حکومت VS عوام
معلوم نہیں کسی بقراط نے خطرے کی گھنٹی سنی ہے یا نہیں جو اس محرم پر اتنے زور سے بجی کہ بہروں تک نے سن لی۔
December 04, 2012
KARACHI:
معلوم نہیں کسی بقراط نے خطرے کی گھنٹی سنی ہے یا نہیں جو اس محرم پر اتنے زور سے بجی کہ بہروں تک نے سن لی، خطرے کی یہ گھنٹی دہشت گردی کی ہے نہ دھماکوں کی ہے اور نہ امن و امان کی، بلکہ اس خطرے کی ہے جو 63 سال سے آہستہ آہستہ پنپ رہا تھا، حکمران جسے سمجھتے رہے، پالیسیاں جسے بڑھاتی رہیں اور سیاست جسے اور اونچا اور اونچا کرتی رہی، خطرے کی یہ گھنٹی عوام VS حکومت کی ہے۔ ویسے تو یہ عمل ایک مدت سے چلتا رہا ہے۔
حکومت کے سارے ادارے بات بات پر عوام کو یہ باور کراتے رہے کہ تم سوتیلے ہو اور سوتیلے ہی رہو، دراڑیں پڑتی رہیں ،کشادہ ہوتی رہیں، آخر کار اس محرم میں ہم نے دیکھ لیا کہ حکومت اور عوام باقاعدہ دو فریق ہیں اور ان کے درمیان صرف بے اعتمادی اور زور آزمائی کا رشتہ ہے، باقی کچھ نہیں ہے۔ یہ کوئی دنیا میں پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ کچھ تخریب کار لوگ عوام کے اندر چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر ملک اور ہر دور میں ایسا ہوتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حکومت نے چند ''تخریب کاروں'' کو ڈھونڈنے میں ناکام ہو کر سارے عوام کومشکل میں ڈال دیا ہو۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ایک ''جوں'' کے لیے پورا کمبل یا بستر جلانا۔ کمبل یا بستر میں اگر ''جوئیں'' پڑ گئی ہیں تو اصولی طور پر ان جوؤں کو مارا جانا چاہے ، اگر کٹھمل ہیں تو انھیں ختم کیا جائے، ایسا کوئی بھی نہیں کرتا کہ ایک جوں یا کٹھمل کے لیے بستر اور کھاٹ کو آگ لگائے اگر ایسا کرے گا تو پھر سوئے گا۔
کہاں ۔۔۔ اور پاکستان کی حکومت یہی کر رہی ہے۔ قدم قدم پر چیکنگ کرنے والے ''چیکنگ'' کرتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کام کے لیے چن چن کر ایسے ذہین اور لائق لوگوں کو باقاعدہ تربیت دے کر مقرر کیا جاتا تا کہ وہ دیکھتے ہی کسی فرد یا گاڑی کا آنکھوں ہی آنکھوں میں ایکسرے کرتے خصوصاً آدمی کا چہرہ اگر کوئی ذہین فیس ریڈنگ والا ہو تو سب کچھ دور سے بتا دیتا ہے، لیکن یہاں چن چن کر اجڈ بد دماغ اور بے دماغ لوگوں کو سڑکوں پر اتارا جاتا ہے جو ہر کسی کو بلا تخصیص مجرم اور دہشت گرد سمجھ لیتے ہیں اور ویسا ہی سلوک کرنے لگتے ہیں۔ اگر اس کی قسمت اچھی ہوئی تو خود کو شریف آدمی ثابت کر کے اپنی عزت بچا لے جائے گا ورنہ کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے بلکہ اکثر اوقات تو اپنی ڈیوٹی سے بھی بڑھ کر فرائض انجام دیتے ہیں، واقعات تو بہت سارے ہیں کہ چند واقعات نمونہ کے طور پر پیش خدمت ہیں۔
سڑکوں پر ''قانون نافذ'' کرنے کا یہ سلسلہ تازہ تازہ شروع ہوا تھا۔ ہم پشاور کے مال روڈ پر جا رہے تھے کہ ایک جگہ روک لیا گیا، ماجرا پوچھا تو کہا گیا کہ اس سڑک پر جانا منع ہے۔ ہم نے مان لیا اور ڈرائیور سے گاڑی دوسری سڑک پر موڑنے کے لیے کہا، اچانک قانون نافذ کرنے والے کو شاید کچھ شک ہوا کہ قانون کو اچھی طرح اس شخص پر نافذ نہیں کیا گیا چنانچہ کھڑکی کھول کر بولا ،کاغذات دکھاؤ۔ پوچھا ،کیسے کاغذات ۔۔۔ بولا ،گاڑی کے بھی اور اپنے بھی۔ ہم نے نرمی سے سمجھایا کہ برخودار تم اس لیے کھڑے ہو کہ اس سڑک پر کسی کو نہ جانے دو، ہم نے تمہارے حکم کی تکمیل کی، اس میں کاغذات دکھانے کی کیا بات ہے۔ وہ اڑ گیا تو ہم نے بھی ضد پکڑ لی۔ لوگ جمع ہونے لگے۔
آخر کار ہم نے دو ٹوک کہہ دیا کہ چاہے کچھ ہو جائے کاغذات نہیں دکھائیں گے۔ جمع ہونے والے لوگوں نے بھی اسے ملامت کیا تو جانے کی اجازت ملی۔ لیکن جہاں جارہے تھے وہاں آدھا گھنٹہ لیٹ پہنچے۔ دوسرا واقعہ ایئر پورٹ جانے کے وقت ہوا، ایک تو سیدھی سڑک کو بند کر کے ایئر پورٹ جانے والوں کے لیے گھماؤ پھراؤ والا ایک نیا راستہ مقرر کیا گیا ہے، راستے میں کئی ہفت خوان سر کر کے آئے تھے، اب یہ آخری ہفت خوان باقی تھا اور ہماری فلائٹ کو روانہ ہونے میں صرف بیس منٹ بچے تھے حالانکہ گھر سے ہم تین گھنٹے قبل روانہ ہوئے تھے۔ یہ سارا وقت چیکنگ کرانے میں صرف ہو گیا۔ امید تھی کہ یہاں سے باآسانی پار ہو جائیں گے۔
تلاشی لے لی گئی۔ کاغذات چیک کیے گئے۔ اچانک ایک قانون نافذ کرنے والے کی نگاہ ہماری گاڑی کے شیشے پر پڑی جہاں چھوٹا سا اسٹیکر لگا تھا ۔۔۔ بولا یہ کیا ہے، ہم نے کہا بھئی کاغذات تو آپ نے دیکھ لیے ۔۔۔ بولا ۔۔۔ ذاتی گاڑی پر کسی ادارے کا اسٹیکر لگانا جرم ہے۔ اسٹیکر لگاتے ہوئے ہم نے سوچا تک نہیں تھا کہ اتنا بڑا جرم ہم سے سرزد ہو رہا ہے۔ بہت منتیں زاریاں کیں کہ دیکھو ہم صحافی ہیں، محکمہ اطلاعات کا کارڈ بھی ہے۔ اس کا بھی اثر نہیں ہوا تو اپنی سفید ریشی کے لیے رعایت چاہی کہ اس عمر میں ہم کیا تخریب کاری کریں گے لیکن اس نے ایک نہیں سنی، فیصلہ صادر کیا کہ اسی جگہ اس اسٹیکر کو مٹا دیا جائے، فلائٹ کو دس منٹ رہ گئے تھے، آخر ڈرائیور اور کچھ لوگوں کی مدد سے اسٹیکر اتارنے میں کام یاب ہوئے لیکن ہمارا جہاز اڑ چکا تھا، اس لیے وہیں سے گھما کر واپس آئے
جاں بچی سو لاکھوں پائے
خیر سے بدھو گھر کو آئے
اگر کسی کا یہ خیال ہو اور سرکاری بزرجمہروں کا یقیناً یہی خیال ہو گا کہ ہم یہ جو کر رہے ہیں اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں، عوام جن کا دہشت گردوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، انھیں سزا دینا کہاں کا انصاف ہے۔ صوبہ کے پی کے، کے سابق گورنر اویس احمد غنی نے ایک مرتبہ پریس والوں کو بلایا اور کہا کہ ہم اخبار نویس ،کالم نگار اور صحافی قانون نافذ کرنے والوں کی قربانیوں اور خدمات کی ذرا دل کھول کر تعریف کریں اور عوام کو باور کرائیں کہ یہ لوگ اپنے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں، تائید میں بڑی بڑی تقریریں ہوئیں، زبردست نکتے نکالے گئے لیکن ہم چپ رہے۔
ہم ہنس دیے کیوں کہ منظور تھا پردہ اپنا ۔۔۔ ارادہ تھا کہ کچھ بولے بغیر کھا پی کر چلے جائیں گے لیکن کسی نے چھوڑا نہیں اور بولنے پر مجبور کر دیا، ہم نے مختصر طور پر کہا ، جناب عالیٰ یہ بالکل درست ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ہم کو دہشت گردوں سے محفوظ کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن ان سے ہمیں کون بچائے گا، پھر تفصیل سے وہ برسر زمین حالات بتا دیے کہ قانون نافذ کرنے والوں کی لاتیں کس طرح عوام کے سینے پر پڑ رہی ہیں اور جب کوئی خود ہی کسی کو اپنے سے دور کر رہا ہو تو دوسرا کیسے اس کے قریب جا کر ان کو اپنا کہے گا ۔۔۔ اور وہی بات آج پہلے ہی سے بھی زیادہ ظاہر ہے چند جوؤں کے لیے سارے عوام کوجگہ جگہ روک کر تنگ کیا جارہاہے۔