ریلوے نے ڈھائی کروڑ سے زائد بجلی کا بل عدالت میں چیلنج کردیا

ریلوے کالونی میں 300 مکین بجلی چوری کرتے ہیں،کے ای ایس سی، نوٹس جاری.


Staff Reporter November 24, 2012
ریلوے کالونی میں 300 مکین بجلی چوری کرتے ہیں،کے ای ایس سی، نوٹس جاری. فوٹو: فائل

پاکستان ریلوے نے کے ای ایس سی کی جانب سے ارسال کردہ ڈھائی کروڑ روپے سے زائد بل سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

کے ای ایس سی نے موقف اختیارکیا ہے کہ ریلوے کالونی کراچی کے سینکڑوں گھروں میں چوری کی بجلی استعمال ہوتی ہے،کالونی کے اکثرمکین کنڈے استعمال کرکے کے ای ایس سی کو بھاری مالی نقصان پہنچا رہے ہیں، جسٹس منیب اختر پر مشتمل سنگل بینچ نے فریقین کو 3 دسمبر کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں،پاکستان ریلوے کی جانب سے دائر درخواست میں کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسراور جنرل منیجر کو فریق بنایاگیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ ریلوے ایک معاہدے کے تحت کے ای ایس سی سے 11ہزار وولٹ بجلی حاصل کرتا ہے اور اپنے ٹرانسفارمرزکے ذریعے اسے مختلف مقامات تک پہنچاتا ہے۔

یہ بجلی پمپنگ اسٹیشن اور ریلوے کالونی میں قائم ریلوے کوارٹرز تک بھی پہنچائی جاتی ہے،کوارٹرز میں بجلی کے علیحدہ میٹرز نصب ہیں اور بجلی کے ای ایس سی کے زیرزمین تاروں کے ذریعے پہنچتی ہے اس لیے ریلوے کوارٹرز میں بجلی چوری کا کوئی امکان نہیں اس کے باوجود کے ای ایس سی نے 18مئی 2012 کو ریلوے کو ایک نوٹس کے ذریعے متنبہ کیا کہ ریلوے کوارٹرز میں بڑے پیمانے پر بجلی چوری ہورہی ہے جس سے کے ای ایس سی کو بھاری مالی نقصان ہورہا ہے .

بعد ازاں کے ای ایس سی نے دو کروڑ68لاکھ روپے سے زائد کا بل بھیج دیا اور ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں ریلوے کو فراہم کی جانے والی بجلی بھی منقطع کرنے کی دھمکی دیدی ، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کے ای ایس سی کی جانب سے بھیجا گیا بل غیرقانونی اور بلاجواز قراردیا جائے ،کے ای ایس سی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریلوے کالونی میں ایک مرکزی میٹرنصب ہے جس سے کوارٹرز کے مکینوں کو بجلی فراہم کی جاتی ہے ،کالونی میں 300سے زائد مکین بجلی چوری کرتے ہیں اور کے ایس ایس سی نے سروے اور جانچ کے بعد یہ بل بھیجا ہے۔عدالت نے فریقین کو 3دسمبر کیلئے نوٹس جاری کردئیے ہیں۔