بلوچستان میں دہشت گردانہ حملے جاری

کالعدم لشکر جھنگوی کے ترجمان نے واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔


Editorial July 01, 2016
کالعدم لشکر جھنگوی کے ترجمان نے واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ فوٹو؛ فائل

صوبہ بلوچستان ایک عرصے سے شورش و بدامنی کا شکار ہے جب کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین، پولیس و ایف سی اہلکاروں پر بزدلانہ حملے کیے جا رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں بدھ کی شام کوئٹہ کے علاقے ڈبل روڈ پر رئیسانی سینٹر کے باہر ایف سی اہلکار سوئی سے گاڑی مرمت کرانے کے لیے آئے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اچانک ان پر فائرنگ کر دی جس سے چاروں اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے، فائرنگ کی زد میں آ کر ایک راہگیر بھی زخمی ہو گیا۔

کالعدم لشکر جھنگوی کے ترجمان نے واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ شرپسند عناصر کی جانب سے قانون کے رکھوالوں پر اس طرح کے بزدلانہ حملے ان کا مورال نہیں گرا سکتے، سیکیورٹی فورسز دل جمعی کے ساتھ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مصروف عمل ہیں۔ گزشتہ روز آواران کے علاقے مشکے میں سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 شرپسند ہلاک ہو گئے۔ جب کہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شرپسند عناصر قانون کے رکھوالوں کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات کو بھی اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایک خبر کے مطابق تحصیل نالے کے علاقے گولی گریشہ میں نامعلوم افراد نے گھر میں داخل ہوکر نیشنل پارٹی کے رہنما سابق یونین ناظم کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اﷲ خان زہری نے ایف سی اہلکاروں پر حملے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کارفرما دہشت گرد تنظیمیں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر کے خوف و ہراس پیدا کرنا اور سیکیورٹی اداروں کے حوصلے پست کرنا چاہتی ہیں تاہم ان ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔

اس حقیقت سے نگاہیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ بلوچستان کا خطہ ایک عرصے سے بدامنی کی آماجگاہ ہے، اس صوبے کے عوام سہولیات سے بے بہرہ اور ناانصافی کا شکار ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں شرپسند و دہشت گرد عناصر کو پنپنے کا موقع باآسانی مل سکا، لیکن اس کا خمیازہ بھی عوام کو ہی بدامنی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ سیکیورٹی فورسز ایک عرصے سے شرپسندوں کی بیخ کنی میں مصروف ہیں، اور زخم خوردہ دہشت گردی بزدلانہ حملوں میں ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صائب ہو گا کہ سیکیورٹی اہلکار بھی ہر وقت چوکنا رہیں تا کہ شرپسند عناصر اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں، نیز دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنا اور مکمل فعال ہونا ہو گا۔