کیا واقعی بندر ہمارے بھائی ہیں

ہمیں تو بندروں کی اس ادا نے سیاستدانوں کی یاد دلا دی ہے، جو آج کل پش اپس، پش اپس کھیل رہے ہیں یا پھر ریفرنس، ریفرنس۔


شہزاد اقبال August 22, 2016
مجھے اور آپ کو بندر سے اس لئے لگاؤ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اور بقول کچھ سائنس دانوں کے، ’’بندر ہمارے بھائی ہیں‘‘۔ فوٹو:فائل

لاہور: بندر اور سوداگر کی کہانی تو آپ نے ضرور سنی ہوگی جس میں ٹوپیوں کا بیوپار ایک روز شہر جا رہا تھا۔ راستے میں ایک نہر تھی۔ سوداگر نے ٹوپیاں ایک طرف رکھیں اور نہر سے پانی پینے لگا، اسی دوران لب نہر درخت پر بیٹھے بندروں کو شرارت سوجھی اور وہ ایک ایک کرکے دبے پاؤں درخت سے نیچے اترے اور سوداگر کی گھٹڑی سے ٹوپیاں نکالنے لگے اور پھر اسے اپنے سر پر رکھ کر پھدک پھدک کر درخت پر چڑھ گئے۔

سوداگر جب پانی پی کر پلٹا تو اس نے گھٹڑی کو خالی پایا۔ وہ بیچارہ بڑا پریشان ہوا، اِدھر اُدھر دیکھا لیکن دور دور تک آدمی نہ آدم ذاد۔ اسی دوران اس کی نظر درخت پر پڑی تو ڈارون کے نظریہ ارتقا کے مطابق وہاں اس کے بندر النسل بہن بھائیوں کی فوج در فوج موجود تھی، جو سر پر ٹوپی رکھے اس کا منہ چڑا رہے تھے۔ سوداگر اپنے ان ہمزادوں کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا۔ اب سوداگر نے ان بندروں سے اپنی ٹوپیاں لینی تھیں لیکن بندر تو بندر تھے، وہ کہاں منطق اور دلیل سے قائل اور گھائل ہونے والے تھے۔ بالآخر سوداگر کو ایک ترکیب سوجھی اور اس نے اپنے سر پر رکھی ٹوپی اتار کر ہوا میں اچھال دی۔ جب اس نے بار بار ایسا کیا تو بندر بھی اپنی نقالی کی عادت سے مجبور ہوکر ٹوپی ہوا میں اچھالنے لگے۔ بس پھر کیا تھا ٹوپیوں کی بارش ہوگئی اور یوں بندر بھائی ٹوپیوں سے محروم ہوگئے۔ سوداگر نے فوراً زمین پر گری ٹوپیوں کو اکھٹا کیا، گھٹڑی میں ڈالا اور شہر کی طرف چلتا بنا۔

بندر اور سوداگر کی یہ کہانی مجھے ٹوپیاں اچھالنے کی وجہ سے یاد آئی ہے۔ تو جناب انہیں اور بندروں کو اپنے اپنے بھائی، بلکہ بھائی جان مبارک۔ ہمیں تو بندروں کی اس ادا نے سیاستدانوں کی یاد دلا دی ہے، جو آج کل پش اپس، پش اپس کھیل رہے ہیں یا پھر ریفرنس، ریفرنس۔ اور خوب ایک دوسرے کی عزتیں اچھال رہے ہیں کہ پگڑیاں تو یہ پہنتے نہیں ہیں، کیونکہ بابے لوگوں کا کہنا ہے کہ پگڑیاں اور ٹوپیاں بابرکت لوگ ہی پہنتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی پش اپس اور ریفرنس کی، سندھ کے نوجوان وزیر کھیل مہر بخش مہر نے کمال مہربانی کی اور 50 ادھورے پش اپس لگا کر پنجاب والوں کو چیلینج کردیا کہ ہمت ہے تو اس جیسا کرکے دکھاؤ۔ یہ چیلینج بجلی کے وزیر پر بجلی بن کر گرا اور وزیر مملکت عابد شیرعلی نے 6 پش اپس لگا کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔ پھر جم میں ورزش کے دوران بنائی گئی اپنی ایک ویڈیو بھی جاری کی۔ بات بڑھی تو پنجاب کے پارلیمانی سیکریٹری محترم نوید نے 60 پش اپس لگا کر سندھ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یوں دہشت گردی کی شکار قوم کا ایک قیمتی دن دو صوبوں کے سیاستدانوں کی پش اپس پالیٹکس کی نذر ہوگیا۔ حالانکہ ملک کی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے صوبوں میں دودھ اور شہد کی جو نہریں بہہ رہی ہیں، وہ تو شاید صومالیہ اور ایتھوپیا والے بھی پینا پسند نہ کریں۔

رہی بات ریفرنس کی تو یہ بھی موسمی کھمبیوں کی مانند سامنے آرہے ہیں۔ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے پاس وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے ریفرنس دائر کردئیے ہیں۔ جس میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پاناما لیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی میں سب کے سامنے جھوٹ بولا اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے (بقول شخصے سیاستدانوں کو پتہ نہیں یہ کیوں گمان ہے کہ ان کے واسکٹی بھائی پہلے صادق اور امین تھے اور اب نہیں ہیں) ریفرنس میں جوابی وار ن لیگ نے کیا۔ بالکل درخت پر بیٹھے بندروں کی طرح انہوں نےعمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس دائر کردیا۔ پیپلز پارٹی والے تو ان کے پرانے بھائی ہیں جن کے ساتھ صرف الیکشن میں سیاسی کشتی ہوتی ہے، جبکہ بقیہ دنوں میں تو ان کی نورا کشتی کا اکھاڑا سجتا ہے۔

ریاست پاکستان میں ریفرنس کی سیاست یہیں ختم نہیں ہوتی۔ الیکشن کمیشن میں بھی پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے رنفرنس دائر کر رکھے ہیں۔ جس میں پاناما پیپرز کے انکشافات پر وزیراعظم کو نااہل کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان نے ان ریفرنسز پر وزیراعظم نواز شریف، ان کے بھائی وزیر اعلیٰ شہباز شریف، ان کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، ان کے بھتیجے حمزہ شہباز شریف اور ان کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو 6 ستمبر کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی جو شریف برادران کے لاڈلے ہیں ان ریفرنس پر کیا کارروائی کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے 30 دن کے اندر اندر اس پر کوئی کارروائی نہیں کی تو اس کے بعد آئین کی رو سے یہ ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کی میز پر پہنچ جائیں گے اور پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ وزیراعظم سچے تھے یا ریفرنس والے؟

دوسری طرف ٹی او آر کے معاملے پر اپوزیشن نے کمر اور لنگوٹ دونوں ہی کس لئے ہیں، اور انہوں نے حکومت کی جانب سے لچک نہ دکھانے پر خود بھی بے لچک ہونے کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے کہ کڑا احتساب ہوگا تو اس کی ابتداء وزیراعظم سے ہی ہوگی جبکہ حکومت نوجماعتی متحدہ اپوزیشن کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔جیالوں کا تو پتہ نہیں کہ وہ اٹل اٹل کہہ کر ماضی کی طرح پھر پلٹا نہ کھا جائیں۔ تاہم کھلاڑی اور ان کے کپتان صرف احتساب کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔

ریفنرس کی بہار کے ساتھ ان دنوں تحریکوں کا بھی موسم خوب گرم ہے۔ اس معاملے میں صرف پیپلزپارٹی ٹھنڈی واقع ہوئی ہے کہ اسے بہرحال پرانی دوستی کی لاج رکھنی ہے۔ تحریک احتساب، تحریک قصاص، تحریک نجات کا آغاز ہوچکا ہے۔ لیکن تحریک احتساب کےسوا کسی میں دم خم نہیں اور پی ٹی آئی والے بھی لگتا ہے کہ باسی کڑھی میں زبردستی کا ابال لانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس کڑی میں اب پکوڑے بھی نہیں رہے اس کے باوجود حکمران لیگ کے پاس بچاؤ کے تین آسان راستے ہیں۔ اپنے وزیراعظم کا احتساب ہونے دیں یا وزیراعظم تبدیل کردیں یا پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کردیں۔ لیکن ن لیگ کی قیادت موجودہ صورتحال کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک چلائے گی کہ یہی ان کی روایت ہے اور یہی بچاؤ کا درمیانی راستہ ہے۔

وفاق کے بعد اگر سندھ پر نظر دوڑائیں تو وہاں کابینہ تبدیل ہوئی ہے، لیکن خاندان وہی پرانے ہیں جوعوام کے نام پر کسی نہ کسی طرح اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بھی بس قائم سے مراد تک تبدیل ہوئے ہیں۔ پہلے سید قائم علی شاہ تھے اور اب سید مراد علی شاہ۔ شاہوں کی حکومت تو سندھ میں ویسے بھی پرانی ہے لیکن کوئی نوجوان شاہ پہلی بار سامنا آیا ہے، لیکن تبدیلی کا یہ عمل بس اتنا ہی ہے جتنا دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوجیوں کے ساتھ ہوا تھا۔ انہیں جب مہینوں کے بعد موزے اور بوٹ بدلنے کا حکم ملا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ بغلیں بجائیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی کہ ان کے بدبو دار موزے اور بوسیدہ بوٹ جو سڑاند پیدا کررہے ہیں سے اب نجات مل جائے گی۔ لیکن اس وقت ان کے یہ ساری خوشی کافور ہوگئی جب انہیں کمانڈر کا حکم نامہ ملا جس میں لکھا تھا کہ تمام سپاہی اپنے اپنے موزے اور بوٹ ساتھی فوجیوں کے ساتھ فوری بدل دیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنکس۔