پاورسیکٹرکیلیے بینکوں سے حاصل کردہ قرضہ ری شیڈول کرانیکا فیصلہ

اصل رقم کی واپسی 2 اکتوبر2017 تک موخر، مدت 15 ماہ کے بجائے 5 سال،گریس پیریڈ 3 ماہ سے بڑھا کر 2 سال کیا جائیگا


Irshad Ansari July 03, 2016
اصل رقم کی واپسی 2 اکتوبر2017 تک موخر، مدت 15 ماہ کے بجائے 5 سال،گریس پیریڈ 3 ماہ سے بڑھا کر 2 سال کیا جائیگا۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے مالیاتی خسارے کو کم رکھنے کے لیے اور مالی مسائل کے باعث پاور سیکٹر کے لیے بینکوں سے حاصل کردہ سات ارب48 کروڑ 70 لاکھ روپے کا قرضہ ری شیڈول کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت بینکوں کے سنڈیکیٹ کو قرضے کی اصل رقم کی واپسی دو اکتوبر 2017 تک موخر ہوجائے گی۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے ری شیڈولنگ کے معاہدے کی منظوری دیدی ہے۔ اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کی شدید قلت کے باعث وفاقی حکومت قلیل المدت اور طویل المدت اقدامات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کررہی ہے جس کے لیے کاسٹ ریکوری ٹیرف پر عملدرآمد کیا جارہا ہے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن لاسز کو کم کیا جارہا ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوری کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو درپیش کیش فلو کے مسائل حل کرنے کے لیے ملک کے مقامی بینکوں سے قرضوں کا بندوبست کرنے کے حوالے سے ان کو سہولت فراہم کی جارہی ہے اور اسی اقدام کے تحت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بارہ اگست 2015 کو ہونے والے اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کی جانب سے سات جولائی 2015 کو بھجوائی جانے والی سمری کی منظوری دی اور اس سمری کی منظوری کے تحت پاور سیکٹر کے لیے بینکوں کے کنسورشیم سے سنڈیکیٹ ٹرم فنانسنگ فسیلٹی کے تحت سات ارب48 کروڑ 70 لاکھ روپے کا قرضہ حاصل کرنے کے لیے وزارت خزانہ کو خودمختار گارنٹی دینے کی اجازت دی گئی۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ یہ قرضہ پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹد کے ذریعے لیا گیا جس کا معاہدہ بھی بینکوں کے سنڈیکیٹ اور پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ(پی ایچ پی ایل) کے درمیان اس معاہدے کے تحت یہ قرضہ15 ماہ کی مدت کے لیے لیا گیا تھا جس کے لیے تین ماہ کا گریس پیریڈ دیا گیا تھا۔ یہ قرضہ تین ماہ کے کراچی انٹر بینک آپریشنل ریٹ(کے آئی بی او آر) پلس دو فیصد سالانہ سپریڈ ریٹ پر حاصل کیاگیا تھا۔

معاہدے کے مطابق مذکورہ قرضے پر عائد سودسہ ماہی بنیادوں پر ادا کرنا تھا جبکہ اصل رقم گریس پریڈ ختم ہونے کے بعد چار مساوی سہ ماہی اقساط میں جمع کروانا تھی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کے لیے یہ قرضہ حاصل کرنے کے بعد اس قرضے کی واپسی کی میعاد شروع ہوئی جس کے لیے وزارت خزانہ نے سود کی ادائیگی کی مدمیں پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے بینکوں کے سنڈیکٹ کو 33 کروڑ 23 لاکھ24 ہزار341 روپے کی ادائیگی بھی کی چونکہ گریس پریڈ بھی مکمل ہوچکا تھا اور اس کے بعد اصل رقم کی مد میں ایک ارب 87 کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار روپے کی پہلی قسط جنوری 2016میں ادا کرنا تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ مالی مسائل زیادہ تھے اور اگر دو سہ ماہی اقساط ادا کی جاتی تو اس سے حکومتی اخراجات بڑھ جاتے اور مالیاتی خسارا بہت زیادہ ہوجانا تھا کیونکہ مزید ادائیگیاں بھی کرنا تھیں جس کے باعث وزارت خزانہ نے پاور ہولڈنگ پرائیوٹ لمیٹڈ کو بینکوں کے سنڈیکیٹ کے ساتھ قرضے کو ری شیڈول کرنے کیلیے مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا اور ہدایت کی کہ قرضے کی شرائط میں کسی قسم کی تبدیلی کے بغیر قرضے کو ری شیڈول کروایا جائے جس میں پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو کامیابی حاصل ہوئی اور بینکوں کے سنڈیکیٹ نے شرائط میں کسی قسم کی تبدیلی کیے بغیر پاور سیکٹر کیلیے جاری کیے جانے والے سات ارب48 کروڑ 70 لاکھ روپے کے قرضے پر پندرہ ماہ کے بجائے پانچ سال کیلیے کرنے اور گریس پیریڈ کی معیاد تین ماہ سے بڑھا کر دو سال کرنے پر آمادگی ظاہر کی جس کے باعث وزارت پانی و بجلی نے قرضے کی ری شیڈولنگ کے لیے سمری تیار کرکے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوائی جس کی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اپنے 29 جون 2016 کو ہونے والے اجلاس میں منظوری دے دی ہے اورکہا ہے کہ بینکوں کے سنڈیکیٹ کے ساتھ پانچ سال کے لیے معاہدہ کیا جائے جس میں گریس پیریڈ بھی تین ماہ سے بڑھا کر دو سال کیا جائے۔

البتہ قرضے پر سود سمیت دیگر شرائط پُرانی ہی برقرار رہیں گی اور اس نئے معاہدے و قرضے کی ری شیڈولنگ کے باعث قرضے کی اصل رقم کی واپسی دو اکتوبر 2017 تک موخر ہوجائیگی اور دو اکتوبر2017 کے بعد قرضے کی اصل رقم کی واپسی شروع ہوگی۔