سچل ڈاکوؤں نے گھر سے42لاکھ زیورات اور نقدی لوٹ لی

واردات میں ملوث ملزمان کی تعداد5تھی جو تربیت یافتہ تھے،پشتو زبان میں بات چیت کر رہے تھے.


Staff Reporter December 02, 2012
فوٹو: فائل

سچل تھانے کی حدود گلزار ہجری اسکیم33میں واقع ٹیچر سوسائٹی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کے گھر سے مسلح ملزمان42لاکھ روپے سے زائد مالیت کے طلائی زیورات ، ملکی و غیر ملکی کرنسی اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق سچل تھانے کی حدود بنگلہ نمبرA/3ٹیچر سوسائٹی سیکٹر19اسکیم33 گلزار ہجری کے رہائشی شکیل کے گھر سے مسلح ملزمان65تولہ سے زائد کے طلائی زیورات ، 4لاکھ 25ہزار روپے نقد میں400امریکی ڈالر بھی شامل ہیں ، LCD، TV ، 2 بلیک بیری سمیت7موبائل فون ، ایک لیپ ٹاپ ، ایک کمپیوٹر ایل سی ڈی اسکرین ، 2ڈیجیٹل کیمرے ، 10دستی گھڑیاں اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے ٹیچر سوسائٹی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اور متاثرہ گھر کے مالک شکیل نے بتایا کہ ہفتے کو صبح 5 بجے 5ملزمان جن کی عمریں تقریباً30سے35سال کے درمیان تھیں ۔

ایک ملزم دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا اور گیٹ کھول دیا جس پر دیگر تمام ملزمان بھی گھر میں داخل ہو گئے اور اوزاروں کی مدد سے دروازے کا لوک کھول کر گھر کے اندر داخل ہو گئے ، ملزمان سب سے پہلے ان کے بیڈ روم میں داخل ہوئے اور لائٹ جلائی جس پر ان کی آنکھ کھلی تو اپنے سر پر مسلح افراد کو دیکھا بیڈ روم میں ان کی اہلیہ اور ایک بچی تھی، ملزمان نے شور مچانے پر قتل کرنے کی دھمکی دی اور الماری کی تجوری سے نقدی ، طلائی زیورات اور دیگر سامان نکالنے کے بعد بالائی منزل پر چلے گئے اور وہاں ان کی والدہ اور2 بھائیوں عقیل ، جمیل اور ان کی بیویوں کو اٹھا کر تمام افراد کو ایک جگہ پر جمع کر دیا، ملزمان نے بھائیوں اور والدہ کے کمروں کی الماریوں سے بھی سارا سامان ایک جگہ پر جمع کر لیا ۔

ملزمان نے عقیل اور جمیل کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا تاہم انھوں نے ملزمان سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی کیونکہ وہاں پر شیر خوار ، کم سن بچے اور خواتین بھی تھیں اور ملزمان نے دھمکی دی تھی کہ وہ کسی بھی شخص کے مزاحمت کرنے کی صورت میں فائرنگ کرنے سے دریغ نہیں کریں گے ، انھوں نے بتایا کہ ملزمان انتہائی تربیت یافتہ تھے جو آپس میں پشتو زبان میں بات چیت کر رہے تھے ، واردات کے دوران ملزمان مصنوعی زیورات ایک طرف پھینکتے جا رہے تھے، ملزمان جب طلائی زیورات الماریوں سے نکال کر اپنے پاس رکھ رہے تھے شکیل کی والدہ نے کہا کہ بیٹا یہ مصنوعی ہیں جس پر ملزمان نے کہا کہ اماں اگر ہم مصنوعی اور اصلی نہیں پہچان سکیں گے تو یہ کام چھوڑ دیں گے۔

m2

انھوں نے بتایا کہ فجر کی ازان ملزمان کی موجودگی میں ہوئی تھی جبکہ جب وہ گئے تو اجالا ہو چکا تھا، ملزمان ٹیچر سوسائٹی کی دیوار سے متصل کریم بھائی سوسائٹی کی دیوار پھلانگ کر آئے تھے اور وہیں سے واپس گئے، وہ اپنی کار تقریبا500 کلو میٹر کے فاصلے پر زیر تعمیر سوسائٹی کے قریب سنسان جگہ پر کھڑی کر کے آئے تھے، بعد ازاں علاقہ پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر ایڈیشنل ایس ایچ او سہیل اعوان پولیس پارٹی کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے پورے گھر اور علاقہ کا جائزہ لیا اور اہلخانہ کے بیانات قلمبند کیے فنگر پرنٹ ایکسپرٹ کو طلب کر لیا ۔

فنگر پرنٹ ایکسپرٹ دوپہر کو متاثرہ گھر پہنچے اور کیمیکل کی مدد سے پورے گھر سے فنگر پرنٹ اکھٹے کیے بعد ازاں سچل پولیس نے شکیل کی مدعیت میں5نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ، علاقہ مکینوں نے بتایا کہ سچل تھانے کی حدود میں ڈکیتی ، رہزنی سمیت دیگر سنگین وارداتوں کو تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے انھوں نے بتایا کہ ایس ایس پی ملیر خود مبینہ طور پر ایک راشی افسر ہے جو صرف موجودہ حکومت میں پیسے بنانے میں لگا ہوا ہے، اس کو ملک کی ایک اعلیٰ شخصیت کا آشیر باد حاصل ہے جس کے باعث وہ آئی جی سمیت کسی اپنے سے بالا افسر کو اہمیت نہیں دیتا۔

مکینوں کے کہنا تھا کہ ضلع ملیر ڈویژن کے ایس ایس پی کے پاس ایک اور ڈویژن کا چارج بھی ہے ، ان دنوں ڈویژنوں کے ایس ایچ اوز ان کی مرضی کے بغیر نہیں لگ سکتے، اگر ایڈیشنل آئی جی کراچی ان کی اجازت کے بغیر کسی کو ایس ایچ او تعینات بھی کر دے تو وہ اسے چارج لینے نہیں دیتے۔