ایک موت ہزار بہانے
اسامہ بن لادن کی کہانی میں بھی اس قسم کے بہت سارے ٹوسٹ ابھی تک بیان ہو رہے ہیں
ملا منصور کی موت پر کسی صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملا منصور آٹھ دس مہینے پہلے فوت ہوئے تھے کیوں کہ ان کو طرح طرح کی بیماریاں لاحق تھیں لیکن امریکا اس پر خواہ مخواہ اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا ہے، اب حقیقت تو جو ہو گی وہ ہو گی ہم نہ کوئی تحقیقی تفتیشی ادارے ہیں اور نہ ہی باروزگار قسم کے سابق یا لاحق تجزیہ نگار ہیں لیکن اس پر ہمیں ایک حقیقہ ضرور یاد آ رہا ہے، ہمارے علاقے میں ایک خطرناک مفرور تھا قلندرے... جو سب کچھ تھا آج کل تو مفرور اور اس قسم کے ''شریف'' لوگ اکثر ''معززین'' کے زیر سایہ بڑی لگژری قسم کی زندگی بسر کرتے ہیں لیکن اس زمانے میں سیاست اور شرافت نے اتنی ترقی نہیں کی تھی، قانون نافذ کرنے والے ادارے شریف لوگوں کو مجرم بنانے کے بجائے مجرموں کی پکڑ دھکڑ بھی کرتے تھے، چنانچہ ایسے قانون کو مطلوب مفرور اکثر جنگلوں، کھیتوں اور غیر آباد علاقوں میں رہتے تھے۔
ایک دن ایک سپاہی کہیں کسی کام سے جا رہا تھا کہ ایک گڈریئے نے اسے اطلاع دی کہ قلندرے مفرور ادھر گنے کے کھیت میں سویا پڑا ہے، سپاہی نے ڈرتے ڈرتے جا کر دیکھا تو واقعی وہ قلندرے تھا جو بے خبر سو رہا تھا، زندہ پکڑنے کی سپاہی میں جرات تو نہیں تھی اور ویسے بھی اس پر جو انعام تھا وہ زندہ اور مردہ دونوں صورتوں میں تھا اس لیے سپاہی نے اپنے ذاتی ریوالور سے نشانہ تاکا اور قلندرے کو سوتے میں گولی مار دی، بے چارا تھوڑا سا ہلا اور وہیں پر ٹھنڈا ہو گیا، سپاہی اپنا کارنامہ بتانے کے لیے تھانے کی طرف دوڑ پڑا، اپنی پارٹی کا حوالدار اسے راستے میں ملا اور اس نے اپنا کارنامہ حوالدار کو بتا دیا، حوالدار اپنی پارٹی سمیت تھانے پہنچا تو تھانے دار کو یہ خبر سنا دی، تھانے دار بھی اسی وقت ساتھ ہو لیا، لاش کو دیکھ کر اس نے بھی ایک گولی داغ دی اور جا کر ڈی ایس پی کو ٹیلی فون پر خوش خبری دی کہ میں نے مشہور مفرور قلندرے کو سخت جدوجہد کے بعد گولی مار دی ہے۔
لاش وہیں پڑی ہے تا کہ آپ آ کر معائنہ کر سکیں، ڈی ایس پی نے ایس پی کو فون کر کے بتایا کہ وہ علاقے کے خصوصی گشت پر تھا کہ قلندرے سے آمنا سامنا ہو گیا زبردست مقابلے کے بعد قلندرے کو میں نے گولی مار دی، ایس پی نے ڈی آئی جی کو اسی مضمون کی اطلاع دی واقعہ چونکہ اہم تھا اس لیے ڈی آئی جی نے بھی موقع پر جانے کا قصد کیا، لیکن اس سے پہلے اپنے خاص اخبار نویسوں کو اطلاع دی کہ میں نے ایک خصوصی آپریشن میں قلندرے نامی اشتہاری کو سخت مقابلے میں گولی مار دی ہے، یہ سارے افسران موقع واردات پر پہنچ گئے اور گاؤں کے لوگوں کے ذریعے لاش کو اٹھوا کر وین میں ڈال کر پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کر دیا۔
اس کارروائی میں رات گزر گئی صبح اخباروں میں بڑی سرخیوں کے ساتھ خبر آئی کہ مشہور و معروف مفرور اور اشتہاری مجرم قلندرے آخر کار کیفر کردار کو پہنچ گیا، تفصیلات میں درج تھا کہ آج تھانہ فلاں کو خبر ملی کہ قلندرے کسی خطرناک ارادے سے فلاں علاقے میں دیکھا گیا ہے چنانچہ ڈی آئی جی جناب... نے فوراً ایس پی جناب... کے مشورے سے ایک پولیس پارٹی ترتیب دی جس کی نگرانی میں خود ڈی آئی جی اور ایس پی کر رہے تھے خصوصی پارٹی میں تھانہ ہذا کے ایس ایچ او...، اے ایس آئی ... اور حوالدار ... کے علاوہ دس کانسٹیبل بھی تھے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا، لیکن قلندرے گنے کے ایک کھیت میں گھس کر بیٹھ گیا، پولیس کی وارننگ کے باوجود اس نے فائرنگ شروع کر دی سخت فائرنگ کے بعد ڈی آئی جی ... جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کھیت میں گھس پڑا، ایس پی ...، ایس ایچ او ... اور حوالدار ... فلاں نے بھی ان کی تقلید کی، آخر کار بڑی جدوجہد اور سخت مقابلے کے بعد قلندرے آئی جی کی زد پر آ گیا چنانچہ انھوں نے کمال دلیری سے کام لیتے ہوئے نہایت ڈرامائی انداز میں اسے مار گرایا، ایس پی ... ڈی سی پی ... ایس ایچ او اور حوالدار نے بھی فائرنگ کی لیکن قلندرے کے باقی ساتھی بچ کر نکل جانے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ آپریشن دراصل اس پروگرام کے سلسلے میں ہوا تھا جو جناب آئی جی فلاں نے وزیر داخلہ جناب ... کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف شروع کیا ہے جس کے لیے وزیراعلیٰ جناب نے خصوصی ہدایات جاری کی ہوئی ہیں، کاغذی کارروائی تو ہوتی رہی لیکن وہ سپاہی جس نے سب سے پہلے قلندرے کو گولی ماری تھی تھانہ ہذا کے محرر کو اپنا دکھڑا سنا رہا تھا کہ کارنامہ میں نے کیا اور لے اڑے دوسرے ... اور محرر اسے سمجھا رہا تھا کہ شکر کرو بچ گئے کیوں کہ سپاہی ہونے کے ناطے تم سرکاری پستول رکھنے کے مجاز نہیں ہو اور گولی تم نے اپنے ذاتی پستول سے بغیر کسی افسر کے حکم کے ماری ہے، افسران بالا تو تمہارے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے منت سماجت کر کے تمہیں بچا لیا ہے اب تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس نیکی کے صلے میں جا کر چار کلو اچھا سا چھوٹا گوشت خرید لو اور میرے گھر میں سبزی سمیت دے آؤ، لیکن سپاہی ابھی اٹھا نہیں تھا کہ دوسرا سپاہی پوسٹ مارٹم رپورٹ لے کر آ گیا۔
محرر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھی تو پہلے اس کا چہرہ کھلا پھر ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور پھر قہقہے لگانے لگا، کافی دیر تک ہنسنے کے بعد سپاہیوں نے وجہ پوچھی تو پہلے اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے، سب نے اپنے اپنے نام ڈال دیے اور یہ پوچھا تک نہیں کہ تھانے میں ایک محرر بھی ہوتا ہے جو کبھی کبھی خصوصی آپریشن میں بھی شامل ہو سکتا ہے لیکن اب آئے گا مزہ ... کیوں کیا ہوا ہے، ناراض سپاہی نے دروازے سے پلٹتے ہوئے پوچھا، محرر نے رپورٹ اٹھا کر دکھائی، یہ دیکھو قلندرے کی موت سانپ کے کاٹے سے ہوئی ہے، یہ کہانی تو اس جگہ ختم ہو گئی لیکن کیا کہانیاں کبھی ختم بھی ہوتی ہیں جی نہیں ہر کہانی کا اختتام دوسری کہانی کا آغاز ہوتا ہے، یہی کہانی ہٹلر کی بھی تھی۔
اسامہ بن لادن کی کہانی میں بھی اس قسم کے بہت سارے ٹوسٹ ابھی تک بیان ہو رہے ہیں اور ابھی انکشافات چل رہے ہیں، خود کئی امریکیوں نے لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن اس دن سے کہیں بہت پہلے مر گئے تھے جس دن آپریشن ایبٹ آباد میں ہوا تھا اور اس کی کیا تک ہے کہ نہ اس کی لاش کسی نے دیکھی نہ کوئی تصویر کھنیچی اور سیدھا لے کر سمندر میں ڈال دیا... کیوں؟ اگر اس کے مزار بننے یا مرجع خلائق بننے کا خدشہ تھا تو اچھی طرح ہر پہلو سے تصاویر نکال کر اور کچھ مبصروں کو دکھا کر بھی ایسا کیا جا سکتا تھا، مطلب یہ کہ ہر دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہوتا ہے اور اس امریکا کی تو طبیعت ہی ایسی ہے کہ دھلی ہوئی دال اسے پسند نہیں آتی جب بھی کھاتا ہے کالی دال ہی پسند کرتا ہے، لیکن ہماری پشتو میں ایک کہاوت بڑے مزے کی ہے کہ
زما لالے شو مڑ پہ توپک ووکہ لوڑ
یعنی میرے لالے کو مار دیا اور وہ مر گیا اب کیا پوچھنا کہ بندوق سے مارا یا لاٹھی سے یا پتھر اینٹ سے، لیکن یہ سیاست کی دنیا ہے اس میں کھوج تو رہتی ہے کہ لالے کو کس نے مارا اور کیسے مارا، حالانکہ موت تو بہرحال اپنا کام کرے گی چاہیے کوئی کتنی ہی دیواریں اپنے گرد کھڑی کر دیں ہمارا اپنا ایک شعر ہے
برقہ د وجہے او سبب پوختہ مہ کوہ
مرگ ھغہ ظالم دے پہ زرگو نوبانے جوڑے کڑی
یعنی سبب اور وجہ کا کیا ہے موت وہ ظالم ہے جو ہزاروں بہانے بنا لیتی ہے۔