غیر معیاری سلنڈرزکیخلاف کارروائی کی جائے عدالت عالیہ

عدالت نے سماعت 11جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے مدعا علیہان کوکمنٹس داخل کرنے کی ہدایت کردی۔


Staff Reporter November 29, 2012
فاضل بینچ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ ایل پی جی بھی ایک سلنڈرسے دوسرے سلنڈر منتقل کر نے کی اجازت نہیں دی جاسکتی. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکام کوہدایت کی ہے کہ شہر کی ٹرانسپورٹ میں نصب غیر معیاری سلنڈرز،ٹینکس کے خلاف فوری اور موثر کارروائی یقینی بنائیں۔

ایسی گاڑیوں کے سڑک پر آنے اور مسافروں کو اٹھانے سے بھی روکا جائے، فاضل بینچ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ ایل پی جی بھی ایک سلنڈرسے دوسرے سلنڈر منتقل کر نے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

بینچ نے یہ احکامات یونائٹیڈ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیے،درخواست میں وزارت پٹرولیم سمیت دیگر حکومتی اداروں کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بسوں ،کوچوں اور مسافر ویگنوں میں غیر معیاری سی این جی سلنڈرز پھٹنے اورلیک ہونے سے حادثات میں اضافہ ہورہاہے،غیر معیاری سلنڈرز کی تنصیب کے خلاف حکم امتناع جاری کیا جائے،اوگرا اور پاکستان کوالٹی و اسٹینڈرڈ اتھارٹی کو ہدایت کی جائے کہ وہ پمپس کوپابند کریں کہ وہ صرف انہی گاڑیوں کوسی این جی فراہم کریں جن میں اوگر کے منظور شدہ ڈیلروں کے فراہم کردہ سلنڈرز نصب ہوں تاکہ مزید حادثات سے بچا جاسکے ، مزید یہ کہ ایل پی جی کی دوکانوں میں ایک گیس سلنڈر سے دوسرے سلنڈر میں فلنگ کوروکا جائے،درخواست کی سماعت پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب داخل کرنے کے لیے وقت مانگا، عدالت نے سماعت 11جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے مدعا علیہان کوکمنٹس داخل کرنے کی ہدایت کردی۔