کراچی میں عالم دین سمیت11افراد قتل ہنگامہ آرائی5گاڑیاں نذر آتش

گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر احتجاج،درجنوں گاڑیوں کونقصان،پولیس اورمظاہرین میں جھڑپیں،عینی شاہدین


Staff Reporter December 04, 2012
گلشن اقبال میں ہنگامے کے دوران ایک گاڑی کو آگ لگی ہوئی ہے ،چھوٹی تصویرمقتول مولانا اسماعیل کی ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

شہرمیں جاری دہشت گردی کے دوران پیر کو مدرسہ احسن العلوم کے منتظم اوراستاذ حدیث مولانا محمد اسمٰعیل، بلدیہ افسر، متحدہ کے 2 کارکن،سب انسپکٹر سمیت11افرادقتل اور 10 زخمی ہوگئے۔

فائرنگ کے واقعات گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ، اورنگی ٹائون، سچل، سپرہائی وے ، کورنگی بلال کالونی اور سائٹ میں پیش آئے۔ابوالحسن اصفہانی روڈ پرمولانا اسمٰعیل کوگھات لگا کرقتل کیاگیا۔ دہشت گردجائے وقوع سے چندگزکے فاصلے پرقائم رینجرزچوکی میں اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود موقع سے فرارہوگئے۔

واقعے کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی جس کے بعد سیکڑوں افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پرنکل آئے ۔نامعلوم مشتعل افراد نے 2 سرکاری گاڑیوں سمیت 5گاڑیوں کو نذرآتش جبکہ پتھراؤ کر کے درجنوں گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے۔گلشن اقبال موتی محل کے قریب ایک سی این جی پمپ پر بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔پولیس کے لاٹھی چارج ،آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کے استعمال پرمظاہرین میں مزید اشتعال پھیل گیا اور پولیس اورمظاہرین میں کئی گھنٹے آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔

4

3 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کے باعث متاثرہ علاقے میدان جنگ کا منظر پیش کرتے رہے ۔ پولیس اور رینجرزصورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔مختلف علاقوں دکانیں ، مارکیٹیں ، پٹرول پمپ ، سی این اجی اسٹیشن اور ہوٹل سمیت تمام کاروبار بند ہوگیا۔نامعلوم نقاب پوش اورڈنڈا برادرافراد نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ٹائر سمیت دیگر اشیاکو نذرآتش کیا، نامعلوم افراد نے گلشن چورنگی فلائی اوور کی نیچے بنے ریسکیو ادارے کی ایک ایمبولنس EA-4515 کو ، موتی محل کے قریب ایک کیری کوآگ لگا دی، موتی محل کا بس اسٹینڈ بھی توڑ دیا جبکہ کارسن کمپلیکس میں قائم شراب خانے میں توڑ پھوڑ کی اور شراب کی بوتلیں راشد مہناس روڈ پر توڑ دیں۔

سینٹرم شاپنگ سینٹر ، فضل مل اور یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کے قریب 2 سر کاری گاڑیوں GS-7894 اور GP-4818 کے علاوہ ایک ہائی روف CP-0179 کو جلا دیا،عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ چند قدم کے فاصلے پر رینجزکی چوکی میں موجود نفری نے کوئی کارروائی نہیں کی،پولیس کے مطابق جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے نصف درجن سے زائد خالی خول ملے جنھیں تحویل میں لے لیا گیا، مولانا اسمٰعیل پر قاتلانہ حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ گلشن اقبال بلاک 2 میں واقع مدرسے میں پڑھاکرواپس اپنی رہائش گاہ ابوالحسن اصفہانی روڈ چیپل گارڈن جارہے تھے،ایس ایچ او سچل اظہراقبال کے مطابق مولانا اسمٰعیل کے سینے اور گردن پر 4 گولیاں لگیں، پولیس نے جائے وقوع سے تمام شواہد جمع کر کے محفوظ کر لیے ہے جبکہ پولیس نے مولانا اسمٰعیل کے چچا عبدل باری کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف دفعہ 302/34 کے تحت مقدمہ نمبر 735/12 درج کرلیا ہے ۔

مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی جانب سے چند ہفتے قبل گلشن اقبال بلاک 2 میں مدرسہ احسن العلوم کے 6 طلبعلموںکو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا اور آج تک ان کے قاتل شہر بھر میں دنداناتے پھر رہے ہیں اور انھیں کوئی پکڑنے والا کوئی نہیں ہے، گلشن اقبال اور ملحقہ علاقوں میں ہنگامہ آرائی کے باعث فیڈرل بی ایریا واٹر پمپ چورنگی ، شفیق موڑ ، ناگن چورنگی ، حسن اسکوائر اور غریب آباد سمیت قریبی علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا او رگاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس میں شہری کئی گھنٹوں پھنسے رہے ۔شہر میں فائرنگ اور پرتشدد کے دیگر واقعات میں اورنگی ٹائون کے علاقے صابری چوک کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل مسلح افراد نے ہائی روف گاڑی پراندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں2 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جن کی شناخت 36 سالہ محمد عالم صدیقی اور 26 سالہ محمد جسیم کے نام سے ہو ئی ، دونوں ماموں بھانجے تھے ۔

5

پولیس کے مطابق محمد عالم بلدیہ عظمی کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر قبرستان تھے جبکہ محمد جسیم کے ایم سی کے ملازم تھے،مقتولین اورنگی ٹائون سیکٹرساڑے11سلیم آباد کے رہائشی ہیں،کورنگی بلال کالونی سیکٹر 8-B میں گلی نمبر 3 میں گھر کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار فراد نے فائرنگ کر کے سب انسپکٹر 50 سالہ ہدایت اللہ کوہلاک کردیا پولیس کے مطابق ہدایت اللہ کورنگیR پولیس چوکی کے انچار ج تھے،ذرائع کے مطا بق مقتول سب انسپکٹر علاقے میں ٹارگٹ کلزکے خلاف سرگرم تھا اور10روز قبل ایک ٹار گٹ کلر کو بھی گرفتارکیا تھا، سچل کے علاقے سپرہائی وے نزد نیو پل کے قریب سے2 افراد کی بوری بند لاشیں ملی ہیں جنھیں بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولیاں مارکرقتل کیاگیا، دونوں کی عمریں25 سے30 سال بتائی جا رہی ہے، پولیس کے مطابق دونوں لاشوں کی شناخت طیب اور محمد ابوالحسن کے نام سے ہوئی ہیں مقتولین گلشن اقبال بلاک 3میں واقع راجپوت کالونی کے رہائشی ہیں اور مقتولیں کا تعلق متحدہ آرگنائزنگ کیمٹی سے ہے دونوں اتوار کی رات سے لاپتہ تھے،سائٹ اے تھانے کی حدود میں لکی ٹیکسٹائل مل کے قریب صنعتی ایریا میں فائرنگ کر کے30 سالہ حضرت عثمان کو قتل کردیا گیا ایس ایچ او اے رائو رفیق نے بتایا کہ مقتول سوات کا رہائشی ہے اوراتوار کوکراچی آیا تھا۔

مقتول لکی ٹیکسٹائل گیا تھا اورماموں سے ملاقات کے بعد جیسے ہی باہر نکلا تو موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے نشانہ بنا لیا، ایس ایچ اونے واقعے کو خاندانی دشمنی کا نتیجہ قرار دیا ہے، سہراب گوٹھ الاآصف اسکوائر کے قریب سروس روڈ پر فائرنگ سے45 سالہ ایوب ہلاک ہو گیا، پولیس کے مطابق مقتول افغانی باشندہ ہے اور واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے، شاہ لطیف ٹائون تھانے کی حدود میں گرین سٹی پارک کے قریب جھگڑے کے دوران 18سالہ جوان نعمان زخمی ہو گیا بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر جناح اسپتال میں دم توڑ گیا، پولیس کے مطابق نعمان کی ہلاکت سر پر بھاری چیز لگنے سے ہوئی ہے ،گارڈن کے علاقے چڑیا گھر کے قریب آئل کی دکان پر فائرنگ سے دکان کا ملازم22 سالہ کاشف زخمی ہوگیا، پولیس کے مطابق کاشف سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے زخمی ہوا اور واقعہ اتفاقیہ طور پر پیش آیا ہے، موچکو تھانے کے علاقے میں فائرنگ سے42 سالہ سرفراز زخمی ہو گیا ہے، نیو کراچی یوپی موٹر کے قریب صرافہ مارکیٹ میں تعینات سیکیورٹی گارڈ مراد علی اپنی ہی پستول سے گولی چلنے سے زخمی ہو گیا۔دریں اثنا مولانا محمد اسماعیل کی نماز جنازہ مدرسہ احسن العلوم کے مہتمم مفتی ذرولی خان کی امامت میں مدرسہ احسن العلوم میں ادا کی گئی ۔نمازجنازہ میں مولانا تاج محمد حنفی،قاری عثمان ،مولانا عثمان یار خان اوردیگر علما اور لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مفتی ذرولی خان نے کہا کہ حکومت علماء کرام اور مدارس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مولانا محمد اسماعیل کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انھیں سخت سزا دی جائے۔ مولانا تاج محمد حنفی اور ڈاکٹر محمد فیاض نے کہاکہ کراچی میں اہلسنت کی پے در پے شہادتیں کسی خاص ایجنڈے اور کراچی کے حالات خراب کرنے کی سازش ہے ۔

انھوں نے اہلسنت کارکنان سے پر امن رہنے کی اپیل کی ۔نماز جنازہ کے بعد میت کوبلوچستان کے علاقے پشین روانہ کردیا گیا جہاں گلستان میں ان کی تدفین آج ہوگی۔علاوہ ازیں پیر آباد کے علاقے مدینہ بستی چائے کے ہوٹل پر بیٹھے ہوئے 42 سالہ مراد ولد حکیم خان کو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے سر پرگولی مارکر شدید زخمی کر دیا جسے انتہائی تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لکر چل بسا، پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول نے تین ماہ قبل سی آئی ڈی گارڈن انسداد انتہا پسندی سیل سے اپنا تبادلہ دوبارہ اسپیشل برانچ میں کرالیا تھا وہ فرنٹیئر موڑ کا رہائشی اور آبائی تعلق پشاور سے تھا، کلری کے علاقے ماڑی پور روڈ فٹ بال کلب ہنگورہ آباد سے بوری میں بند 26 سالہ نامعلوم شخص کی لاش ملی ،۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر گلے میں رسی کا پھندا لگا کر ہلاک کیا تھا جبکہ مقتول کے قبضے سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی جس سے اس کی شناخت میں مدد مل سکے پولیس نے لاش ایدھی سرد خانے میں رکھوا دی ، گلستان جوہر کے علاقے بلاک 17 ہل ٹاپ شادی لان کے سامنے پل پر 25 سالہ عبدالقادر نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہوگیا جبکہ نیو کراچی ڈی کا موڑ پردکاندارجاوید جبکہ ایم اے جناح روڈ کیپری سینما کے قریب فائرنگ سے فاروق نامی شخص زخمی ہوگیا۔رات گئے سائٹ کے علاقے پٹھان کالونی نمبر 4 میں واقع کوچ اڈے کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی جانب سے کریکر حملے میں 5 افراد سردار ، میر باچا ، شمشیر اور محمد عالم زخمی ہوگئے پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ بھتے کا معاملہ معلوم ہوتا ہے تاہم پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔