دہشت گردوں کے حملے کب تک جاری رہیں گے

ماہ مقدس کے پہلے دن گوادر کوسٹ گارڈ چوکی پر راکٹ حملے اور فائرنگ...


Editorial July 22, 2012
ایسا لگتا ہے کہ حکمران ملک میں ہونیوالی دہشت گردی اور تخریب کاری کے خطرات کی سنگینی کو کما حقہ محسوس نہیں کر رہے

ہفتے کو جہاں ایک طرف رمضان شریف کے مقدس اور رحمتوں اور برکتوں والے مہینے کا آغاز ہوا وہاں مملکت خداداد پاکستان ایک کونے سے دوسرے کونے تک دہشت گردی کی کارروائیوں اور دھماکوں سے گونج اٹھا۔ ان واقعات میں سب سے سنگین اور تشویش ناک بلوچستان کی بندرگاہ گواد ر کوسٹ گارڈ چوکی پر راکٹ حملے اور فائرنگ کاسانحہ ہے جس کے نتیجے میں آٹھ اہلکار شہید ہو گئے۔

اخبارات میں شایع ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کی وردیوں میں ملبوس' مسلح افراد نے کیا جو گاڑی میں سوار تھے۔ حملہ گوادر کے علاقہ پیشکان میں کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹ پر کیا گیا۔ ادھر پاکستان کی قبائلی ایجنسی کرم میں حکومت کے حامی ایک جنگجو کمانڈر کے ٹھکانے پر بارود بھری گاڑی سے خود کش حملہ کیا گیا۔ ملا نبی نامی کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم اس خود کش حملے میں پانچ بچوں سمیت بارہ افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کرم ایجنسی کا واقعہ تو جنگجووں کے باہمی اختلافات کا شاخسانہ ہے لیکن گوادر کا سانحہ خاصا تشویش ناک ہے۔ گوادر چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ قریبی پہاڑی علاقوں میں فرار ہو گئے۔ حملہ آور کوسٹ گارڈ چوکی کا تمام اسلحہ بھی لوٹ کر ساتھ لے گئے۔ کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ وطن عزیز میں ہر دو جانب دہشت گردی اور تخریب کاری کی خبریں عوام الناس سے زیادہ حکمرانوں کے لیے باعث تشویش ہونی چاہئیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمران اس حوالے سے محض زبانی جمع خرچ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ خطرات کی سنگینی کو کما حقہ محسوس نہیں کر رہے۔

اعلان کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹا جائے گا مگر اگلے ہی روز ایک اور دھماکا ہو جاتا ہے جو گزشتہ روز والے واقعے کو منظر سے غائب کر دیتا ہے مگر حکومت کی طرف سے اس واقعہ سے بھی آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے کا ایک اور دعویٰ میڈیا کی زینت بن جاتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کا حکومت کے بیانات اور دعوؤں پر اعتبار و اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ ابھی اگلے روز کی ہی بات ہے جب حکومتی ذمے داروں کی طرف سے بڑے یقین واعتماد کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ رمضان شریف میں سحری افطاری کے موقع پر بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔

مگر ابھی دوسرا روزہ پوری طرح شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ سرکاری دعووں کے برعکس لوڈشیڈنگ حسب معمول شروع ہو گئی۔ یہ تو محض جملہ معترضہ ہے، اصل موضوع یہ ہے کہ ملک اس وقت انتہائی خطرناک حالات سے گزر رہا ہے۔قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان عرصے سے ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں بدامنی کی بڑی وجہ بیرونی سازشیں بتائی جاتی ہیں۔

اگر یہ درست ہے تو پھر ان سازشوں سے نمٹنے کے لیے صرف داخلی بندوبست ہی کافی نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں بیرونی محاذ یعنی اپنی سفارتکاری پر بھی توجہ دینا ہو گی اور جن بیرونی طاقتوں پر بلوچستان میں ملوث ہونے کا شبہ ہو انھیں کوئی سخت پیغام پہنچانا چاہیے تا کہ وہ اپنی سازشوں سے باز آ جائیں نیز ہمیں بلوچستان میں ہمیں ان کے ایجنٹوں کا اتہ پتہ بھی چل سکے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری بات بلوچ بھائیوں کی رنجشیں دور کرنے کی کوششیں کرنے کی ہے۔

ایسی کوششیں الیکشن کے قریب ضرور نظر آنے لگتی ہیں مگر یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد صورت حال پھر پرانے' بے ڈھنگے معمول پر آ جاتی ہے۔ گوادر کوسٹ گارڈ پوسٹ پر حملہ اس اعتبار سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے کہ اس سے ملک کی اس نہایت اہم بندرگاہ کے آپریشنل ہونے میں خوامخواہ کی تاخیر پیدا ہو سکتی ہے حالانکہ یہ اس قدر اہم منصوبہ ہے جس کی تکمیل ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

کرم ایجنسی کے واقعے کے حوالے سے ہماری عسکری قیادت پہلے ہی بے حد چوکس ہے اور وطن عزیز کے جانباز مجاہد مادر وطن کے تحفظ کی خاطر جان کی بازی لگانے میں لحظہ بھر بھی دریغ نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی کمی ضرور نظر آتی ہے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ وہ قومی اہمیت کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست دان ناممکن کو ممکن بنانا جانتے ہیں۔

نئے چیف الیکشن کمشنر کا متفقہ تقرر اس کا عملی ثبوت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے۔ یہ باتیں کس قدر درست ہیں ، ملکی حالات سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر محض حکومت بچانے کی حکمت عملی کو ناممکن کو ممکن بنانا سمجھا جائے تو اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن ملک کی معیشت اور دہشت گردی کی طرف نظر دوڑائیں تو اس معاملے میں حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔ فاٹا ہو یا بلوچستان ان علاقوں میں ایسے گروہ سرگرم عمل ہیں جو ریاست کی رٹ کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔

دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ریاست کی کمٹمنٹ کمزور نظر آتی ہے۔ موجودہ جمہوری سیٹ اپ میں جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں، دہشت گردی اور بلوچستان کے حوالے سے ہر ایک کے نقطہ نظر میں نمایاں اور واضح فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے حوالے سے ہٹ ہارڈ پالیسی اختیار نہیں کی جاسکی۔ ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل نظر آتی ہے۔ اس صورت حال میں نقصان عوام کا ہو رہا ہے یا سیکیورٹی فورسز کا جو کہ مادروطن کا اصلی اور ازلی خسارہ ہے۔

فاٹا اور بلوچستان میں جو گروہ سرگرم عمل ہیں، ان کے نظریات اور فکر میں فرق ہے لیکن ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا ریاست پاکستان کو کمزور کرنا ہے، یہ ایجنڈا ان کے درمیان اتحاد کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ ہماری ایجنسیوں اور سیاسی قیادت کو اس حوالے سے بھی غور کرنا چاہیے۔

ریاست کے ساتھ لڑنے والے گروہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان سے مذاکرات کی باتیں اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں لیکن اس حقیقت کو مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ ریاست سے لڑنے والوں سے مذاکرات یا گفتگو اسی وقت ہوتی ہے جب وہ ہتھیار پھینک دیں، پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس حوالے سے کوئی ٹھوس پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ ملک سے دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی کمر توڑی جاسکے اور اس عفریت سے نجات حاصل کی جا سکے۔