مندر کا انہدام سیکڑوں ہندوئوں کا مظاہرہ تعمیر نو کا مطالبہ

پولیس اور کنٹونمنٹ بورڈ کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، رمیشن کمہار.


Staff Reporter December 03, 2012
پولیس اور کنٹونمنٹ بورڈ کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، رمیشن کمہار۔ فوٹو: فائل

کراچی کے گنجان آباد علاقے گارڈن کے محلے ڈولی کھاتہ میں قیام پاکستان سے قبل تعمیر کیا جانے والے مندر کے انہدام کے خلاف ہندو برادری کے سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیاکہ فوری طور پر مندر کی تعمیر نو کی جائے اور انہدام کے دوران مقدس مورتیوں کی بے حرمتی کرنے والے پولیس اور کنٹونمنٹ بورڈ کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ڈائریکٹر ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ زینت احمد کے مطابق مندر اور ان سے ملحقہ کچے مکانات کی زمین کا تنازع طویل عرصے سے عدالتوں میں زیر سماعت تھا اور عدالت عالیہ کی جانب سے بلڈر کے حق میں فیصلہ صادر کردیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ عدالت نے انھیں زمین پر قائم تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے ہفتے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا جس میں کچھ کچے پکے مکانات شامل تھے تاہم انھوں نے مندر کے انہدام سے یکسر انکار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی مقامات کا انہدام ان کے قواعد میں شامل نہیں۔

03

ڈی ایس پی عید گاہ پرویز اقبال نے کہا کہ پولیس کنٹونمنٹ بورڈ کی انہدامی کارروائی کے دوران صرف امن و امان برقرار رکھنے کیلیے موجود تھی تاہم پولیس نے انہدامی کارروائی میں براہ راست حصہ نہیں لیا، پریس کلب پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ہندو کونسل کے رمیشن کمہار نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر منہدم کیے جانے والے مندر کی تعمیر نو سرکاری خرچ پر کی جائے اور مقدس مورتیوں کی بے حرمتی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ہندو برادری کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے، انھوں نے کہا کہ منہدم کیا جانے والا مندر پاکستان کے قیام سے قبل تعمیر کیا گیا تھا لیکن حکام نے بلڈر کے دبائو پر بغیر کسی نوٹس کے مندر کو منہدم کرکے پوری دنیا کے ہندوئوں کی دل آزاری کی ہے، واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ بلڈر اور سرکاری حکام کو 7 دسمبر تک مذکورہ مندر اور ملحقہ گھروں کی انہدامی کارروائی سے روک دیا ہے۔