کالم نگار کاؤس جی 86 برس کی عمر میں چل بسے

طویل عرصے تک کالم لکھتے رہے، ایکسپریس میں بھی شائع ہوئے


Staff Reporter November 25, 2012
بھٹو دور میں 72دن جیل کاٹی،آخری رسوم منگل کواداکی جائیںگی۔ فوٹو: فائل

معروف کالم نگارارد شیرکاؤس جی 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

وہ یکم اپریل 1926 ء کوکراچی میں پیدا ہوئے، پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے کاؤس جی معروف کاروباری شخصیت رستم فقیر کاؤس جی کے فرزند تھے جو جہاز رانی کے شعبے سے وابستہ تھے،انھوں نے ممتاز تعلیمی ادارے بی وی ایس پارسی ہائی اسکول اور ڈی جے سائنس کالج سے تعلیم حاصل کی، بعدازاں وہ اپنے والد کے کاروبار سے منسلک ہوگئے ، 1953 ء میں ان کی شادی نینسی ڈنشاء سے ہوئی۔

ان کی اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے،کاؤس جی مقامی انگریزی روزنامے میں طویل عرصے کالم لکھتے رہے ، ان کے کالم روزنامہ ایکسپریس میں بھی شائع ہوتے رہے ، وہ تقریباً 20سال تک کالم لکھتے رہے ۔ 25دسمبر 2011ء کو انھوںنے اپنا آخری کالم تحریر کیا اور اپنے قارئین کو الوداع کہا ،وہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں سرگرم تنظیم 'شہری' کے سرپرست بھی تھے، انھیں پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورحکومت1973ء میں پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا سربراہ مقرر کیا اور بعد ازاں وہ اس عہدے سے فارغ ہوگئے اور دلچسپ امرہے کہ76ء میں بھٹودور میں ہی انھوں نے 72دن جیل میں گذارے۔

ان کا ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں سے اختلاف ہوگیا اور انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت شروع کرتے ہوئے ان کے خلاف کالم لکھنا شروع کردیے۔ کاؤس جی ملک کے بڑے بڑے اداروں میں ہونے والی کرپشن کو بھی بے نقاب کرتے تھے اور حکمرانوں کی نااہلی کی بھی نشاندہی کرتے تھے۔ آنجہانی کاؤس جی طویل عرصے سے علیل ہونے کی بنا پر اسپتال میں زیر علاج تھے اور ہفتے کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، کاؤس جی کی آخری مذہبی رسومات ان کی رہائش گاہ 10 میری روڈ باتھ آئی لینڈ میں ادا کی جائیں گی اور بعد ازاں جسد خاکی کو مذہبی عقائد کے مطابق محمود آباد روڈ پر واقع ٹاور آف سائلنس لے جایا جائے گا۔

دریں اثنا ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کاؤ س جی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ انھوں نے شعبہ صحافت کے لیے خدمات پر کاؤ س جی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔انھوں مرحوم کے سوگوار اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ صدر، وزیر اعظم، نواز شریف، شہباز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر نے بھی ان کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔