عالمی بینک نے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی معاونت بند کر دی

ورلڈ بینک نے2009میں سیلابی صورتحال پر ایڈز کی امداد روک کر سیلاب متاثرین کیلیےمختص کردی،منصوبہ اب حکومتی اعانت سے جاری


Staff Reporter December 01, 2012
حکومت کے تعاون سے 637 ملین کا منصوبہ 2014تک جاری رہیگا، متاثرہ ماں سے بچے کو بچانے کیلیے محفوظ زچگیاںکرائی گئیں، ڈاکٹر قمر فوٹو: فائل

پاکستان میں ورلڈبینک کی مالی معاونت سے چلنے والا ایڈزکنٹرول پروگرام غیرفعال ہے۔

تاہم صوبہ سندھ میں ورلڈبینک کی مالی امداد بندکیے جانے کے بعد یہ منصوبہ حکومت کی مالی امداد سے جاری ہے، ورلڈ بینک نے2009 میں سندھ میںسیلابی صورتحال کی وجہ سے ایڈزکنٹرول کی مالی امداد روک کریہ امدادسیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے مختص کی تھی۔

m3

جس کے باعث سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے بند ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے تھے تاہم وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد کی کوششوں کی وجہ سے حکومت سندھ نے اس منصوبے کے تحت متاثرین کے علاج کیلیے 637 ملین روپے کا پی سی ون منظورکیا تاکہ ایڈز اورایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کوعلاج کی سہولتیں میسر آسکیں ،اب یہ منصوبہ حکومت سندھ کے تحت صوبے میں 2014 تک جاری رہے گا ، کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی منیجر ڈاکٹر قمرعباس نے بتایاکہ اس منصوبے کے تحت سندھ میں ایڈز سے متاثرہ والدین کے علاج اورخصوصاً حاملہ ماؤںکی محفوظ زچگیاں کرائی جارہی ہیں۔

m3-1

تاکہ ان کے پیداہونے والے بچے ایچ آئی وی اور ایڈزکے مرض سے محفوظ رہ سکیں انھوں نے بتایاکہ اس پروگرام کے تحت اب تک 80 فیصد محفوظ زچگیاں کرائی گئی ہیں اورمتاثرہ والدین کے پیدا ہونے والے بچوں میں ایچ آئی وی کا مرض نہیں، انھوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے سے قبل کورس کرایاجاتا ہے جس کے بعد پیدا ہونے والے بچے اس وائرس سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔