اسلام کا تیسرا بنیادی رکن
ویسے تو پاکستان کی سیاست کے رنگ ہزار ہیں بلکہ آپ اسے مختلف رنگوں کا ایک بڑا سا مجموعہ سمجھ سکتے ہیں
ویسے تو پاکستان کی سیاست کے رنگ ہزار ہیں بلکہ آپ اسے مختلف رنگوں کا ایک بڑا سا مجموعہ سمجھ سکتے ہیں بلکہ اگر اسے مصور کا وہ سائیڈ ٹیبل سمجھ لیں جس کے اوپر رنگوں کے ڈبے بھی الٹتے رہتے ہیں، مصور اپنا برش بھی اس پر صاف کرتا ہے اور برش کو جھٹکتے وقت چھینٹے بھی پڑتے رہتے ہیں مطلب یہ کہ ہر طرح کی سرگرمیوں بلکہ برش گرمیوں اور رنگ گرمیوں کا ایسا مقام جسے آپ ست رنگ تو نہیں لیکن بد رنگ یا بے رنگ ضرور کہہ سکتے ہیں ؎
مجھ کو بے رنگ نہ کر دیں کہیں یہ رنگ اتنے
سبز موسم ہے ہوا سرخ فضا نیلی ہے
لیکن ان میں سب سے زیادہ غالب اور نمایاں اور اثر دار رنگ ''دو'' ہیں اور یہ ''دو رنگ'' ... دو کے اس عدد پر ایک اور بات یاد آگئی جو انھی دو میں سے ایک رنگ سے متعلق ہے، جناب بھٹو جب اپنے ''ڈیڈ'' سے ناراض ہو گئے یا ''مائی جہان'' نے ایک پرانے درخت کی جڑ سے ''نئی کونپل'' برآمد کرنے کا فیصلہ کیا تو سولو پرواز کرتے ہوئے ایک دن وہ پشاور بھی پہنچے، جناح پارک میں تقریر کرتے ہوئے وہ متحدہ اپوزیشن پر برسنے لگے تو بولے میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ ''کھچڑی'' پکا رہے ہیں اور اس کھچڑی میں تو ''آلو'' بھی ہیں، اشارہ ایئر مارشل اصغر خان اور نور خان کی طرف تھا۔
تو ہم بھی اگر پاکستان کی سیاست بلکہ پوری تاریخ کو رنگوں کی کھچڑی فرض کریں تو اس میں بھی دو ''آلو'' ہیں اور ان دونوں آلوؤں میں دوسری مماثلتوں کے علاوہ سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ دونوں ''شہید'' بھی ہیں، ویسے کبھی کبھی ہم اپنی کوتاہ علمی اور چھوٹی سمجھ دانی کی وجہ سے یہ سوچتے ہیں کہ شہید لوگ تو کہتے ہیں کہ بغیر حساب کتاب کے سیدھے جنت جائیں گے جیسے وی وی آئی پی لوگ ایئر پورٹ پر گرین چینل سے جاتے ہیں تو یہ دونوں آلو ... سوری شہید بھی گئے ہوں گے اور اگر اتفاق سے وہاں پڑوسی ہوئے تو؟ وہاں دونوں کے درمیان تعلقات کیسے ہوں گے، خیر وہاں کے اندیشہ ہائے دور و دراز پر زیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہاں بھی یہ دونوں ''رفو'' کا اتنا کام چھوڑ گئے ہیں کہ ماہر سے ماہر رفوگر بھی پاکستان کی قباء کو سالوں بلکہ صدیوں میں شاید ہی رفو کر پائے بلکہ دیکھتے ہی کہہ دے کہ
ہم تو سمجھے تھے کہ ہوں گے یہی دو چار ہی زخم
ترے دل میں تو بڑا کام رفو کا نکلا
عقیدت کی خاص طور پر اندھی عقیدت کی اور بات ہے ورنہ ان دونوں شہیدوں نے برائیوں کا پورا فیصل آباد والا گھنٹہ گھر چوک قائم کیا ہے کہ آج کل جس برائی کے پیچھے بھی جاؤ تو سر چشمہ ان ہی دونوں شہیدوں سے پھوٹتا ہوا نظر آئے گا، پہلے والے شہید کے بارے میں تو ہم فی الحال کچھ زیادہ نہیں کہیں گے کیوں روٹی کپڑا مکان کا سلسلہ جاری ہے اور اسلام ہمارا دین ہے جمہوریت سیاست ہے اور سوشلزم معیشت ہے ویسے کہا جائے تو بھٹو صاحب کھچڑی کے بہت بڑے ماہر تھے، لیکن اصل بات ہم دوسرے شہید کی کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا خیال ہے کہ اس موقع پر ایک چھوٹی سی کہانی بھی ہو جائے کیوں کہ آلو کے بغیر کھچڑی مزہ نہیں دیتی، ہندی دیو مالا میں ایک ادھرم راکھشش ہے ہرنیہ کشیپ، وہ وشنو بھگوان کا سخت مخالف اور دشمن ہے جب کہ اس کا بیٹا پرہلاد وشنو کا بھگت ہے وہ اپنے بیٹے کو راہ راست پر لانے کے لیے بہت کچھ کرتا ہے لیکن وشنو بھگوان اسے ہر بار بچا لیتا ہے۔
ہرنیہ کشیپ ایک مرتبہ بہت ساری تپسیا کر کے برھما سے ''امر'' ہونے کا وردان مانگتا ہے، برھما اسے کہتا ہے کہ یہ کرشی کے قانون کے خلاف ہے جو پیدا ہوتا ہے وہ مرے گا ضرور، تم کچھ اور مانگو تو ہرنیہ کشیپ یہ وردان مانگتا ہے اسے نہ کسی استر سے نہ شستر یعنی کسی بھی کسی کے ہتھیار سے نہ مارا جا سکے نہ اسے انسان مار سکے نہ راکھشش نہ دیوتا نہ سانپ نہ آسمان کے نیچے، اسے نہ کسی مکان میں مارا جا سکے اور نہ کھلے میں اسے نہ رات کو مارا جا سکے نہ دن کو ۔ یہ وردان پا کر وہ بڑا خوش ہوتا ہے کہ میں امر ہو گیا جو مارنے کی صورتیں ہو سکتی تھیں ان سے تو میں مبرا ہو گیا ... لیکن جب وقت آتا ہے تو وشنو بھگوان نرسمہا یعنی آدھے انسان اور آدھے شیر کا روپ لے کر آتا ہے اسے پکڑ کر بالکونی میں لے جاتا ہے اور اپنے گھٹنوں پر لٹا کر ناخنوں سے اس کا پیٹ پھاڑتا ہے اور یہ چیز اس کے وردان سے باہر تھی۔
ہندی دیو مالا میں اس طرح کی پرپیج کہانیاں اور برے لوگوں کی غلطی کرنے کے بہت سارے واقعات ہیں لیکن ہمارے ہاں صرف ایک واقعہ ہوا ہے جب کوئی شخص نہ زمین پر نہ آسمان میں نہ کسی ہتھیار سے نہ گولی سے نہ تلوار سے اور نہ کسی انسان یا حیوان کے ہاتھ سے شہید ہوا ہو، خیر وہ سب جانے دیجیے لیکن آں شہید نے جس طرح اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک کو مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے اس کا ازالہ شاید ہی کبھی ہو، اسلام کا تیسرا رکن جو زکوٰۃ کے نام سے معروف ہے ایک اتنا اور ھمہ جہت اصول ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنا ممکن ہے جس میں شاید تھوڑی بہت ناہمواری تو ہو ٹیلے اور گڑھے بھی ہوں لیکن یہ ناممکن ہو گا کہ ایک کا سر ھمالیہ سے اونچا ہو جائے اور دوسرا پاتال میں جا پہنچے، زکوٰۃ کا نظام ایک ایسا نظام ہے کہ اس سے ایک بہترین معیشت بنائی جا سکتی ہے، اگر صاحبان نصاب مسلسل زکوٰۃ دیتے رہیں تو معاشرے میں شاید کوئی بھوکا ننگا بھی نہ رہے۔
بیمار اور لاچار بھی نہ رہے اور جرائم پر بھی مجبور نہ ہونا پڑے اور صاحبان نصاب کے پاس اتنے بڑے بڑے سرمائے کے پہاڑ بھی نہ بن سکیں کیوں کہ اس میں وہ ''زر'' بھی گردش میں آتا ہے جو سونے جواہرات کی صورت میں منجمد پڑا رہتا ہے، لیکن امیر المومنین جدید نے اس اہم ترین اور ضروری معاشی تقسیم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، بینکوں کے ذریعے زبردستی کاٹی جانے والی رقم زکوٰۃ یا عشر وغیرہ ہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں زبردستی سرے سے جائز ہی نہیں ہے، زکوٰۃ و عشر ہو یا روزہ نماز ہو یا حج ... کسی میں بھی نہ تو زبردستی ہے اور نہ ہی یہ حکومت کے اختیار میں کہ مال کا مالک اپنی خوشی اور محض اللہ کا حکم پورا کرنے کے لیے خود ہی حساب کتاب کر سکتا ہے اور اپنی مرضی سے جسے مستحق جانتا ہے اسے دے سکتا ہے۔
ہاں البتہ اسے مزید سنوارنے کے لیے یہ ہدایت رکھی گئی کہ یہ سلسلہ اپنے قریب سے شروع کیا جائے، اس میں مصلحت یہ ہے کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ کون کتنا مستحق ہے، لیکن ہمارے صاحب نے اپنا یہ حکم جاری کیا ہے کہ زکوٰۃ بینکوں کے ذریعے زبردستی کاٹی جائے، اس کی تو بات ہی نہیں کریں گے کہ زکوٰۃ و عشر بینکوں کے ذریعے کٹ کر کہاں جاتی ہے کن مستحقین میں تقسیم ہوتی ہے تقسیم کرنے والی کمیٹیاں کیا ہوتی ہیں کیسے ہوتی ہیں اور کیا بلکہ کیا کیا کرتی ہیں لیکن اتنا بڑا گند پھیلانے کے باوجود چونکہ وہ شہید ہیں اس لیے کوئی مواخذہ نہیں کوئی حساب کتاب نہیں حالانکہ یہ جو کچھ شروع کیا جا چکا ہے اسے درست کرنا شاید ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔