدائشی طورپر کوئی خاص فراخ نہیں تھی اوپر سے پاکستانی سیاست، پاکستانی حکومتوں اور پاکستانی لیڈروں نے اندر بیٹھ کر اسے کچھ اور چھوٹا کر دیا ہے اس لیے اکثر باتوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں خاصی کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یوں کہیے کہ
بہرائیوں تو پھر چائے دونا ہو التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
چناں چہ ایک تو اس بل میں بیوی پر معمولی تشدد کی اجازت والی بات ہے کیوں کہ ''بیوی'' کے ساتھ یہ وضاحت نہیں ہے کم از کم اخبار میں نہیں ہے کہ کس کی بیوی ۔۔۔ کیوں کہ جہاں تک ہماری معلومات ہیں اور جس قسم کے لوگوں کو ہم جانتے ہیں ان میں ''اپنی بیوی'' پر تشدد کرنا تو کیا اس کا سوچنا بھی خطرناک ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر جن بیویوں کے چار پانچ بھائی ہوں اور وہ مزاج میں اپنی بہن پر گئے ہوں، اس سلسلے میں ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔
بیوی نے تھانے میں پہنچ کر اپنے شوہر کے خلاف شکایت کی کہ اس نے مجھے تھپڑ مارا ہے، تھانیدار نے سپاہی بھیج کر ملزم کو پیش کرنے کا حکم دیا، تھوڑی دیر بعد دو سپاہی ایک بری طرح ٹوٹے پھوٹے نیم مردہ شخص کو سہارا دے کر اندر لائے، تھانیدار کو بہت غصہ آیا سپاہیوں کو ڈانٹے ہوئے بولا' میں نے تمہیں اس خاتون کے شوہر کو لانے بھیجا تھا اور تم راستے میں یہاں وہاں کے غیر متعلق لوگوں کو لانے لگے، پھر پوچھا کیوں کوئی ایکسی ڈنٹ ہوا ہے یا اس شخص کو کسی سانڈ یا بھینسے نے رگیدا ہے اس پر سپاہیوں سے پہلے وہ خاتون بولی یہی تو ہے وہ میرا ظالم شوہر جس نے مجھے تھپڑ مارا ہے، تھانیدار کو حیرت ہوئی پوچھا مگر اس کی حالت تو ؟ بیوی بولی یہ تو بعد میں میرے بھائیوں اور میں نے مل کر کی ہے۔
تھپڑ تو اس نے مجھے پہلے مارا تھا، تھپڑ کے سلسلے میں بھی ایک سوال کلبلانے لگا ہے بل کہ ایک طرح سے وضاحت کہیے کہ کیا اس معمولی تشدد میں یہ صراحت ہے یا نہیں کہ وہ معمولی تشدد کس نوعیت کی ہو، خیر نوعیت طے کرنا تو ہمارا کام نہیں لیکن اس میں ''تھپڑ'' کی سختی سے ممانعت ہونی چاہیے کیوں کہ تھپڑ سے بیوی کے چہرے میں جو بگاڑ پیدا ہو گی اس کی سزا شوہر کو بڑی مہنگی پڑے گی کیوں کہ کاسمیٹک کے نرخ بہت اونچے جارہے ہیں اور پھر چہرے کے داغ دھبوں کو مٹانے کے لیے تو مہینوں لیپا پوتی کرنا پڑے گی عین ممکن ہے کہ کسی پالر کے دو چار وزٹ بھی شامل ہو جائیں، خیر اتنا تو ہمیں ''تجربہ کار'' خاص طور پر بھائیوں والی بہنوں کے شوہر خود بھی جانتے ہوں گے کہ تھپڑ اور پھر خاص طور پر چہرے پر تھپڑ مارنا اتنا مہنگا ہے کہ اس سے خود کو اپنے پیٹ میں چھری بھونکنا بدرجہا سستا پڑے گا۔
یہ تو ویسے ہی ضمنی بات نکل آئی اصل بات یا ''اپنے تحفظات'' دور کرنے والی بات تو ابھی باقی ہے اور ہمارے یہ تحفظات اتنے اہم ہیں کہ اتنے اہم تحفظات کبھی مولانا فضل الرحمن کو بھی برسر اقتدار حکومتوں سے نہ رہے ہوں گے، ہمارے یہ تحفظات لفظ ''تحفظ'' ہی کے بارے میں ہیں، تحفظ نسواں بل ایک اہم ضرورت تھی علماء کونسل نے بہت اچھا کیا کہ اس بل کو پیش کر دیا، کیوں کہ اچھی حکومتوں میں ہر کسی کا تحفظ پہلی ترجیح ہوتی ہے، جیسا کہ آج کل ہماری حکومتیں اپنی اس پہلی ترجیح کو اپنی دوسری ایک ہزار ایک سو چالیس پہلی ترجیحوں میں پہلا نمبر دیے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں پورا ملک چین کی نیند سو رہا ہے لوگ تالے خریدنا چھوڑ چکے ہیں اور دروازے بند کرنا بھول جاتے ہیں۔
ملک میں اس سرے سے لے کر اس سرے تک سونا اچھال اچھال جاؤ کوئی یہ بھی نہیں پوچھے گا کہ بھیا کستی؟ اور وہ سب کچھ کر ڈالے گا جو چاہتا ہے مطلب یہ کہ حکومت کی اولین ترجیح کو فالو کر دے گا، گویا تحفظ ایک نہایت ہی ضروری ترجیح ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تحفظ نسواں کا بل تو آگیا ہے لیکن ''نسواں'' کے ساتھ ساتھ بل کہ پہلو میں ایک اور طبقہ بھی ہوتا ہے جسے اگر نام دینا ضروری ہو تو ''نہواں'' سے بہتر نام اور کوئی نہیں ہو سکتا، طبقہ نسواں کی طرح یہ ''طبقہ نہواں'' بھی نہایت ہی مظلوم اور تشدد کا شکار ہے اگرچہ یہ تشدد اور ظلم جسمانی نہیں ہے لیکن ذہنی اور روحانی تشدد اس سے کہیں زیادہ سخت ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ اخبار میں کسی نے انکشافاتی خبروں میں یہ خبر دی تھی کہ خواتین کے ڈپرپشن کا سب سے بہتر علاج شاپنگ ہے آپ تو جانتے ہیں کہ آج کل اس قسم کی انکشافاتی اور عجیب و غریب خبروں اور مضامین کا فیشن اخباروں میں خوب زوروں پر ہے مثلاً مڈغاسکر یونیورسٹی کے ڈاکٹر مس غاڈاکر نے تجربات کر کے ثابت کیا ہے کہ خوب صورت عورتوں کے شوہر بہت جلد مر جاتے ہیں اس لیے جسے اپنی زندگی عزیز ہو اور لمبی زندگی پانا چاہتا ہو اسے بدصورت ترین عورت سے شادی کرنا چاہیے یا امریکا کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ سونے کے بعد اور جاگنے سے پہلے بارہ گلاس پانی پینا صحت کے لیے مفید ہے یا کھانے سے پہلے اگر آدھا گھنٹہ الٹا لٹک کر وزرش کی جائے تو کھانا خوب ہضم ہوتا ہے خاص طور پر اگر مفت کا ہو تو اس قبیل کی خبروں میں جب وہ خبر آئی جس میں خواتین کے ڈپریشن کا علاج شاپنگ تجویز کیا گیا تو ایک دن ہم جب اپنے ایک دوست کے گھر گئے کیوں کہ اس کی بیماری کا سنا تھا تو وہ بستر میں لیٹا اپنے ہی خون کا جوس دانشوں سے منہ کاٹ کاٹ کر پی رہا تھا اور سرہانے کی میز پر ہر سائز اور حجم کی گولیوں کے شیشے پڑے تھے پوچھا بھائی کیا ہوا ہے سنا ہے۔
تم کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس گئے تھے پہلے تو تجھے کوئی ایسا عارضہ لاحق نہیں تھا، بولا کم بخت وہ اخبار ہمارے گھر بھی آتا ہے جس میں خواتین کے ڈپریشن کا علاج شاپنگ بتایا گیا تھا، بیوی نے خبر پڑھ کر فوراً اپنی تشخصیص خود کرتے ہوئے کہا کہ میں جانوں کہ میں ان دنوں جس تکلیف میں مبتلا ہو اس کا نام ڈپریشن ہے اسی وقت اس نے اپنی تمام سہلیوں کو بھی یہ نسخہ بتا دیا اور پرس اٹھا کر علاج کے لیے چل دی ۔۔۔ وہ دن اور آج کا دن ہر صبح و شام یہی علاج چل رہا ہے، ہم نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا وہ تو ٹھیک ہے لیکن کوئی فرق پڑا ۔۔۔ مطلب ہے بیوی کا ڈپریشن تو دور یا کم ہو گیا ہو گا، بولا نہیں بل کہ دگنا ہو کر مجھے لاحق ہو گیا ہے کیوں کہ اس ''علاج'' کا خرچہ تو مجھے دینا پڑتا ہے نا ۔۔۔ اس مثال سے دراصل ہم آپ کو بالواسطہ طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ تحفظ نسواں کا بل تو ٹھیک ۔۔۔۔ مبارک ہو ۔۔۔۔ لیکن بے چارا طبقہ ''نہواں'' بھی تو شدید عدم تحفظ کا شکار ہے ۔
جس طرح ہمارا وہ دوست شدید حملے کا شکار ہوا تھا بل کہ اب پھر ''تھا'' ۔۔۔۔ کیوں کہ وہ ''علاج'' ہی اس کے لیے جاں لیوا ثابت ہوا تھا، ''طبقہ نہواں'' کو صرف یہی ایک خطرہ نہیں ہے بل کہ بے چاروں کو چاروں بل کہ چھٹوں جوانب سے ''خطرہ'' لاحق ہے گرامر کے لحاظ سے چھ اطراف کی رعایت سے ''خطرات'' کہنا چاہیے تھا لیکن خطرہ ایک ہی ہے اطراف چاہے کتنے ہی کیوں نہ ہو، اب خطرے کا نام لینا اس لیے مناسب نہیں ہے کہ آخر ہم بھی تو بندہ بشر ہیں اور ایسا کوئی بل ''طبقہ نہواں'' کے لیے لانے والے بھی ''الانسان صغیف البنیان'' میں ہو گا کہیں ایسا نہ ہو کہ ''تحفظ نہواں'' کا بل پیش ہونے سے پہلے ہی بلبلانے لگیں جو پہلے ہی شاپنگ کے بلوں سے بلبلائے ہوئے ہیں، بہرحال انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اگر ایک طبقے کو تحفظ دینا ضروری تھا اور دے دیا گیا تو دوسرے طبقے نے کیا گناہ کیا ہے صرف شادی ہی تو کی ہے اور شادی کا شمار کم از کم ابھی تک تو گناہوں میں نہیں ہوا ہے
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں